Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

نظام مصطفیٰ میں آج بھی دنیا کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ دردانہ صدیقی


کراچی ؍20 نومبر2018ء: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسانی عظمت و فلاح کے سب سے بڑے نقیب تھے اور ان کے لائے ہوئے نظام میں آج بھی دنیا بھر کے مسائل اور مشکلات کا حل موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل محترمہ دردانہ صدیقی نے 12 ربیع الاول کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور ان کی سیرت پوری امت کے لیے مشعل راہ اور دنیا میں بسنے والا ہر کلمہ گو اپنے نبی کی حر مت پر مر مٹنے کو تیار ہے افسوس کہ آج اغیار کی سازشوں اور اپنوں کی نا عاقبت اندیشیوں نے امت کو تقسیم کر دیا ہے لہذا امت کی نجات کا واحد راستہ سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت میں پوشیدہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی، تمدنی،ملکی، سیاسی، مالی و فوجداری قوانین کا ہمہ پہلو فارمولہ ایسے نازک وقت میں دنیا کے سامنے پیش کیا جب کہ ہر طرف تاریکی و جہالت کی حکمرانی تھی پھر تاریخ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں اللہ کی بندگی کا یہ پیغام ایک جاہلانہ معاشرے کے لئے فلاح و امن کا پیغام بن گیا۔دردانہ صدیقی نے کہا کہ آج باطل قوتیں اکٹھا ہو کر دہشت گردی کی آڑ میں امت مسلمہ کے تعاقب میں ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کو مسلمان ہونے کی پاداش میں رسوا کیا جا رہا ہے۔ عالم کفر، امت مسلمہ کو غلامی کے شکنجے میں جکڑنا چاہتا ہے، ایسے میں سوز و عشق سے سرشار محبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نبی کے پیغام کو دنیا میں عام کر کے اور اپنی زندگیاں اسوہ حسنہ کی روشنی میں ڈھال کر وہ انقلاب لا سکتے ہیں جو انسانیت کو ظلمت و بربادی سے نجات دینے والا اور عام آدمی کو عزت و شرف بخشنے والا ہو۔انہوں نے کہا کہ اللہ کی رضا کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو رہنما بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے صراط مستقیم سے روشناس کرایا جائے .مدینے جیسی اسلامی و فلاحی ریاست ہی حقیقی تبدیلی لاسکتی ہے حکمران عوام سے کیاگیا وعدہ پورا کریں اور پاکستان میں نبی آخرالزماں کا لایا ہوا نظام نافذ کریں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس