Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کرپٹ عناصر کا بلا امتیازاحتساب کیاجائے، امتیازی احتساب، عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔قرارداد


 

لاہور14 جنوری  2019ء:جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب کی مجلس شوریٰ کااجلاس امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم کی زیرصدارت گزشتہ روزمنصورہ لاہور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر قراردداد متفقہ طورپر منظور کی گئی جس میں کہاگیا ہے کہ صوبائی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملکی حالات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر یہ اظہار کرتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے، جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ اصولی طور پر جماعت اسلامی ملک میں احتسابی عمل کے آغاز کو ملک کے لیے خوش آئند سمجھتی ہے اور احتساب عدالتوں کے ذریعے سابق وزیر اعظم پاکستان سمیت مختلف سیاست دانوں کو سزائیں ملنے کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ اس لیے کہ جماعت اسلامی احتساب کی تحریک 1996ء سے چلارہی ہے۔ اس تحریک کے دوران اپنے مرحوم رہنما قاضی حسین احمد کی قیادت میں تاریخی دھرنے بھی دے چکی ہے۔ اسی طرح موجود ہ امیر جماعت سراج الحق کی قیادت میں کرپشن فری پاکستان تحریک زور و شور سے چلائی جارہی ہے۔ اس دوران ملک گیر جلسوں، جلوسوں ، ریلیوں ، ٹرین مارچ اور مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پانامہ لیکس میں شامل تمام کرپٹ افراد کے خلاف جماعت اسلامی نے ہی سب سے پہلے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔ ہماری تحریک کے نتیجے میں ہی کرپٹ عناصر بے نقاب ہورہے ہیں اور نیب عدالتوں میں کیسوں کی سماعت اور سزاؤں کے نتیجے میں قوم کے علم میں آرہا ہے کہ کس طرح قومی خزانے پر ڈاکے ڈالے گئے۔ اربوں بلکہ کھربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ اربوں روپے کے جعلی بینک اکاؤنٹس سامنے آئے اور معلوم ہوا کہ ماضی میں بر سر اقتدار رہنے والے سیاست دانوں نے اربوں ڈالر کے اندرون وبیرون ملک اثاثے بنائے ہیں۔ تاہم جماعت اسلامی پاکستان احتساب کے سارے عمل کو ادھورا ، ناقص ، نامکمل اوریک طرفہ سمجھتی ہے۔ ایک ہی جیسے جرائم میں حکومتی کیمپ کے سیاست دانوں سے مکمل چشم پوشی احتسابی عمل کو مشکوک بنارہی ہے۔ اسی وجہ سے کرپٹ عناصر کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔ امتیازی قوانین کی طرح امتیازی احتساب عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ یہ ظالموں کو مظلوم بنانے اور کرپٹ عناصر سے ہمدردی کے جذبات پیدا کرنے کا ایک ذریعہ بن رہا ہے۔ یہ اجلاس سیاسی عد م استحکام ، ادارہ جاتی تصادم اور حکومت کی طرف سے بے یقینی پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی مذمت کرتا ہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے کہ صرف پانچ ماہ بعد ہی نئے انتخابات یا ماورائے آئین انتظامات کی افواہیں جنم لے رہی ہیں یا پیدا کی جارہی ہیں۔ یہ اجلا س غریبوں کو مہنگائی کی کند چھری سے ذبح کرنے اور اس کے بعد منی بجٹ اور نئے ٹیکسوں کی تجویز کی بھی مذمت کرتا ہے۔ اسی طرح تعلیم ،علاج، صاف پانی کی فراہمی اور ترقیاتی امور سے حکومت کی مکمل دست برداری بھی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔جماعت اسلامی ایک مرتبہ پھر اعلان کرتی ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے قیام اور’’ احتساب سب کا ‘‘کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہم پانامہ لیکس میں شامل 436 کرپٹ عناصر کے بلا امتیاز ، منصفانہ اور بے لاگ احتساب اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے نیب اور عدلیہ کے دروازوں پر دستک دینے کے علاوہ کرپشن کے خلاف قوانین کی اصلاح اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس