Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد۔۔سیاسی صورتحال


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس ملکی حالات کے حوالہ سے ایک مرتبہ پھر یہ اظہارکرتاہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ جس کانام اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جس کاسرکاری مذہب اسلام ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات اور ہمارے تمام معاشی و معاشرتی ،تہذیبی و تمدنی اور داخلی و خارجی مسائل کاحل ہے۔ ہمارے دین اور ہمارے ملک کے آئین نے ہمیشہ کے لیے ہماری قومی و اجتماعی زندگی کی سمت کا تعین کردیا ہے۔ موجودہ برسراقتدار حکومت نے اگرچہ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کو اپنا ماڈل کہہ کر اسی سمت کااعلان کیاہے۔ لیکن بد قسمتی سے انہوںنے پانچ ماہ میں اس سمت ایک قدم بھی نہیں اٹھایا بلکہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح سودی معیشت ، بیرونی قرضوں پر انحصار ، عالمی اداروں کی تابعداری اور مغربی تہذیب کے فروغ کا ہی راستہ اپنایا ہے۔ جس کی وجہ سے معیشت اصلاح پذیر ہونے کی بجائے تیزی سے زوال پذیر ہے۔ کرنسی مضبوط ہونے کی بجائے بے قدری کی آخری حدوں کو چھورہی ہے اور ناقص پالیسیوں اور حکومتی نا اہلی کی وجہ سے ہر شعبۂ زندگی کی صورت حال ابتر ہے۔ معلوم ہوتاہے کہ حکومت کے پاس سرے سے کوئی پالیسی ،کوئی پلان، کوئی حکمت عملی اور عمل درآمد کے لیے کوئی ٹیم موجود ہی نہیں اور مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے ماڈل کو بھی محض سیاسی نعرے کے طور پر اپنایا گیاہے۔

اصولی طور پر جماعت اسلامی پاکستان ملک میں احتسابی عمل کے آغاز کو ملک کے لیے خوش آئند سمجھتی ہے۔ اور احتساب عدالتوں کے ذریعہ سابق وزیراعظم پاکستان سمیت مختلف سیاست دانوں کو سزائیں ملنے کاخیرمقدم کرتی ہے۔ اس لیے کہ جماعت اسلامی احتساب کی تحریک 1996ء سے چلا رہی ہے۔ اس تحریک کے دوران اپنے مرحوم رہنما قاضی حسین احمد کی قیادت میں تاریخی دھرنے بھی دے چکی ہے۔ اسی طرح موجودہ امیرجماعت سراج الحق صاحب کی قیادت میں کرپشن فری پاکستان تحریک زور و شور سے چلائی جا رہی ہے۔ اس دوران ملک گیر جلسوں ، جلوسوں ، ریلیوں ،ٹرین مارچ اور مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پانا لیکس میں شامل تمام کرپٹ افراد کے خلاف جماعت اسلامی نے ہی سب سے پہلے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔ ہماری تحریک کے نتیجہ میں ہی کرپٹ عناصر بے نقاب ہو رہے ہیں اورنیب عدالتوں میں کیسوں کی سماعت اور سزائوں کے نتیجہ میں قوم کے علم میں آ رہاہے کہ کس طرح قومی خزانے پر ڈاکے ڈالے گئے ۔ اربوں بلکہ کھربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ اربوں روپے کے جعلی بنک اکائونٹس سامنے آئے۔ اور معلوم ہواکہ ماضی میں برسراقتدار رہنے والے سیاست دانوں نے اربوں ڈالر کے اندرون و بیرون ملک اثاثے بنائے ہیں۔

تاہم جماعت اسلامی پاکستان احتساب کے اس سارے عمل کو ادھورا ،ناقص ،نامکمل اور یکطرفہ سمجھتی ہے۔ ایک ہی جیسے جرائم میں حکومتی کیمپ کے سیاست دانوں سے مکمل چشم پوشی احتسابی عمل کو مشکوک بنا رہی ہے۔ اسی وجہ سے کرپٹ عناصر کو یہ کہنے کا موقع مل رہاہے کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔ امتیازی قوانین کی طرح امتیازی احتساب عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ یہ ظالموں کو مظلوم بنانے اور کرپٹ عناصر سے ہمدردی کے جذبات پیداکرنے کاایک ذریعہ بن رہاہے۔

نیب ادارے کی طرف سے اساتذہ کی تذلیل ، ان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں پیش کرنا اور استاد کی لاش کو بھی ہتھکڑی سے جکڑنا علم و عرفان ہی نہیں انسانیت کی تذلیل ہے۔ اسی طرح یہ ا جلاس احتسابی کے عمل سے انتظامیہ ،عدلیہ سمیت ملک کے کئی اداروں کو باہر رکھنے کو بھی غیر اخلاقی اور غیر آئینی قرا ر دیتاہے۔ نیز نیب کے ادارے کی طرف سے بڑے مگرمچھوں کو چھوڑ کر بلیک میل کرنے کے انداز میں چھوٹے تاجروں ، مارکیٹوں اور سوسائٹیوں سے رابطہ ،کاروباری طبقہ میں خوف کی فضا پیدا کرنے کاسبب بن رہاہے۔ اسی طرح تجاوزات کے خاتمے کے نام پر مافیا پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے عام اور غریب عام اور غریب متاثرین کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے اورعوام کو مکان دینے کی بجائے جھونپڑیوں اور روزگار دینے کی بجائے کھوکھوں سے بھی محروم کیا گیا ہے۔

یہ اجلاس سیاسی عدم استحکام ادارہ جاتی تصادم اور حکومت کی طرف سے بے یقینی پیداکرنے کی دانستہ کوشش کی مذمت کرتاہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے کہ صرف پانچ ماہ بعد ہی نئے انتخابات یا ماورائے آئین انتظامات کی افواہیں جنم لے رہی ہیں یا پیدا کی جارہی ہیں۔ یہ اجلاس غریبوں کو مہنگائی کی کندچھری سے ذبح کرنے اور اس کے بعد منی بجٹ اور نئے ٹیکسوں کی تجویز کی بھی مذمت کرتاہے۔ اسی طرح تعلیم، علاج ، صاف پانی کی فراہمی اور ترقیاتی امور سے حکومت کی مکمل دستبرداری بھی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے ۔ عدالتی نظام ،نچلی سطح تک انصاف دینے میں ناکام ہوچکاہے۔ بدقسمتی سے موجودہ چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدالتوں نے بھی عدالتی معاملات میں عام آدمی کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ عدالتی نظام کی اصلاح کی سرے سے کوئی کوشش نہیں کی گئی جبکہ عدالتیں مقدمات سے بھری ہوئی ہیںاور برس ہا برس گزرنے پر بھی انصاف نہیں ملتا۔

جماعت اسلامی کا یہ اجلاس امن عامہ کی ابتر صورت حال، دہشت گردی کے مسلسل واقعات میں اضافہ،خواتین کی عصمت دری اور معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ درندگی اور ان کے قتل کے سانحات پر گہری تشویش کااظہار کرتا ہے۔

بھارت کے کلبھوشن یادیوکی طرح کے نیٹ ورک ابھی تک اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ کشمیر میں بے گناہ شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ روز افزوں ہے۔ جب کہ حکومت کی طرف سے بھارت کے بارے میں نرم رویہ اپنایا جارہاہے جس نے عوام کے اضطراب میں اضافہ کیاہے۔

جماعت اسلامی پاکستان ایک مرتبہ پھر اعلان کرتی ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے قیام اور’’ احتساب سب کا‘‘ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ او ر ہم پانامہ لیکس میں شامل 436کرپٹ عناصر کے بلاامتیاز ،منصفانہ اور بے لاگ احتساب او ر لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے نیب اور عدلیہ کے دروازوں پر دستک دینے کے علاوہ کرپشن کے خلاف قوانین کی اصلاح اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر احتجاج کاراستہ اختیار کریں گے۔

ہم واضح کرتے ہیںکہ کرپٹ عناصر کاتعلق ماضی کی حکومتوں سے ہو یا موجودہ حکمرانوں سے، برسراقتدار سیاست دانوں سے ہو یا حزب اختلاف میں موجود سیاست دانوں سے ،سول و ملٹری بیوروکریسی سے ہویا عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے سے ہم ان شاء اللہ سب کے بے لاگ احتساب کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔

یہ اجلاس اعلان کرتاہے کہ عوام کو ان کے مسائل کے حل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ جماعت اسلامی مہنگائی بے روز گاری ، بدامنی ، لاقانونیت اور کرپشن کے خلاف سب سے توانا اور بلند آہنگ آواز بن کر عوام کی قیادت کرے گی۔

ہم پاکستانی عوام کو بھی متوجہ کرتے ہیں کہ ماضی میں بار ی باری برسراقتدار حکومتوں کی طرح موجود ہ حکومت بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ہمارے مسائل کا حل اسلامی نظام کے مکمل نفاذ اور دیانتدار قیادت کے برسراقتدار آنے میں مضمر ہے۔ جماعت اسلامی کرپشن سے پاک اور گڈگورننس پر مشتمل سیاست کا کراچی ، دیر ، سمیت متعدد مقامات پر عملاً مظاہرہ کرچکی ہے۔ جماعت اسلامی فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی خدمت کرتی رہی ہے۔ اور اب بھی اقلیتوں کے تحفظ سمیت پاکستانی قوم کے تمام مسائل کا حل اور ماہرین پر مشتمل دیانتدار ٹیم صرف جماعت اسلامی کے پاس موجود ہے۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس