Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

    Error writing file '/tmp/MYKoHYRZ' (Errcode: 28 "No space left on device")
  • No News

قرارداد برائے کشمیر


مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کا یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مسلسل بھارتی ریاستی دہشت گردی اور سرچ آپریشن کے نام پر بستیوں کی بستیوں کو بے گھر کرتے ہوئے مال و اسباب کی لوٹ مار و قتل و غارت گری بالخصوص نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی حکمت عملی کی شدید مذمت کرتا ہے ۔اور اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن اور دیگر انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود مظالم بند کرنے کی بجائے نہایت ڈھٹائی سے بھارت ریاستی دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے ۔

اجلاس بھارت کے تمام انسانیت کش ہتھکنڈوں کے باوجود شمع آزادی فروزاں رکھنے کے لئے شہداء کی قربانیوں اور قائدین حریت اور مجاہدین کی استقامت پرانہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔

اجلاس مشترکہ مزاحمتی قیادت کی  بصیرت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جن کی دانش مندانہ حکمت عملی کے نتیجہ میں پوری ریاست میں یکجہتی کی فضا قائم ہوئی اور جذبہ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار نوجوانوں نے تحریک آزاد ی کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنا دیا جو بھارت کی سازشوں اور منفی ہتھکنڈوں کے باوجود نئے عزم کے ساتھ سوئے منزل گامزن ہے ،ان کی استقامت کے نتیجے میںہی بھارت کے اہل دانش اور بھارتی آرمی چیف سمیت اہم سیاسی شخصیات یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ طاقت سے تحریک ختم نہیں کی جا سکتی اورحکومت بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی راہ نکالے ۔شہداء کے جنازوں میں کرفیو توڑکر دسیوں ہزاروں لوگوں کی شرکت اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی سکالرز کاآئے روز اس تحریک کا حصہ بننا بھارت کے لئے نوشتہ دیوار ہے کہ وہ یہ جنگ ہار چکا ہے ۔تاریخی حقائق کی روشنی میں بھارتی حکمرانوں کو یہ حقیقت باور رہنا چاہئے کہ ہر استعمار کا انجام بالاخر عبرت ناک ہوتا ہے جس کی تازہ مثال امریکہ اور نیٹو کا افغانستان میں اعتراف شکست اور پسپائی کاعمل ہے۔

اجلاس کے نزدیک اہل کشمیر شجاعت و بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ان شاء اللہ وہ آزادی کی منزل سے ضرور ہمکنار ہوں گے لیکن اس سنگین انسانی مسئلہ کے حوالہ سے بین الاقوامی اور اسلامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے میں مزید تاخیر نہ کرنا چاہئے ۔اس لئے اجلاس سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ جس کی تائید وہ خود بھی کر چکے ہیں کی روشنی میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرنے اور انہیں موعودہ حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے فی الفور سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے چپٹر 7کے تحت اقدامات کرتے ہوئے بھارت کو مسئلہ حل کرنے پر مجبورکیاجائے ورنہ اقوام متحدہ کی اپنی ساکھ ختم ہوجائے گی۔

اجلاس حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی بات چیت کی پیشکش کوبھارت کی طرف سے مستردکئے جانے کے بعد بین الاقوامی برادری سے رجوع کیاجائے ۔اب وقت آگیا ہے کہ شملہ معاہدہ جس کی بھارت بارہا مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے کو مسترد کرے ہوئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایاجائے نیز OICکا سربراہی یا وزراء خارجہ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کرتے ہوئے بھارت پر مؤثر سفارتی دبائو بڑھانے کے لیے لائحہ عمل طے کیاجائے ۔اجلاس حکومت پاکستان کو متوجہ کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت دفاع اور زراعت اور توانائی کے تمام امور مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہیں اس لئے مسئلہ کو ترجیح اول بنایاجائے اس حوالے سے ایک قومی کشمیر کانفرنس کا اہتمام کیاجائے نیز ایک ہمہ وقتی نائب وزیر خارجہ مقرر کیاجائے جو مسئلہ کشمیر پر فوکس رکھے ۔

اجلاس کے نزدیک ریاست کے آزاد حصے آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان تحریک آزادی کا بطور بیس کیمپ ایک اثاثہ ہیں۔ اس لئے اس بیس کیمپ کو فعال و متحرک بنانے کے لئے آئینی لحاظ سے بااختیار و باوسائل بنایاجائے ۔دونوں خطوںکو تعمیر و ترقی کے لئے مزید وسائل دئیے جائیں بالخصوص متاثرین زلزلہ کے 56ارب روپے جو پیپلز پارٹی کے دور میں منتقل کئے گئے انہیں فی الفور واپس کیاجائے تاکہ متاثر ہ تعلیمی ادارے اور دیگر انفراسٹرکچر مکمل ہوسکے۔

اجلاس سیز فائر لائن اور ورکنگ بائونڈری سے متصل سول آبادی پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کی بھی شدید مذمت کرتاہے۔ جس کے نتیجے میں آئے روز سویلین اور فوجی شہید ہو رہے ہیںاور آبادیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے نیز شہداء کے لواحقین ،زخمیوں اور متاثرین کو معقول معاوضہ جات دینے کا فوری اہتمام کیاجائے۔

٭…٭…٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس