Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرارداد۔۔حکومت کی 125دن کی کارکردگی


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس موجودہ حکومت کے 125دنوں کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتاہے۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم اپنے تمام اعلانات کی خود ہی مسلسل نفی کررہی ہے۔پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے آسیہ ملعونہ کو نہ صرف رہا کردیا بلکہ اس عمل پر احتجاج کرنے والے عاشقان رسول ؐ پر سنگین مقدمات قائم کرکے ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا۔ غیر ملکی شہریت کے حامل قادیانی عاطف میاں کو اقتصادی امور کا مشیر نامزد کرکے عوام کے دینی جذبات مجروح کیے گئے اور اسمبلی سیشن کے دوران خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے یہودیوں اور اسرائیل کے حق میں دلائل دیئے گئے ۔ نیز ہندو رکن اسمبلی کی طرف سے شراب پر پابندی کا بل انتہائی تضحیک آمیز انداز میں مسترد کرکے دینی شعائر کا مذاق اڑایاگیا۔

حکومت کے ابتدائی 125دنوں میں ہی سابق سینیٹر ،جے یو آئی (س)کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کی شہادت کاالمنا ک واقعہ رونما ہوا اور حکومت ملزموں کو تلاش کرسکی اور نہ ہی اس واقعہ کے محرکات سامنے لاسکی۔ بلند بانگ وعدوں کے برعکس میڈیا کو آزادی نہ مل سکی جس کی واضح مثال یہ ہے کہ کسی بھی دینی مسئلہ پر میڈیا بڑے بڑے پروگرامات کامکمل بلیک آئوٹ کرتاہے۔

وزیراعظم عمران خان کادعویٰ تھا کہ ایم کیوایم جہاں ہوگی وہاں ہم نہیں ہوں گے اور نہ ہی ایم کیو ایم سے بلیک میل ہوں گے لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے سہارے پر ہی پی ٹی آئی حکومت کاآشیانہ قائم ہے۔ بلیک میلنگ کے باعث ہی حکمران کراچی سے بھتہ خوری کا خاتمہ کرسکے اور نہ ہی سانحہ 12مئی ،9اپریل اور بلدیہ ٹائون کی فیکٹری کے 256مقتولین کے قاتلوں کو کٹہرے میں لایاجاسکا۔ کراچی سمیت ملک بھر میں تجاوزات کے خاتمے کے نام پر لاکھوں عوام کو روز گار اور چھت سے محروم کردیا گیا۔ ایک کروڑنوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے وعدوں کے متعلق اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہ آئی۔ وزیراعظم نے اپنے اعلان کے برعکس وفاقی کابینہ 12وزراء کی بجائے کئی درجن وزراء ،مشیروں اور معتمدین خاص پرتشکیل دی ہے۔ جوکہ قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

سابقہ حکومتوں نے پاکستان کو 26ہزار ارب روپے سے زائد کا مقرو ض بنایا تھا اور وزیر اعظم نے اسی نکتے کو بڑی چارج شیٹ بنایا لیکن اب مسلسل قرضوں کے حجم میں اضافہ ہو رہاہے۔ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت کی بجائے منفی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کاروباری طبقہ سرمایہ کاری کے حوالے سے خوف کا شکار ہے جبکہ بازار حصص مسلسل مندی کی طرف گامزن ہے۔ نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہایت پریشان کن ہے۔ ڈالر کی قیمت کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی ناقدری کا یہ حال ہے کہ 125دنوں میں ڈالر 100روپے سے 144روپے کی سطح تک پہنچ گیاہے۔ اس کے باعث پاکستان کے قرضوں میں کئی سوارب روپے کااضافہ ہوگیاہے۔ چین سے متوقع قرضہ پر شرح سود 8فیصد سالانہ ہے۔ یہ بہت مہنگا قرضہ ہے جبکہ بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی اُمیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں۔ احتساب کے نام پر مذاق جاری ہے اور عوام مسلسل مایوس ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ حکمران اپنے منشور ،وعدوں اور دعوئوں کا از سر نو جائزہ لیں اور ایسے نظر آنے والے اقدامات کریں کہ قوم کو مایوسی سے چھٹکارا اور مسائل سے نجات حاصل ہوسکے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس