Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد۔۔۔ملکی معاشی صورتحال


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری نے اپنے اجلاس منعقدہ4تا6جنوری 2019ء  میں ملکی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔  25جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اکثریت تو حاصل نہ ہوسکی لیکن وہ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔بعض چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت قائم کی ۔اسی طرح کی صورت حال کا صوبہ پنجاب کی حکومت تشکیل کرنے میں تحریک انصاف کو سامنا کرناپڑا۔اپوزیشن میں رہتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ،مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے رہے ۔انتخابی مہم کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اپنی تقاریر اور اپنے منشور میں پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا وعدہ کرتی رہی۔ عمران خان صاحب نے یہ بھی اعلان کیاکہ وہ قرضہ لینے کے لیے بھیک نہیں مانگیں گے بلکہ خود کشی کو ترجیح دیں گے۔ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان وعدوں کے برعکس ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تیس فیصد سے زیادہ کی کمی کی ۔ جس سے مہنگائی کا طوفان بھی آیا۔ قرضے کئی سو ارب تک بڑھ گئے ،امریکی ڈالر جوکہ دسمبر 2017ء میں تقریباً 105روپے کا تھا۔ وہ اب تقریباً145روپے کا ہوچکاہے۔ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے خوش کن اُمیدوں کی بجائے عوام میں مایوسی پھیلی۔ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور چین سے قرض لیے گئے ۔ جن کی مجموعی مالیت کااندازہ 6ارب ڈالر کے قریب ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب سے ادھار تیل لینے کابھی معاہدہ کیاگیا۔ یہ سب کچھ تیز ی سے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے کیاگیا۔ دوسری بڑی وجہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچنے کے لیے ایسا کیاگیا۔ کیونکہ ضرورت 12بلین ڈالر سے زیادہ کی تھی اور اب 6سے 8بلین ڈالر آئی ایم ایف سے قرض مطلوب ہے۔ جس کے لیے پس پردہ آئی ایم ایف سے مذاکرات چل رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کے حوالے سے حکومت مسلسل تذبذب کاشکار ہے۔ جس کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں حصص مسلسل مندی کا شکار ہیں۔ روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر کم کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے سطحی طور پر پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر قائم رکھی ہوئی تھی۔ جوکہ مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول کے مطابق نہیں تھی اور مزید برآں اس سے برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہاتھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف پاکستانی معیشت دنیا کی پچیسویں بڑی معیشت ہے۔ اور جی ڈی پی کے حوالے سے یہ دنیا کی بیالیسویں بڑی معیشت ہے۔ 20.7کروڑ آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑاملک ہے۔ اندازوں کے مطابق اکیسویں صدی میں پاکستان معاشی لحاظ سے دنیا کے بڑے گیارہ ملکوں میں سے ہوگا۔ لیکن کرپشن اور بری حکمرانی کی وجہ سے کم ازکم 36فیصد معیشت غیر دستاویزی ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ برآمدات ،درآمدات کا تقریباً نصف ہیں۔ ریونیو تقریباً 4.4کھرب روپے ہے اور اخراجات تقریباً 6کھرب روپے ہیں۔ بجٹ خسارہ تقریباً 2کھرب روپے سالانہ ہے جوکہ جی ڈی پی کا تقریباً 6فیصد ہے۔ درآمدات تقریباً 48بلین ڈالرز ہیں۔ جبکہ برآمدات تقریباً 23بلین ڈالر زہیں۔اندرونی قرضے 3600بلین روپے اور بیرونی قرضے 96بلین ڈالرز سے زیادہ ہیں۔ خدشہ ہے کہ بیرونی قرضے جون 2019ء تک 103بلین ڈالر ز ہوجائیں گے۔ اس وقت پاکستان کا ہر شہری 125000/= روپے سے زیادہ کا مقروض ہے۔

گیس اور بجلی کی مہنگائی بمعہ لوڈشیڈنگ ،منافع بخش کاروبار کرنے کے راستے میں دقتیں ،کاروباری اور صنعت کار طبقے کی عدم اطمینانی اور پانی کی کمی اور زرعی مداخل (کھادیں ، بیج ،زرعی ادویات وغیرہ)کی مہنگائی کی وجہ سے زراعت کے اندر بھی متوقع بڑھوتری نہیں ہو پارہی ۔ زرعی اور صنعتی شعبے کی سست روی کابراہ راست اثر سروسزسیکٹر پر پڑتاہے۔ اسی لیے معاشی شرح نموجوکہ پہلے 5.8فیصد متوقع تھی وہ اب 5فیصد سے بھی کم رہنے کا تخمینہ ہے۔ گو یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا ۔ کئی دہائیوں سے اندرون ملک اور بیرون ملک زیادہ تر سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ (پراپرٹی ) میں ہوتی رہی۔ جس کے حوالے سے آج کل ہر روز نئے سے نئے انکشافات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ سرمایہ کاری ایسے منصوبوں میں ہوتی رہی جہاں منافع گارنٹی شدہ تھا اور غیر منصفانہ ٹیکسوں کی چھوٹ حاصل تھی۔ مثال کے طور پر 2017-18ء کے اکنامک سروے کے مطابق بااثر کاروباری لوگوں کو ایک سال میں 541بلین روپے (4.4بلین ڈالرز) کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ۔

سابقہ حکومت کے دوران بجلی کی کمی دور کرنے کے بہانے 35بلین ڈالر زکی لاگت سے 21پاور پروجیکٹس شروع کیے گئے اور اس میں 75فیصد ڈیٹ اور 25فیصد ایکویٹی تھی۔ جس پر آمدنی 34فیصد سے زیادہ ہونی تھی۔ سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں میں بڑے صنعتی گروپوںکو ٹیکسوں کی چھوٹ دے کر آسانی سے پیسہ بنانے کا موقع فراہم کیاگیا۔ 1970ء کی دہائی کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی ڈیم نہ بنایا گیااور اب چیف جسٹس سپریم کور ٹ آف پاکستان کی طرف سے مہمند ڈیم بنانے کے لیے کوشش شروع ہوئی ہے۔

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت کو مسلم لیگ (ن) سے ورثے میں تسلی بخش معاشی حالات نہیں ملے لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے دعوئوں اور منشور کے مطابق اب تک عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یوں لگتاہے کہ بلند بانگ دعوئوں کے علی الرغم حکومت میں آنے سے پہلے کوئی تیار ی نہیں تھی ۔

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ درج ذیل اقدامات فوری طورپر اٹھائے جائیں تاکہ عوام  کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے:۔

۱۔             حکومت کے پاس ان لوگوں کا ریکارڈ آچکاہے جن لوگوں نے ناجائز دولت کما کر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ۔ حکومت پوری سختی کے ساتھ ان لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لا کر لوٹی ہوئی دولت واپس لائے۔حال ہی میں منظرعام پر آنے والے واقعات کے تحت 34ارب روپے سے زیادہ کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے ۔ فالودے والا ، ویلڈراور نابینا ٹکیاں بیچنے والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپے کے جعلی اکائونٹس منظر عام پر آچکے ہیں۔

۲۔            برآمدات کی بڑھوتری کے لیے مشنری جذبے کے تحت تمام رکاوٹوں کو دور کرکے فوری اقدامات کیے جائیں ۔ حال ہی میں اسلام آباد میں بیرون ملک تعینات سفیروں کی کانفرنس ہوئی ہے ۔بیرون ملک تعین سفیروں اور کمرشل کونسلروں کی پرفارمنس اور ترقی وغیرہ ان کی طرف سے برآمدات میں اضافے کے ساتھ منسلک کردی جائے۔

۳۔            زراعت کی پیداوار میں اضافہ کے لیے زرعی مداخل کو سستا کیا جائے اور کسانوں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ دلوایا جائے۔

۴۔            مہمند ڈیم اور بھاشا ڈیم پوری یکسوئی کے ساتھ تیزی سے مکمل کیے جائیں ۔

۵۔            آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرضہ نہ لیاجائے۔ بالخصوص ایٹمی قوت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہ کیاجائے۔

۶۔            سپریم کورٹ نے قرضے معاف کروانے والوں کااز خو د نوٹس لے کر کاروائی شروع کی تھی۔ حکومت اپنی قانونی ٹیم کے ذریعے سپریم کورٹ سے فیصلہ کروا کر قرضے معاف کروانے والوں سے رقوم کی وصولی کرے۔

۷۔           کاروبار کرنے کی سہولیات کو سستا اور ہر کاروباری کی پہنچ میں آسانی سے دستیاب کروایاجائے۔

۸۔            ٹیکس اصلاحات کو پورے خلوص اور دیانتداری سے نافذ کیاجائے۔ معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے سیلز ٹیکس کو کم سے کم ریٹ پر لا کر لاگو کیاجائے۔

۹۔            ہر قسم کی ٹیکس چھوٹ کو ختم کیاجائے۔ 6لاکھ روپے سے زیادہ سالانہ آمدنی پر انکم ٹیکس وصول کیاجائے اور جوں جوں صافی انکم میں اضافہ ہوتا جائے۔ اس کے مطابق ٹیکس ریٹ میں اضافہ کیاجائے۔لیکن انفرادی ٹیکس ریٹ 20فیصد سے زیادہ نہ ہو اور کارپوریٹ ٹیکس ریٹ 30فیصد سے زیادہ نہ ہو۔کل ریونیو کا کم ازکم 75فیصد بطور انکم ٹیکس وصول کیاجائے۔ جوکہ اسسمنٹ کی بنیاد پر ہواور وود ہولڈنگ ٹیکس کے ذریعے انکم ٹیکس وصولی کی روش ترک کی جائے۔

۱۰۔           صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لیے سستی انرجی کی سپلائی کو یقینی بنایاجائے۔

۱۱۔           ملک کے اندر ٹیکینکل تعلیم کو فروغ دیاجائے۔ جی ڈی پی کا کم ازکم 6فیصد تعلیم اور 6فیصد صحت پر خرچ کیاجائے۔

۱۲۔           عدالتوں میں زیر التوا ہزاروں مقدمات کا تیزی سے فیصلہ کروانے کاانتظام کیاجائے اور ٹیکس کے مقدمات کے لیے علیحدہ سے بنچ بنائے جائیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس