Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے اسلامی طرز معیشت کو اختیار کیا جائے۔امیرالعظیم


لاہور20 دسمبر2018:امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہا ہے کہ حکمران مسلسل عوام پر مہنگائی کا بم گرار ہے ہیںجس کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے سے جہاں ایک طرف صارفین پر 226ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا وہیں پر ایل پی جی کی قیمت میں 37روپے کا اضافہ کرکے حکومت نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ تبدیلی کا نعرہ لگاکرحکمرانوں نے عوام کو شدید مایوس کرکے رکھ دیا ہے۔ مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ بجلی کے نرخوں اور ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے تاکہ عوام کو سکھ کا سانس مل سکے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز لاہور میں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکمران عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ وزیر خزانہ کا بیان کہ” عمران خان نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا بیان 2014ءمیں دیا تھا، جنوری میں منی بجٹ آسکتا ہے۔ “نے عوام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آئے روز وزیر اعظم اور وزراءبیرون ملک اربوں کھربوں کے کالے دھن کا انکشاف کرتے ہیں، عوام پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ وہ کالا دھن ملک میں واپس کب لایا جائے گا اور اس حوالے سے اب تک حکومت نے کیااقدامات کیے ہیں؟۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو تبدیلی کے نام پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیاہے ۔ حالات بہتر ہونے کی بجائے دن بدن بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ سرکاری اداروںمیں کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ صرف ایک سال کے دوران وفاقی اداروں میں 58کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف لمحہ فکریہ ہے۔ یوںمحسوس ہوتا ہے کہ جیسے پورا نظام ہی کرپشن زدہ ہوگیا ہے۔ عوام حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں سے اضطراب کا شکار ہیں۔انھوں نے کہاکہ معاشی استحکام کے لیے اسلامی طرز معیشت کو اختیار کیا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول کے نظام حیات کو اختیار کرکے ہی ہم دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ پوری دنیا میں سودی طرز معیشت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ امریکہ میں بنک دیوالیہ ہورہے ہیں۔ امیر العظیم نے مزیدکہا کہ پاکستان اس وقت تک ترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتاجب تک حقیقی معنوں میں عوامی فلاح وبہبود کے لیے سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے جائیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس