Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد۔۔امت مسلمہ کے مسائل


بنگلہ دیش:

مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس بنگلہ دیش میں جمہوریت کے نام پر ہونے والے انتخابی ڈرامے، اس موقع پر ۲۲ افراد قتل اور سینکڑوں زخمی ہوجانے پر دلی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس ظالمانہ حکومتی عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بنگلہ دیش اپنے قیام کے روز اول سے بھارتی کالونی کی حیثیت اختیار کرگیا تھا۔ حسینہ واجد کے حالیہ ۱۰ سالہ دور حکومت میں بھارت نے وہاں اپنے لیے وہ نفوذ و حقوق  حاصل کرلیے ہیں، جو واضح طور پر بنگلہ دیشی عوام کے مفادات سے متصادم ہیں۔ بنگلہ دیش کے حالات سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ حالیہ انتخابی دھوکے میں بھی ہمہ پہلو بھارتی مداخلت نے ہی انتخابی نتائج طے کیے ہیں۔

                اجلاس عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو جمہوریت کے نام پر مسلط سفاک ڈکٹیٹر شپ سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے۔ بنگلہ دیشی عوام کے اس مطالبے کی بھرپور تائید و حمایت کرے کہ حالیہ نام نہاد انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، ملک میں دوبار عبوری حکومت کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔ خطے کے ایک اہم ملک میں امن و استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ بھی خاموش تماشائی کی بجائے عملی طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

کشمیر:

                یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ۲۰۱۸ میں وہاں قابض بھارتی افواج نے ظلم کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ صرف ایک سال میں ۲۰۰۰ سے زائد بے گناہ شہری شہید کردیے گئے۔ شہداء کی اس تعداد ہی سے ظلم و ستم کے باقی تمام مظاہر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یہ امر مزید افسوس ناک ہے کہ ان تمام سفاکانہ مظالم کے باوجود پاکستانی حکومت سمیت، عالمی برادری نے ان کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا۔ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعوے دار ریاست کے اصل مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔

                مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس تمام بھارتی مظالم اور عالمی بے حسی کے باوجود مکمل عزم و ہمت سے ڈٹے ہوئے کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو سلام پیش کرتا ہے۔ پرامن اور نہتے کشمیری عوام نے اپنی قربانیوں سے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ہر ظلم و ستم کے باوجود اپنے ایمان اور اسلامی شناخت کی حفاظت کرتے ہوئے بالآخر بھارتی تسلط سے نجات حاصل کرکے رہیں گے۔ اجلاس عالمی برادری بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں، ہندوستانی قیادت کے کیے گئے وعدوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق تنازعہء کشمیر کا منصفانہ حل بذریعہ حق استصواب یقینی بنائے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی خطے کی دو ایٹمی طاقتوں کے مابین تمام تر اختلافات کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

فلسطین:

                اجلاس سرزمین قبلہء اول فلسطین پر جاری مسلسل خوں ریزی کی بھی شدید مذمت کرتا ہے۔ ۲۰۱۸ میں امریکی سفارتخانہ صہیونی دارالحکومت سے بیت المقدس منتقل کردیے جانے کے بعد سے فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و ستم کی نئی لہر شروع ہوگئی ہے۔ گزشتہ بارہ سال سے محصور غزہ پر بھی فضائی اور زمینی حملے کیے جارہے ہیں۔ مغربی کنارے میں آئے روز بے گناہ فلسطینی عوام کو شہید اور ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے۔ تمام تر عالمی طفل تسلیوں کے باوجود فلسطینیوں کو ان کے ادنیٰ بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ امن مذاکرات اور امن معاہدوں کے نام پر صدی کی سب سے بڑی سودے بازی کا منصوبہ زیرعمل ہے۔ یہ اجلاس اُمت مسلمہ کے اس متفق علیہ موقف کا اعادہ کرتا ہے کہ نبی اکرم ؐ کا قبلہء اول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے پاس آپؐ کی امانت ہے۔ اُمت مسلمہ اس امانت سے دست برداری کسی صورت قبول نہیں کرسکتی۔

                یہ اجلاس حکومت کی طرف سے پاکستان میں اسرائیلی شہریوں کی آمد کا دروازہ کھولنے اور اسے قانونی قرار دینے کے  شرمناک اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے۔ وزارت داخلہ کے ویب پیج پر اسرائیلی شہریوں کی رجسٹریشن کی ہدایات جاری کرنا بانی پاکستان کے اس دوٹوک اعلان کی توہین ہے جس میں انہوں نے صہیونی ریاست کو ناجائز اولاد قرار دیتے ہوئے اسے کبھی تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ سنایاتھا۔ ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کی کوشش کو غلطی قرار دینے کی طرح اب اس سنگین جرم کو بھی غلطی قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے، جو مزید تشویش ناک ہے۔ اجلاس اس اقدام کی مکمل تحقیق اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔

شام و یمن:

                مجلس شوریٰ کا اجلاس شام اور یمن میں جاری خانہ جنگی پر بھی گہری تشویش کااظہار کرتا ہے۔ دونوں برادر ملکوں کو بدترین تباہی اور مظالم کا شکار کیا جارہاہے۔ مختلف طاقتیں خطے میں اپنے مفادات اور منصوبوں کی خاطر خانہ جنگی کی آگ پر مزید تیل چھڑک رہی ہیں۔ اقوام متحدہ یہ واویلا تو کرتی ہے کہ دونوں ملکوں میں لاکھوں شہری موت کی دلدل میں دھنس رہے ہیں، یمن میں ۸۵ ہزار بچے موت کی دہلیز پر کھڑے ہیں، لیکن اس نے بھی زخموں پر مرہم رکھنے کا کوئی اقدام کرنے کے بجائے، اپنے لیے امداد حاصل کرنے اور دوسروں کے ہاتھ کھلونا بنے رہنے پر اکتفا کیا ہے۔

                اس وقت ڈیڑھ کروڑ سے زائد شامی اور تین کروڑ سے زائد یمنی عوام جنگ کی ہولناکی اور موسم کی شدت کے باعث موت کی دہلیز پر تڑپ رہے ہیں۔یہ اجلاس تمام متعلقہ فریقوں اور تمام برادر ممالک بالخصوص پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روز بروز بڑھتی ہوئی اس خون ریزی کی آگ کو فوراً بجھانے کے لیے عملی اقدامات اُٹھائیں۔

افغانستان و عراق:

                مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس افغانستان و عراق میں امریکی افواج کی آمد کے بعد سے جاری قتل و غارت، دہشت گردی اور ان ممالک میں مستقل امریکی اڈے تعمیر کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اہم جغرافیائی حیثیت کے حامل ان ممالک میں مستقل فوجی اڈوں کی تعمیر پورے خطے کے دفاعی توازن اور معاشرتی نظام کو تباہ کرنے کا سبب بن رہی ہے۔امریکا کو چاہیے تھا کہ وہ افغانستان میں برطانوی اورروسی افواج کے انجام سے عبرت حاصل کرتا لیکن بد قسمتی سے اس نے ایسا نہ کیا۔ صدر ٹرمپ کے اعتراف کے مطابق افغانستان میں صرف اس کے ۲۳۰۰ سے زائد فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔اس وقت بھی لاکھوں شہری ملک سے باہر اور اندر مہاجرہیں جبکہ صرف سال 2018ء میں 8000سے زائد افغان شہری لقمۂ اجل بن گئے ہیں۔

                افغان، پاکستانی، عراقی اور شامی شہداء کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں تک جا پہنچی۔ مالی نقصانات اربوں نہیں کھربوں تک جا پہنچے۔ لیکن اب بھی اس بلا جواز جنگ کی اصل جڑ یعنی بیرونی مداخلت ختم کرنے کے بجائے امریکا نہ صرف پورے خطے کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے بلکہ خود بھی مسلسل تباہی کی راہ پر چل رہا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ افغانستان و عراق کو ہر طرح کی بیرونی مداخلت سے پاک کرتے ہوئے خود وہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ اور ملک کی تعمیر کرنے کا موقع دیا جائے۔

سیاسی اسیر:

                یہاں اجلاس دنیا کے ہر انصاف پسند انسان، حقوق انسانی کی تنظیموں اور پوری عالمی برادری کو متوجہ کرتا ہے کہ اس وقت کئی مسلم ممالک اور مسلم علاقوں میں دو لاکھ سے زیادہ بے گناہ سیاسی کارکنان اور عام شہری قیدوبند کاشکار ہیں۔ ساٹھ ہزار سے زائد بے گناہ مردوزن صرف مصر میں پس دیوار زنداں ہیں۔ اجلاس ان تمام بے گناہ قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ ایک طویل عرصے سے امریکی جیل میں محبوب ہے ۔ اس دختر پاکستان کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے مسلسل مطالبہ کیا جارہاہے۔ لیکن امریکی حکومت کو ئی نوٹس نہیں لیا ۔ مجلس شوریٰ حکومت پاکستان سے مطالبہ کتی ہے کہ فوری طور پر اس کیس کو امریکی قیادت کے سامنے پیش کرے اور ڈاکٹر عافیہ کو بحفاظت اپنے گھر لانے کا بندوبست کرے۔

ؒاب جبکہ افغانستان میں طالبان سمیت تمام جہادی اور عوامی عناصر سیاسی جدوجہد اور جمہوری اداروں کے ذریعے افغانستان میں امن و امان کے قیام اور ملکی ترقی کے لیے مکمل طور پر یکسو ہیں،فوری طور پر فوجوں کا انخلاء کرکے افغان عوام کا خود اپنے فیصلوں کا حق بحال کرے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس