Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی دہلیز پر انصاف مہیا کرے۔سینیٹر سراج الحق


لاہور02 جنوری2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی دہلیز پر انصاف مہیا کرے۔سرگودھا ،فیصل آباد،گوجرانوالہ اور ڈیرہ غازی خان سمیت پانچ ڈویثرنز کے 21اضلاع 82تحصیلوں کے پچاس ہزار وکلاءاورکروڑوں عوام ان ڈویثرنوں میں ہائی کورٹ کے بینچ نہ ہونے کی وجہ سے عدل و انصاف سے محروم ہیں۔دو ردراز کے اضلاع کے سائلین لاہور ہائیکورٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مقدمات اور حق سے دستبردار ہونے پر مجبور ہیں۔جماعت اسلامی عوام کے اس مسئلہ کے حل لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت ہر جگہ آواز اٹھائے گی۔ہم وکلاءکی اس تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں ڈسٹرکٹ بار سرگودھا کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد کی قیادت صدر ڈسٹرکٹ بار سرگودھاوچیئر مین انٹراڈویثرن کمیٹی عنصر عباس بلوچ نے کی۔ وفد میں جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار سرگودھا سعد اللہ وڑائچ ایڈووکٹ محمد وارث جسرا ئ،صدر بار نور پور تھل ملک عبدالرسول جنرل سیکرٹی نور پور تھل میجر (ر) شہبازباجوہ ایڈووکیٹ،رانا عبدالرﺅف ایڈووکیٹ ،سیف الرحمن ایڈووکیٹ ودیگر شامل تھے۔وفد نے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق کو وکلاءکی طرف سے آٹھ جنوری کوپنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے میں بھی شرکت اور خطاب کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت اور وکلاءتحریک کی حمایت کا یقین دلایا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی تمام ڈویثرنل ہیڈکوارٹرز پر ہائیکورٹ بنچوں کے قیام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو آسان اور سستا انصاف ملے ۔انہوں نے کہا یہ صوبائی حکومت کافرض ہے کہ فوری طور پر اس اہم مسئلہ کے حل کے لیے کابینہ کا اجلاس بلایا جائے اور ڈویثرنوں میں ہائیکورٹ بینچ کے قیام کی منظوری دی جائے۔سینیٹر سراج الحق نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کروڑوں عوام کو انصاف مہیا کرنے کے لیے اس مسئلہ پر از خود نوٹس لیں۔چیئر مین انٹرا ڈویثرن کمیٹی و صدر ڈسٹرکٹ بار سرگودھا عنصر عباس بلوچ نے سینیٹر سراج الحق کو بتایا کہ ان پانچ ڈویثرن کے وکلاءنے پچاس دنوں سے عدالتوں کا بائیکاٹ کررکھا ہے اور وہ احتجاجاً کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہورہے حتیٰ کہ سٹیشن ججز کی عدالتیں بھی بند ہیں اورجب تک ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا ہم عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔ 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس