Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حکومت تبدیل ہوتی ہے نظام نہیں بدلتا ،قاضی حسین احمد ؒ نے پوری زندگی اس استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کی ۔ سینیٹر سراج الحق


لاہور8  جنوری 2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں الیکشن ہوتے ہیں ، لوگ نئی آرزوؤں اور امیدوں کے ساتھ ووٹ بھی ڈالتے ہیں مگر ملک کے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید ابتر ہو جاتے ہیں ۔ حکومت تبدیل ہوتی ہے نظام نہیں بدلتا ۔ آج بھی ملک پر غربت جہالت اور ظلم کے سائے ہیں ۔قاضی حسین احمد ؒ نے پوری زندگی اس استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کی ۔ جماعت اسلامی کے کارکنان ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کو وہ حقوق دلانے کی کوشش کر رہے ہیں جوجاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے غصب کر رکھے ہیں ۔ ہم ملک کے مجبور اور محروم عوام کو اس نظام کے خلاف متحد کریں گے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جے آئی یوتھ لاہور کے زیراہتمام الحمراء قذافی سٹیڈیم میں قاضی حسین احمد مرحوم کی قومی خدمات کے حوالے سے تصویری نمائش کے افتتاح کے بعد کارکنان سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان ، امیر العظیم ، آصف لقمان قاضی ، میاں مقصود احمد ، اظہر اقبال حسن ، ذکر اللہ مجاہد ، صدر جے آئی یوتھ پاکستان زبیر گوندل نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر سمیحہ راحیل قاضی ، صغریٰ صدف ، جے آئی یوتھ پنجاب وسطی کے صدر شاہد نوید ملک اور جے آئی یوتھ لاہور کے صدر صہیب شریف ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور انجینئر اخلاق احمد ، سیکرٹری جے آئی یوتھ لاہور ، قدیر شکیل بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک پر مسلط ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کے مخصوص گروہ نے سیاسی جماعتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ گھوڑے کی طرح کبھی ایک پارٹی اور کبھی دوسری پارٹی پر سواری کر لیتے ہیں ۔ یہ مخصوص ٹولہ پارٹیوں کو استعمال کر کے اپنے مفادات پورے کرتا ہے ۔ یہ لوگ عوام کے مسائل سے بالکل بے بہرہ ہیں عوام کی پریشانیوں کے اصل مجرم یہی لوگ ہیں ۔ مزدور اور کسان کی محنت کا پھل یہی جاگیردار اور کارخانہ دار کھا جاتے ہیں ۔ کسان اور مزدور خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود بھوکے سوتے ہیں ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں اور روزگار نہیں ملتا ۔ ان جاگیرداروں اور وڈیروں نے اندرون و بیرون ملک دولت کے انبار لگالیے ہیں ۔ جماعت اسلامی کسان کو کھیت اور مزدور کو کارخانے کی پیداوار میں حصہ دار بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ ہم پاکستان میں افراد اور پارٹیوں کی بادشاہت کی بجائے اللہ کا عطا کردہ عادلانہ نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں دیا جائے اور کوئی غریب ظلم و استحصال کا شکار نہ ہو ۔ انہوں نے کہاکہ لاکھوں لوگوں نے جانوں کی قربانی دے کر پاکستان بنایا تھا لیکن حکمرانوں نے ملک کے جغرافیہ اور نظریہ کے ساتھ بے وفائی اور غداری کی جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا ۔ 71 سال میں کتنی حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر قیام پاکستان کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوسکا ۔ آج تک ملک میں ایک دن کے لیے اس کلمہ کی حکومت قائم نہیں ہوئی جس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیاتھا ۔ ہماری سیاست معیشت عدالت اور تعلیم میں کسی جگہ بھی اس کلمہ کی حکمرانی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بے پناہ قدرتی وسائل اور جفاکش و محنتی عوام کے باوجود پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض ہے ۔ آج ہم کبھی ایک اور کبھی دوسرے ملک سے خیرات مانگتے ہیں جس دن کوئی حکومت کے کشکول میں کوئی خیرات اور چندہ ڈال دیتاہے ، ہمارے وزیر خزانہ اور حکومت جشن مناتے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اور عالم اسلام کو ایک نظریاتی قیادت کی ضرورت ہے جس کی امیدیں ورلڈ بنک ،آئی ایم ایف اور امریکہ کی بجائے اللہ پر ہوں۔ ایسی قیادت جو دنیا کے سامنے عالم اسلام کی ترجمان بنے ۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمرانوں سے بھی عوام مایوس ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ قاضی حسین احمد اتحاد عالم اسلامی کے سب سے بڑے داعی تھے اور وہ زندگی بھر عالم اسلام کو خوف خدا رکھنے والی جرأت مند قیادت دینے کی جدوجہد کر تے رہے ۔ 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس