Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

    Error writing file '/tmp/MYQ1dNas' (Errcode: 28 "No space left on device")
  • No News

قرارداد۔۔آئندہ بلدیاتی انتخابات


دنیا بھر میں نظامِ ریاست چلانے کے لئے ،مرکز اور صوبوں کے بعد ،نچلی سطح پر بلدیاتی نظام تیسرا اور بنیادی ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔بلدیاتی ادارے پبلک ایڈمنسٹریشن اور گورننس کے لئے بااختیار اور خود مختار ہوتے ہیں۔جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کا وجود اس اصول پر قائم کیا گیا ہے کہ آمریت میں اختیارات اور ذمہ داریوں کے چند افراد کے ہاتھوں میں ارتکاز کے باعث محدود ہونے کے برعکس ان اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم نچلی سطح پر عوامی نمائندں کے ہاتھوں میں ہو۔یوں جمہوریت میں آمریت کے مقابلے میں اختیارات اور ذمہ داریاں تقسیم کی جاتی ہیں۔

                مختلف ممالک میں مقامی حکومتوں کے لئے کاؤنٹی،ضلعی تا سٹی حکومتیںلوکل سروسز فراہم کرتی ہیں۔ان حکومتوں کے ٹاؤن کمیٹی ؍کونسل اور میونسپل کمیٹی؍ کونسل جیسے مختلف نام رکھے جاتے ہیںاور انہیں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات کا ایک بڑا حصہ منتقل کیا جاتا ہے۔کئی ممالک میں عوامی مسائل کے حل ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،سیوریج کامعقول نظام اور گلیوں سڑکوں کی صفائی جیسی روزمرہ کی ضروریات وسہولیات بلدیاتی ادارے سرانجام دیتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پولیس،تعلیم اور صحت کے انتظامات بھی مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔کیونکہ جدید دور کے ریاستی نظام کے مطابق یہ تمام امور مقامی نوعیت کے ہیں اور ان کی فراہمی کے لئے مؤثر انتظامات بھی مقامی سطح پر ہی ممکن ہیں۔

                مقامی حکومتوں کے نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عوام کے روز مرہ کے معاملات ،معاشی ترقی،پبلک سیکٹر میں فیصلے کرنے کے اختیارات براہِ راست عوام کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔پھر بلدیاتی ادارے کسی بھی ملک میں جمہوریت کی نرسریاں کہلاتے ہیں ۔مقامی حکومتوںمیں کامیاب کارکردگی دکھانے والی سیاسی قیادت؍جماعت ہی شہری سیاست سے ہوتی ہوئی صوبائی اور قومی سطح کی سیاست میںاپنی جگہ بناتی ہے۔

                پاکستان میں سیاسی نظام بظاہر جمہوری ہے۔لیکن عملی طور پر سیاسی جماعتیں نظریات اورجمہوری اصولوں کی بجائے افراد اور خاندانوں کے ہاتھوں میں جکڑی ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے سیاست، دولت وطاقت کے اثرورسوخ کی مرہونِ منت بن کر رہ گئی ہے۔اس پس منظر میں یہ ہمارے سامنے کی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور میں بلدیاتی نظام کا تصوربہت غیر واضح رکھا گیا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سول حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں ،بلدیاتی انتخابات  کے انعقاد سے تغافل برتا اورہر ممکن حد تک گریز کا راستہ اختیار کیا۔

                موجودہ حکومت نے حلف اٹھاتے ہی ،قبل از وقت بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا اور موجودہ نظام میں اصلاحات لا نے کے لئے ایک ’’ٹاسک فورس‘‘ بھی بنادی تاکہ جلد از جلد تحصیل وضلعی حکومتوں کے قیام سے ،اختیارات ومالی وسائل ’’گراس روٹ لیول‘‘ تک منتقل کئے جا سکیں۔لیکن اس ضمن میں ابھی تک تو اس حکومت کے تمام وعدے،دعوے اور نعرے فضا میں تحلیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ابھی تک مقامی حکومتوں کے نظام کا کوئی نقشہ سامنے نہیں آیا۔عملی اقدام بہت دور کی بات ہے۔بلکہ اب توحکومتی ایوانوں میں مکمل خاموشی اوربے حسی چھائی ہوئی ہے۔

                درایں حالات مرکزی مجلسِ شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کا یہ اجلاس حکومتِ وقت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے ،مقامی نمائندوں کو اختیارات منتقل کرنے او رنچلی سطح تک مالی وسائل کی تقسیم کے لئے جلد ازجلد درج ذیل اقدامات کئے جائیں:۔

۱۔             مقامی حکومتوں کے نظام کی تیاری اور قیام میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

۲۔            پورے ملک میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کیا جائے۔

۳۔            بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے ،جس کو پورا کروایا جائے۔

۴۔            جن صوبوں کے بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہو رہی ،ان میں اگلے بلدیاتی انتخابات کے فوری انتظامات کروائے جائیں۔

۵۔            جن صوبوں کے بلدیاتی اداروں کی مدت ابھی باقی ہے بشمول فیڈرل ایریا اسلام آباد، ان کو فی الفورمالی وسائل فراہم کئے جائیں۔

۶۔             ’’فاٹا‘‘ کے ،صوبہ KPKمیں انضمام کے بعد،اب ان قبائلی اضلاع میں بھی بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل کی جائیںاور الیکشن کے جلد انعقاد کا اہتمام کیا جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس