Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو بدلنے یاآئین میں موجود اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم مزاحمت کرے گی۔ سینیٹر سراج الحق


لاہور8نومبر2018ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے قیام پاکستان سے اب تک ایک ہی نظریے اور کلاس کے لوگ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہیں۔ یہی لوگ پارٹیاں اور جھنڈے بدل بدل کر کبھی ایک ، کبھی دوسری اور کبھی تیسری پارٹی میں ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ قرضے کہاں کہاں سے لیے مگر یہ نہیں بتاتے کہ یہ قرضے خرچ کہاں ہوئے اس لیے موجودہ حکومت کو ایک ایک چیز کا حساب رکھنا ہوگا۔ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو بدلنے یاآئین میں موجود اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم مزاحمت کرے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے تحریک ناموس رسالت کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے منصورہ میں منعقدہ مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں صوبائی امراءنے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں طے پایا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام آدمی تک پہنچانے ، حرمت رسول اور ختم نبوت کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ملک میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کے لیے تحریک ناموس رسالت کے زیراہتمام اسلام آباد ، لاہور ، ملتان پشاو ر اور کوئٹہ سمیت ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ماہ ربیع الاول میں جلسے ہوں گے جن میں تمام دینی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قرضوں کی بنیاد پر آج تک کسی ملک نے ترقی نہیں کی ۔ اگر قرضوں کی بنیاد پر ترقی ہوتی تو دنیا میں سب سے زیادہ قرضے لینے والے افریقی ممالک ترقی یافتہ اور خوشحال ہوچکے ہوتے ۔ جب تک معیشت درست نہیں ہوتی ، ملکی معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے ۔ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی معاشی میدان میں ہی نظر آتی ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملک پر ایک کھرب ڈالر کے قریب قرضہ چڑھ گیاہے ۔ قوم کا بال بال قرضوں میں جکڑا جاچکاہے مگر ملک سے غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ ریاست مظلوم کی وکالت کرے اور اسے تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں مہیا کی جائیں۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانوں نے خود انحصاری کا باعزت راستہ اپنایا ہوتا تو آج مشکل وقت میں غیروں کی طرف نہ دیکھنا پڑتا ۔ انہوں نے کہاکہ قرضوں کی معیشت سے ملک خوشحال نہیں ، کنگال ہوتے ہیں ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔ ایک ویلفیئر اسلامی ریاست اورمعاشرے کے قیام کے لیے قانون کی عمل داری ضروری ہے ۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ افراد مضبوط اور ادارے کمزور ہوتے ہیں ۔ یہاں عدالتوں سے لے کر تمام ا دارے افراد کے مفادات کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہتے ہیں ۔ ماضی میں بار بار یہی تجربہ ہوا ۔ اداروں کی کمزوری کی وجہ سے ہی جمہوریت مستحکم نہیں ہوسکی ۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد عام آدمی ریلیف کی توقع رکھتاتھا لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہورہاہے اور آسانیوں کی بجائے پریشانیاں بڑھ رہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ سیاست عام آدمی کے دکھوں اور پریشانیوں میں کمی لانے کا ذریعہ ہے مگر جب سیاست اغراض کے گرد گھومنے لگے تو عام آدمی کو بھی ریلیف نہیں ملتا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس