Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لمحہ فکریہ ہے کہ حکمران یوٹرن کو اپنی سیاسی ترقی کاذریعہ سمجھ رہے ہیں۔سینیٹرسرا ج الحق


لاہور یکم جنوری2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پانچ ماہ میں ہی عوام مایوس اور خوفزدہ ہو گئے ہیں ۔لمحہ فکریہ ہے کہ حکمران یوٹرن کو اپنی سیاسی ترقی کاذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ ملک میں ادارے کمزور اور افراد مضبوط ہیں۔ ملک پراس وقت 31 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے یہ قرض ان لوگوں سے وصول کیا جائے جنہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے ملک کو لوٹاہے ۔ بنکوں نے بھی کرپٹ عناصر کے ساتھ کرپشن میں تعاون کیا اور موجودہ بنکاری نظام نے کرپشن میں فرنٹ مین کا کردار ادا کیاہے ۔ملک میں ایسے منصوبے شروع کیے گئے جن کی ضرورت نہیں تھی ، ان کے بغیر بھی گزارا ہورہاتھا،صرف کمیشن کھانے کے لیے اربوں کے منصوبے شروع کیے گئے اور انہیں چلانے کے لیے سبسڈی دینی پڑرہی ہے۔ بنیادی مسئلہ مس مینجمنٹ کا ہے ۔ ہمیشہ چادر چھوٹی ہوتی ہے اور پاؤں زیادہ پھیلائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہر طرف خسارہ ہی خسارہ ہوتاہے ۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ ، جعلی کمپنیاں ، جعلی فاؤنڈیشنزاور ٹرسٹ بنانے کے لیے باقاعدہ اکیڈمیاں کھلی ہوئی ہیں ۔ ایمنسٹی سکیم بھی کالا دھن سفید کرنے کا ایک ذریعہ بنی ۔ حکومت ابھی تک کرپشن پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکی ہے نہ عوام کو کوئی ریلیف ملاہے ۔سال کا پہلا دن ہی لوگوں کا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں گزرا ہے۔جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصور ہ میں ہونے والے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب اور کارکنان سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ،نائب امراء اور ڈپٹی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ حکومت ابھی تک لوٹی گئی دولت کی ایک پائی وصول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔جب تک بیرون ملک پڑی ہوئی چوری کی دولت ملک میں نہیں آتی عوام کرپشن کے خلاف حکومتی کارکردگی او ر دعوؤں کو تسلیم نہیں کریں گے۔سینیٹر سراج الحق نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے استحکام اور اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کا بنیادی کردار ہے جسے مسلسل نظر انداز کیاجارہا ہے۔حکومت کی مدت تیزی سے پوری ہورہی ہے،مگر بلدیاتی انتخابات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔حکومت نے ایک بار حلقہ بندیوں کا شوشہ بھی چھوڑا مگر اب تک کیا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی یو سی اور وارڈ کی سطح پر اپنی تنظیم کو مزید منظم اور فعال کررہی ہے تاکہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپو ر طریقے سے حصہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی فعالیت سے عوام کے مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں اور گراس روٹ لیول پر عوام اقتدار میں شامل ہوتے ہیں تو بہتر ی آئے گی اگر مالی طور پر بلدیات کا بجٹ اور کام قومی و صوبائی ممبران کے سپرد کر دیا گیا جیسا کہ اب ہے تو ان اداروں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نان ایشوز میں الجھنے کی بجائے عوام کے اصل مسائل پر توجہ دے۔حکومت اب بھی پگڈنڈیوں پر چل رہی ہے اس کے سامنے کوئی واضح اور متعین راستہ نہیں۔ 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس