Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عوام کے مسائل کے سنجیدہ حل کے لیے طرز حکومت میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ سینیٹر سراج الحق


لاہور6جنوری2019 ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک کے عوام کے مسائل کے سنجیدہ حل کے لیے طرز حکومت میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ اب تو چیف جسٹس بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ حکومتیں کام نہیں کریں گی تو کوئی اور ذمہ داری پوری کرے گا۔ سیاست میں تلخیاں بڑھتی جارہی ہیں جو جمہوریت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں ۔ وزراءتحمل اور برد باری کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ اس وقت پوری قوم معاشی بدحالی سے پریشان ہے ۔ معیشت کو ٹریک پر چڑھانے کے لیے معاشی ڈاکومنٹیشن ، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے ۔ٹیکسوں کی بھر مار اور ادھار سے ملک نہیں چلتے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں ہونے والے مرکزی مجلس شوریٰ کے سہ روزہ اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کے پہلے پانچ ماہ میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی ۔ حکومت اب تک کوئی جوڈیشل ریفارمز بھی نہیں کر سکی ۔ حکومت نے جنوبی پنجاب اور کراچی کے مسائل حل کرنے کے بڑے دعوے کیے تھے مگر یہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں ۔ حکومت نے سماجی خدمات میں انقلاب لانے کا بھی وعدہ کیا تھا ، قوم منتظر ہے کہ حکومت اپنے ان وعدوں پر عمل درآمد کے لیے کب کوئی سنجیدہ قدم اٹھاتی ہے ۔ عوام پہلے کی طرح تھانے کچہری اور پٹوار خانے کے رحم و کرم پر ہیں ۔ لوگوں کو انصاف جیسی بنیادی سہولت میسر نہیں ۔ پڑھے لکھے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں حکومت نے کہاتھاکہ ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دیں گے لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد دور دور تک نظر نہیں آرہا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ تبدیلی کے نعرے پر آنے والی حکومت کے دور میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی جو عوام کو نظر آئے۔ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں ۔ پہلے سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اب دسمبر اور جنوری میں گیس کے ساتھ ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہورہی ہے ۔ روز مرہ اشیاءکی قیمتوں میں اضافے سے لوگو ں کے لیے ضروریات زندگی حاصل کرنا مشکل ہوگیاہے ۔ حکومت عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی ۔ تبدیلی صرف ٹیکسوں اور مہنگائی میں اضافے کی صورت میں آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم اور علاج کی سہولتوں کی عدم دستیابی مستقل مسئلہ بن چکاہے ۔ لاہور کراچی اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں کے عوام بھی علاج کی سہولتیں نہ ملنے سے سراپا احتجاج ہیں لیکن وزراءصبح و شام تبدیلی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔ انہوںنے کہاکہ دو کروڑ پینتیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ قوم و ملک کی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے ، سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی تعلیم کی طرف توجہ دینے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس