Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سوشلزم،سیکولرازم، لبرل ازم کو شکست ہو چکی، اسلامی نظام کے علاوہ سارے نظام با طل ہیں


فیصل آباد4 دسمبر2018ء:اسلامی جمعیت طلبہ ڈویژن کی تین روزہ تربیت گاہ کی اختتامی تقریب سے جماعت اسلامی کے رہنمائوں چوہدری یعقوب، عمیر فاروق ، سابق ڈائریکٹرکالجزرانامنور،ناظم ڈویژن یاسراقبال کھاراوردیگرذمہ دارانے خطاب کیا، اختتام پر تربیت گاہ کے انتظامی عہدیداران اوردیگرمیں شیلڈز تقسیم کی گئیں،اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناظم ڈویژن محمدیاسراقبال کھارانے کہاکہ سوشلزم،سیکولرازم، لبرل ازم کو شکست ہو چکی ہے،سوائے اسلامی نظام کے سارے نظام با طل ہیں،انہوں نے کہا کہ دنیا کومزید کسی نئے نظام کی ضرورت نہیں ہے،وقت نے ثابت کیا کہ قرآن جو اللہ کی کتاب ہے یہی آخری نظام ہے جس کے ذریعے انسان کی بھلائی کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔تربیت گاہ کا مقصد شرکاء میں دین کے مختلف معاملات اور دین سے کام سے متعلق آگاہی دینا تھا۔یہ تربیت گاہ ہر سال طلبہ کی ذہنی اورفکر ی نشونما کیلئے منعقد کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ طلبہ اللہ سے تعلق کو مضبوط کریں اور معاشرے اور بالخصوص طالب علموں میں اللہ کے دین کی اشاعت کیلئے کام کریں۔دین کو پھیلانا کسی بھی دور میں آسان نہیں رہا ہے اور ہر دور میں دین کو پھیلاتے وقت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔لیکن ان مشکلات سے گھبرانے اور پریشان ہونے کی بجائے قرآن سے رہنمائی حاصل کریں۔جمعیت کا بنیادی کام دعوت دین کا کام ہے اور جب تک دعوت حق اس ارض پاک کے کونے کونے میں نہ پھیل جائے،کارکنان اس کام کو جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ فتح ونصرت اور مقصد کی کامیابی سمیت تمام نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں ہمارا کام صرف کوشش کرنا ہے اور اس کوشش میں جتنا خلوص ہوگا اتنا ہی کام میں آسانی اور مثبت نتائج آئیں گے آج اس تربیت گاہ سے یہ عزم لے کر اپنے گھروں کو واپس جائیں کہ دعوت دین کی اشاعت کیلئے ہر حلقہ میں دعوتی سرگرمیاں بڑھائیںگے اور ساتھ ہی ساتھ طلبہ سے روابط کو بھی استوارکریں گے اورشہر بھر کی ہر گلی میں اللہ کے پیغام اور جمعیت کی دعوت کو پہنچایا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ جمعیت ہی وہ واحدطلبہ تنظیم ہے جو پورے پاکستان کے نوجوانوں کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کر رہی ہے۔ جمعیت نے ہمیشہ معاشرے میں اخوت،برداشت، رواداری کا درس دیا ہے اور مخالفین کو دلیل اور منظق سے جواب دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان قرآن اور سنت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے معاشرے کی قیادت کریں،معاشرہ بحیثیت مجموعی انتشار کا شکار ہے اور اس گومگوں کی کشمکش سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ قرآن اور سنت سے ہی روزمرہ کے معاملات کی رہنمائی لی جا سکے آپ طلبہ خوش قسمت ہیں کہ اس معاشرے میں جمعیت کی اجتماعیت کا حصہ ہیں اور اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس