Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جب تجاوزات بن رہی تھیں تب بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں تھی ۔ سیف الدین ایڈوکیٹ


کراچی ؍یکم دسمبر2018ء:جماعت اسلامی کے تحت کے ایم سی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے آپریشن کے متاثرین کی بحالی اور ان کے شہری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ’’شہری ایکشن کمیٹی ‘‘ کے سربراہ اور صدر پبلک ایڈ کمیٹی سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران شہریوں ، تاجروں اور دکانداروں کو سزا مل رہی ہے ان کے کاروبار اور املاک تباہ کی جارہی ہیں لیکن جن لوگوں نے یہ تعمیرات قائم کرنے کی اجازت اور تحفظ دیا تھا ان کو کیا سزا مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں پورے شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے ۔ دکانیں ، مارکیٹیں ، روزگار تباہ کر دیئے گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ تجاوزات تعمیر کی جارہی تھیں ، رہائشی علاقوں میں تجارتی اور کاروباری سر گرمیاں شروع کی جارہی تھیں اس وقت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور اس کے کرتا دھرتا کہاں تھے ۔ ؟ جب چائنا کٹنگ کی جارہی تھی ،پلاٹوں پر قبضے ہو رہے تھے ، سرکاری اراضی اور میدانوں و پارکوں کو گھیرا جا رہا تھا اس وقت یہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کیا کر رہی تھی اور اس نے کیوں خاموشی اختیار کی ہوئی تھی ۔ اس وقت اس اتھارٹی نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا اور کوئی کارروائی کیوں نہیں کی ۔ ؟ جن علاقوں میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے لوگوں کو اجازت نامے دیے آج ان اجازت دینے والے اہلکاروں اور افسران کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے ہے لیکن جن مارکیٹوں اور دکانوں کے کاغذات اور قانونی دستاویزات موجود ہیں اور جو لوگ باقاعدہ کرائے ادا کر رہے تھے ان سے بھی ان کی جگہیں خالی کرائی جا رہی ہیں اور کسی بھی قسم کی قانونی دستاویزات کو تسلیم نہیں کیا جا رہا جو سراسر ظلم و زیادتی ہے ۔ جماعت اسلامی مظلوموں اور متاثرین کے ساتھ ہے ان کے جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کی جدو جہد جاری رکھے گی ۔ اس سلسلے میں 5دسمبر کو سوک سینٹر پرایک احتجاجی دھرنا دیا جائے گا جس میں ہر طرح کے متاثرین بڑی تعداد میں شریک ہوں گے اور متاثرین کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس