Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تعلیمی اداروں پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سندھ حکومت تعلیم دشمن اقدامات سے باز رہے۔محمدحسین محنتی


کراچی 20دسمبر 2018 :جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سندھ حکومت تعلیم دشمن اقدامات سے باز رہے، اگر کوئی اسکول مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے ٹائم پیرڈ دیا جائے، صوبہ میں ناخواندگی، معیار تعلیم میں اضافہ اوریکساں ، اسلام و نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ نصاب تعلیم کی تیاری کو یقینی بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباءآڈیٹوریم میں نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن ( نافع ) کراچی کے ملاقات کرنے والے آٹھ رکنی وفد سے بات چیت کے دوران کیا۔وفد کی قیادت انتصاراحمد غوری کر رہے تھے جبکہ ڈاکٹرخالدمحمود،فیض احمد فیض،صلاح الدین شیخ،خالد شاہین،نبی رضوی، شکیل احمد اوریاسین ظفر شامل تھے،جبکہ معاون شعبہ تعلیم پروفیسرڈاکٹراسحاق منصوری اور صوبائی سیکرٹری سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا بھی موجود تھے، وفد نے صوبائی امیرکوکراچی میں نجی اسکولوں کو ایس بی سی اے کی جانب سے ریگولرائز کرنے اور بصورت دیگر متعین جگہ منتقل کرنے کے نوٹس کے خلاف مہم سے آگاہ اور نافع کی جانب سے تعلیم بچاو ¿ چارٹر بھی پیش کیا۔ نافع کے ذمہ داران نے بتایا کہ گلی محلوں میں سستی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے والے متوسط طبقہ کے اسکولوں کے مالکان کو ایس بی سی اے سمیت سندھ کے مختلف اداروں کی جانب سے تنگ کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے اسکول مالکان سخت پریشان ہیں اس کے خلاف گذشتہ دنوں پریس کلب پر ایک احتجاجی مظاہرہ کر ے حکام بالا کو اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کر چکے ہیں۔ صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ صوبہ میں پھلے ہی شرح خواندگی و معیار تعلیم کی صورتحال تشویش ناک ہے،طبقاتی اورمہنگی تعلیم اس کی اہم وجہ ہے،حکومت کے تعلیم دشمن اقدامات سے صورتحال مزید بدتر ہوگی۔دریں اثناءمحمد حسین محنتی نے پیپلز پارٹی کے رہنماءو صوبائی وزیر سعید غنی سے رابطہ کر کے پرائیویٹ اسکولوں کے ملاقات کرنے والے وفد کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ جنہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے مکمل تعاون اور پرائیویٹ اسکولوں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس