Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

سی این جی سٹیشنوں، صنعتوں اور بجلی گھروں کو ایل این جی کی سپلائی بند کرنا تشویش ناک ہے۔امیرالعظیم


لاہور19جنوری 2019ء: امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہاہے کہ سوئی نادرن کی جانب سے سی این جی سٹیشنوں کے بعد صنعتوں ، کھاد ساز کارخانوں اور بجلی گھروں کو ایل این جی کی سپلائی بند کرنا تشویشناک امر ہے، اس سے عوام کے مسائل میں اضافہ ، صنعتیں بند، مزدور بیروز گار اور تاجر برادری کو شدید نقصان پہنچے گا۔پی ٹی آئی کی حکومت کے غیر دانشمندانہ فیصلوں اور پالیسیوں کے باعث اسٹاک مارکیٹ شدیدباؤ میں ہے۔ سرمایہ دار بیرون ملک اپنا سرمایہ منتقل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روزلاہورمیں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وسائل کی دولت سے مالامال بنایا ہے مگر بد قسمتی سے ان کے فوائد غیر ملکی کمپنیاں اٹھا رہی ہیں جب کہ ملک و قوم کی حالت دن بدن ابتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ بنکوں سے ریکارڈ قرضے حاصل کرنے کے باوجود حکمران اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل نوٹ چھاپ رہے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران 84 ارب کے نئے نوٹ چھاپے گئے ہیں۔ حکومت کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کسی بھی قسم کا کوئی ٹھوس ایجنڈا نہیں ہے۔ خود انحصاری اور خود مختاری کا درس دینے والے آج کشکول لے کر دنیا سے مانگ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملکی معیشت نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ لاقانونیت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان جرائم کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر عوام کو ریلیف فراہم کرے اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کرکے نوجوان نسل کو بے راہ روی سے روکا جائے۔انھوں نے کہا کہ سی پیک ملک کی خوشحالی کا منصوبہ ہے اس کو جلد مکمل کرنا ہوگا۔سی پیک سے پاکستان میں خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ دشمن اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں اور ان دشمن ممالک میں ہندوستان سر فہرست ہے۔ امیر العظیم نے مزید کہا کہ میڈیا کے ساتھ حکومتی رویہ غیر دانشمندانہ ہے ۔ جمہوریت کے استحکام اور معاشرتی ترقی کے لیے ریاست کے اس اہم ستون کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند ہونا چاہیے۔ حکمرانوں کی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی میڈیا انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہوچکی ہے۔حکومت کو میڈیا بحران کے خاتمے کے لیے سرکاری اشتہارات کوجاری کرنا چاہئے تاکہ صحافتی کارکنوں کامعاشی قتل عام بند ہوسکے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس