Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ہمارا خاندانی نظام مغرب کا ہدف ہے اور وہ اس پر کاری ضرب لگا چکا ہے۔ اسلامک یوتھ کانفرنس طالبات


کراچی26نومبر2018ء:اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کے زیر اہتمام پہلی اسلامک یوتھ کانفرنس برائے طالبات کا کراچی کے مقامی ہوٹل میں انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں 10 سے زائد مہمان اسلامی تنظیموں کی شرکت ہوئی۔ کانفرنس میں شریک مہمان خواتین کا کہنا تھا کہ خاندانی نظام کی اہمیت سے صرف نظر ممکن نہیں، بچوں اور والدین کے درمیان فاصلہ برے اثرات مرتب کر رہا ہے،160اگر زندگی بعدالموت کا تصور ختم ہوجائے تو نا انصافی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیب لیٹس اور انٹرنیٹ کا منفی استعمال ہمارے خاندانی نظام کو متاثر کر رہے، یہ کانفرنس پاکستان میں طالبات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی پہلی کانفرنس ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور یہ طالبات کی تربیت کا بہترین اور مؤ ثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔کانفرنس سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی جنرل سیکریٹری دردانہ صدیقی ، الہدیٰ انٹرنیشنل کی رہنما اور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کنول قیصر، اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کی ناظمہ اعلیٰ عائشہ فہیم ،ماہر نفسات ماہ رخ اختر،160یوتھ کلب کی رکن مس ماہم، نیہا مبین اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ دردانہ صدیقی نے کہا کہ مغرب کا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ چکا اور مغرب چاہتا ہے کہ مسلم ممالک میں بھی خاندانی نظام ختم ہوجائے،انہوں نے امید اور توقع ظاہر کی کہ امت کی یہ قابل فخر بیٹیاں اتحاد و یگانگت کے ساتھ آنے والے وقت میں اسلام کی بہترین پشتیبان ثابت ہوں اور یہ کانفرنس اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سنگ میل بنے۔ ڈاکٹر کنول قیصر نے کہا کہ خاندانی نظام کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، والدین اور بچوں کے تعلقات کے درمیان بڑھتاہوا فاصلہ بچوں پر برے اثرات مرتب کرتا ہے، ہمارا خاندانی نظام مغرب کا ہدف ہے اور وہ اس پر کاری ضرب لگا چکا ہے، بچوں کا والدین اور والدین کا بچوں پر اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیب لیٹس اور انٹرنیٹ کا منفی استعمال ہمارے خاندانی نظام کو متاثر کر رہے، عائشہ فہیم نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان میں طالبات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی پہلی کانفرنس ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور یہ طالبات کی تربیت کا ایک بہترین اور مؤ ثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ160یہ کانفرنس نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر تعاون کا ایک ذریعہ ہے، کانفرنس کا مقصد نوجوان طالبات کی دینی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا اور مل کر بدلتی دنیا میں درپیش چیلنجوں کا حل نکالنا ہے۔ کانفرنس طالبات کے مسائل کے حل اور نوجوان طالبات کی دینی تنظیمات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔جماعت اسلامی یوتھ خواتین ونگ کی رہنما اور ماہر نفسات ماہ رخ اختر نے کہا کہ اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں توازن پیدا کرنے اور ترجیحات کا درست تعین کرنے سے بہت سے مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے،160یوتھ کلب کی رکن مس ماہم نے کہا کہ کائنات کی تخلیق,خالق کی موجودگی کی دلیل ہے اور اگر زندگی بعدالموت کا تصور نہ ہو تو یہ نا انصافی جیسے مسائل پیدا ہو تے ہیں ۔ نیہا مبین نے کہا کہ ہمارے روز مرہ معاملات میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ مختلف الرائے ہونا غلط نہیں ھے۔ رائے کا تصادم خطرناک ھوتا ھے۔ دین کسی پر بھی اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس