Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

بلدیاتی انتخابات اور حکومت کی 125 دن کی کارکردگی کے بارے میں مرکزی مجلس شوریٰ کی قرارداد


لاہور 10جنوری2019ء:جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے حالیہ اجلاس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں ایک قرار داد منظور کی ۔ اجلاس کی صدارت امیر جماعت ا سلامی سینیٹر سراج الحق نے کی ۔ قرار داد میں کہا گیاہے کہ دنیا بھر میں نظامِ ریاست چلانے کے لئے ،مرکز اور صوبوں کے بعد ،نچلی سطح پر بلدیاتی نظام تیسرا اور بنیادی ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔بلدیاتی ادارے پبلک ایڈمنسٹریشن اور گورننس کے لئے بااختیار اور خود مختار ہوتے ہیں۔جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کا وجود اس اصول پر قائم کیا گیا ہے کہ آمریت میں اختیارات اور ذمہ داریوں کے چند افراد کے ہاتھوں میں ارتکاز کے باعث محدود ہونے کے برعکس ان اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم نچلی سطح پر عوامی نمائندں کے ہاتھوں میں ہو۔یوں جمہوریت میں آمریت کے مقابلے میں اختیارات اور ذمہ داریاں تقسیم کی جاتی ہیں۔پاکستان میں سیاسی نظام بظاہر جمہوری ہے۔لیکن عملی طور پر سیاسی جماعتیں نظریات اورجمہوری اصولوں کی بجائے افراد اور خاندانوں کے ہاتھوں میں جکڑی ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے سیاست، دولت وطاقت کے اثرورسوخ کی مرہونِ منت بن کر رہ گئی ہے۔اس پس منظر میں یہ ہمارے سامنے کی حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور میں بلدیاتی نظام کا تصوربہت غیر واضح رکھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سول حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں ،بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے تغافل برتا اورہر ممکن حد تک گریز کا راستہ اختیار کیا۔موجودہ حکومت نے حلف اٹھاتے ہی ،قبل از وقت بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا اور موجودہ نظام میں اصلاحات لا نے کے لئے ایک ”ٹاسک فورس“ بھی بنادی تاکہ جلد از جلد تحصیل وضلعی حکومتوں کے قیام سے ،اختیارات ومالی وسائل ”گراس روٹ لیول“ تک منتقل کئے جا سکیں۔لیکن اس ضمن میں ابھی تک تو اس حکومت کے تمام وعدے،دعوے اور نعرے فضا میں تحلیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ابھی تک مقامی حکومتوں کے نظام کا کوئی نقشہ سامنے نہیں آیا۔عملی اقدام بہت دور کی بات ہے۔بلکہ اب توحکومتی ایوانوں میں مکمل خاموشی اوربے حسی چھائی ہوئی ہے۔ قرار داد میں حکومتِ وقت سے پر زور مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے ،مقامی نمائندوں کو اختیارات منتقل کرنے او رنچلی سطح تک مالی وسائل کی تقسیم کے لئے جلد ازجلد درج ذیل اقدامات کئے جائیں:مقامی حکومتوں کے نظام کی تیاری اور قیام میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔پورے ملک میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کیا جائے۔جن صوبوں کے بلدیاتی اداروں کی مدت ابھی باقی ہے بشمول فیڈرل ایریا اسلام آباد، ان کو فی الفورمالی وسائل فراہم کئے جائیں۔”فاٹا“ کے ،صوبہ KPKمیں انضمام کے بعد،اب ان قبائلی اضلاع میں بھی بلدیاتی حلقہ بندیاں مکمل کی جائیںاور الیکشن کے جلد انعقاد کا اہتمام کیا جائے۔

ایک اور قرار داد حکومت کی 125 دن کی کارکردگی کے بارے منظور کی گئی جس میں موجودہ حکومت کے 125دنوں کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم اپنے تمام اعلانات کی خود ہی مسلسل نفی کررہی ہے۔پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے آسیہ ملعونہ کو نہ صرف رہا کردیا بلکہ اس عمل پر احتجاج کرنے والے عاشقان رسول پر سنگین مقدمات قائم کرکے ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا۔ غیر ملکی شہریت کے حامل قادیانی عاطف میاں کو اقتصادی امور کا مشیر نامزد کرکے عوام کے دینی جذبات مجروح کیے گئے اور اسمبلی سیشن کے دوران خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے یہودیوں اور اسرائیل کے حق میں دلائل دیئے گئے ۔ نیز ہندو رکن اسمبلی کی طرف سے شراب پر پابندی کا بل انتہائی تضحیک آمیز انداز میں مسترد کرکے دینی شعائر کا مذاق اڑایاگیا۔وزیراعظم عمران خان کادعویٰ تھا کہ ایم کیوایم جہاں ہوگی وہاں ہم نہیں ہوں گے اور نہ ہی ایم کیو ایم سے بلیک میل ہوں گے لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے سہارے پر ہی پی ٹی آئی حکومت کاآشیانہ قائم ہے۔ بلیک میلنگ کے باعث ہی حکمران کراچی سے بھتہ خوری کا خاتمہ کرسکے اور نہ ہی سانحہ 12مئی ،9اپریل اور بلدیہ ٹاﺅن کی فیکٹری کے 256مقتولین کے قاتلوں کو کٹہرے میں لایاجاسکا۔ کراچی سمیت ملک بھر میں تجاوزات کے خاتمے کے نام پر لاکھوں عوام کو روز گار اور چھت سے محروم کردیا گیا۔ ایک کروڑنوکریوں 

اور پچاس لاکھ گھروں کے وعدوں کے متعلق اب تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہ آئی۔ وزیراعظم نے اپنے اعلان کے برعکس وفاقی کابینہ 12وزراءکی بجائے کئی درجن وزراء،مشیروں اور معتمدین خاص پرتشکیل دی ہے۔ جوکہ قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ سابقہ حکومتوں نے پاکستان کو 26ہزار ارب روپے سے زائد کا مقرو ض بنایا تھا اور وزیر اعظم نے اسی نکتے کو بڑی چارج شیٹ بنایا لیکن اب مسلسل قرضوں کے حجم میں اضافہ ہو رہاہے۔ سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت کی بجائے منفی نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کاروباری طبقہ سرمایہ کاری کے حوالے سے خوف کا شکار ہے جبکہ بازار حصص مسلسل مندی کی طرف گامزن ہے۔ نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہایت پریشان کن ہے۔ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور روپے کی ناقدری کا یہ حال ہے کہ 125دنوں میں ڈالر 100روپے سے 144روپے کی سطح تک پہنچ گیاہے۔ اس کے باعث پاکستان کے قرضوں میں کئی سوارب روپے کااضافہ ہوگیاہے۔ چین سے متوقع قرضہ پر شرح سود 8فیصد سالانہ ہے۔ یہ بہت مہنگا قرضہ ہے جبکہ بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی اُمیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں۔ احتساب کے نام پر مذاق جاری ہے اور عوام مسلسل مایوس ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ حکمران اپنے منشور ،وعدوں اور دعوﺅں کا از سر نو جائزہ لیں اور ایسے نظر آنے والے اقدامات کریں کہ قوم کو مایوسی سے چھٹکارا اور مسائل سے نجات حاصل ہوسکے۔ 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس