Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ہزاروں قانونی دکانیں مسمار کر دی گئیں لیکن تجاوزات آج بھی موجود ہیں ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی؍07 جنوری 2018ء:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری تجاوزات کے خاتمے کی مہم تیزی سے جاری ہے ہزاروں دکانداروں کو روزگار سے محروم کیا گیا اور قانونی دکانیں مسمار کی گئی ہیں لیکن تجاوزات آج بھی موجود ہیں ۔ توڑ پھوڑ کی سب سے زیادہ کارروائیاں ضلع جنوبی میں کی گئی جواب بھی جاری ہیں ۔ سپریم کورٹ نے تجاوزات کے خاتمے کے فیصلے میں کھیل کے میدانوں ، پارکوں اور دیگر سرکاری اراضی پر سے قبضے ختم کرانے کا واضح حکم دیا تھا مگر مئیر کراچی وسیم اختر سب کچھ چھوڑ کر چھوٹے دکانداروں اور عام کاروباری طبقے کو تباہ کر نے پر تل گئے ہیں ۔ کراچی کے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ سارا کھیل کیوں کھیلا جا رہا ہے اور تجاوزات کو چھوڑ کر قانونی دکانوں کو مسمار کیا جا رہا ہے ۔؟ ایمپریس مارکیٹ سمیت صدر کے تجارتی مراکز ، گارڈن کے سیکڑوں دکاندارو دفاتر اور لی مارکیٹ اور کورنگی سمیت بیشتر علاقوں میں کے ایم سی کے کرائے داروں کو ان کے کارو بار سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا ۔ حیرت انگیز طور پر سندھ حکومت اور کراچی سے ووٹ لینے والی جماعتوں نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ غریبوں کو بے حال کر کے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ابھی تک کسی بھی جگہ سے بے دخل کیے گئے کسی بھی دکاندار کو کوئی متبادل جگہ فراہم نہیں کی گئی ہے اور جو لوگ برسوں سے جس کاروبار اور ذریعہ معاش سے منسلک تھے وہ اس سے محروم ہونے کے بعد اب بے یارو مدد گار پڑے ہیں ۔ہر جگہ لوگ احتجاج کر رہے ہیں لیکن کہیں ان کی داد رسی نہیں ہو رہی ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت اور کے ایم سی کے ذمہ داران اور کراچی کے عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر جاری مہم کے پس پردہ حقائق سے عوام کو آگاہ کریں ۔ شہریوں کو روزگار اور کاروبار سے محروم ہونے سے بچائیں اور مئیر کراچی وسیم اختر بھی سپریم کورٹ کے حکم پر پوری طرح عمل درآمد کرائیں اور کھیل کے میدانوں اور پارکوں سے قبضے ختم کرائیں ۔ جماعت اسلامی مظلوموں اور محروموں کے ساتھ ہے ۔ ہماری عدالت عظمیٰ سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور غریبوں کو مزید بے روزگار ہو نے سے بچایا جائے اور جن لوگوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے ان کو متبادل فراہم کیا جائے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس