Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ہزاروں ماؤں کی گود اُجاڑنے والی غیر اخلاقی اور خونی بسنت کی اسلام میں کوئی گنجاش نہیں ۔ذکراللہ مجاہد


لاہور19 دسمبر2018:امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے کہاہے کہ پنجاب حکومت کی آئندہ سا ل فروری میں ہندوانہ اور خونی تہوار بسنت کی اجازت دینا افسوسناک امر ہے ۔ہزاروں ماؤں کی گود اُجاڑنے والی غیر اخلاقی اور خونی بسنت کی اسلام میں کوئی گنجاش نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز انہوں نے مرکزی سیاسی کمیٹی پشاور کے اجلاس میں ذمہ داران سے گفتگوکے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کا بسنت منانے کا فیصلہ عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے، سابقہ ادوار میں بسنت جیسے تہوار منانے سے سینکڑوں ماؤں کی گودیں اُجڑ ی ،ہزاروں کی تعداد میں ماؤں کے لال ہمیشہ کیلئے معذور بن کر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں اور ایسے تہوار کو حکومتی سرپرستی حاصل ہونا اسلامی و فلاحی ریاست کا مذاق ہے۔یہ خونی کھیل وقت ،پیسے کا ضیاع اور جان لیوا ہندوانہ تہوار ہے جس کی حمایت سینکڑوں بسنت متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عمران خان اور ان کی پوری ٹیم مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی دعویدار بنی ہوئی ہے لیکن اپنے ہی وعدؤں اور دعدوں کے برعکس عملی طور پر ہندوانہ اور استعماری ایجنڈوں کی تکمیل کر رہی ہے۔ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ حکومتی وزاء کا بسنت منانے کا فیصلہ بے حسی پر مبنی ہے جس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بسنت جیسے خونی غیر ا خلاقی و اسلامی تہوار کومنانے کی اجازت کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور اس خونی کھیل اور تہوار پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ شہری سٹرکوں پر محفوظ رہیں اور ماؤں کے بچے حادثات سے بچ سکیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس