Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آسیہ کی رہائی کا عدالتی فیصلہ مسترد ،کراچی سے چترال تک تحریک حرمت رسول ؐ چلائیں گے۔ سینیٹرسراج الحق کا اعلان


کراچی ؍04جولائی ( )جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کراچی سے خیبر اور چترال تک جماعت اسلامی کے تحت تحریک حرمت رسولؐ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حرمت رسولؐ کی حفاظت کی جدوجہد میں خون کا آخری قطرہ تک قربان کردیں گے ، حرمت رسولؐ پر ہرگز کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ، گستاخ رسولؐ آسیہ کی رہائی کے عدالتی فیصلے نے امریکہ ،مغرب ،یورپ اور یہودیوں کو خوش کیا ہے ،اسلام اور مسلمانوں کو دکھ اور صدمے سے دوچار کیا ہے ، آج کا یہ عظیم الشان ’’حرمت رسولؐ ‘‘ مارچ اس عدالتی فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اس حوالے سے فوری طورپر اپنی پوزیشن واضح کرے اور یہ بھی واضح کرے کہ ملعونہ آسیہ پاکستان میں موجود ہے یا اسے ملک سے فرار کرادیا گیا ہے ، مولانا سمیع الحق نے بھی اپنی زندگی میں ہی آسیہ کے رہائی کے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیاتو یہ حکومت نہیں رہے گی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ملعونہ آسیہ کے رہائی کے عدالتی فیصلے کے خلاف مین یونیورسٹی روڈ مسجد بیت المکرم تا حسن اسکوائر پر کیے جانے والے عظیم الشان ’’حرمت رسولؐ مارچ ‘‘کے شرکاء سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو، نومنتخب امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امراء کراچی ڈاکٹراسامہ رضی ، محمد اسلام ، امیر ضلع شرقی یونس بارائی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مارچ میں مولانا سمیع الحق کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واردات کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی تحقیقات کی جائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزادی جائے۔ سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ عشق رسول ؐ کا تقاضہ ہے کہ خود کو رسول پاک ؐ کی زندگی اور تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے اور اس ملک میں نظام مصطفیؐ اور شریعت محمد ی ؐ کے نفاذ کو یقینی بنانے کی جدوجہد کی جائے ،ملک میں ایسا نظام لایا جائے جو حرمت رسولؐ اور ناموس مصطفی ؐ کا محافظ ہو ، انہوں نے کہاکہ اگر کوئی ناموس مصطفیؐ کی توہین کرے اور مصطفی ؐ کے امتی ہونے کی حیثیت سے ہم خاموش رہیں تو ہماری ایسی زندگی کسی کام کی نہیں ، آج کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ حرمت رسولؐ کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ آسیہ کی پھانسی کی سزا سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی جاچکی تھی اور ملعونہ آسیہ نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کو نظر انداز کردیا ، انہوں نے کہا کہ آج میں کراچی کے عوا م کی جانب سے اس عظیم الشان مارچ کے انعقاد پر ان کو سلام پیش کرتا ہو ں، عوام نے ثابت کردیا ہے کہ ان کے دلوں کے اندر نور مصطفی ؐ اور عشق مصطفیؐ موجود ہے ، کراچی ہمیشہ اہم اور قومی اورملی تحریکوں کا مرکز رہا ہے ، آج ہم کراچی کے اندر سے ہی تحریک حرمت رسول ؐ کا اعلا ن کرتے ہیں ، اس تحریک میں ملک کے ہر گوشے ،کوچے ، بستی ، قصبے اور شہر میں حرمت رسولؐ کی مہم چلائیں گے۔ا نہوں نے کہاکہ ناموس مصطفیؐ کا معاملہ ووٹ لینے یا سیاسی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ جنت کے حصول کا معاملہ اور حق وباطل کا معرکہ ہے جو قیامت تک جاری رہے گا ، جو توہین رسالت ؐ کا ارتکاب کرتے ہیں اور جو ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں وہ باطل کے ساتھ ہیں ، نبی کریم ؐ نے بھی فتح مکہ کے موقع پر تمام افراد کے لیے معافی کا اعلان کردیا تھا لیکن شان رسالت ؐ میں گستاخی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ ملعونہ آسیہ کی رہائی کے فیصلے کا مغر ب اور یورپ کے اندر خیر مقدم کیا گیا ہے ، برطانیہ نے اس فیصلے کو اپنی کامیابی قراردیا ہے ، سپریم کورٹ کے فیصلے نے امریکہ ، برطانیہ ، مغرب اور یورپ کو خوش کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے معاہدے کو وقت کا بہترین حل قراردیا ہے او رکہا ہے کہ اس طرح کے احتجاج اور دھرنے کا کوئی علاج کرنا پڑے گا ، ہم ان سے کہتے ہیں کہ آپ سے قبل بھی بہت سے آئے اور چلے گئے ، ناموس مصطفی ؐ کے تحفظ کی جدوجہد جہاد ہے اور جاری رہے گا ، پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا اور اسی بنیاد پر قائم و دائم رہے گا ، پاکستان ایک نظریے ، عقیدے اور لازوال قربانیوں کا نام ہے اگر کوئی اسے اس کے مقصد وجود سے دورکرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے ہماری جنگ ہوگی ۔اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ میڈیا پر احتجاج دکھایا جائے یا نہ دکھایا جائے عوام کا احتجاج اور تحفظ ناموس رسالتؐ کی جدوجہد جاری رکھیں گے ،ہم میڈیا کے لیے نہیں سرکار مدینہ کے غلام اور عاشق کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کرنے کے لیے نکلے ہیں ۔سپریم کورٹ کے جج نے ایک جج کی حیثیت سے نہیں بلکہ ملعونہ آسیہ کے وکیل کی حیثیت سے کردار اداکیاہے ۔اس معاملہ پر پی پی ، پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ن)ایک ہیں اور عاشقان مصطفی ؐ کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے گستاخوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، یہ سب امریکہ اورمغرب کے غلام ہیں ۔ہم حکومت یا ریاست سے ٹکرانے کے لیے نہیں نکلے ہیں بلکہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں اور عاشقان مصطفی ؐ کا اعلان ہے کہ گستاخ نبیؐ کی صرف اور صرف ایک سزا ہے اور وہ سر تن سے جدا کرنے کی سزا ہے ۔محمد حسین محنتی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے گستاخ رسولؐ جس کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنادیا گیا تھا اس کو رہائی کا فیصلہ سنایا جبکہ ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ دیا تھا جس نے شانِ رسالت پر جان قربان کردی ۔ اس وقت بھی میڈیا پر پابندی لگائی گئی اور میڈیا پر اس کے جنازے کی خبر اورمجمع نہیں دکھایا اور اس طرح آج بھی آسیہ کی رہائی کے خلاف اور عدالتی فیصلے کے خلاف عوامی جذبات کو میڈیا پر نہیں دکھایا جارہا ۔ہم اعلان کرتے ہیں کہ آسیہ کی رہائی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔حکومت ہمارے ادارے اور سپریم کورٹ عوام کے احساسات و جذبات کے مطابق فیصلہ کریں گے ،عدالتی فیصلہ کسی بھی طرح درست نہیں ہے ،سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے اس پھانسی کی سزا دی تھی لیکن سپریم کورٹ نے نظر انداز کر کے ملعونہ آسیہ کو رہا کردیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ عظیم الشان احتجاج پر امن مارچ منعقد کیا گیا ہے ، آج کراچی کے عوا م نے اعلان کیا ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ شروع ہوا ہے ، امریکہ مغرب کی سرپرستی میں سیکولر و لبرل عناصر کی سازشو ں کو بے نقاب کریں گے اور اس ٹولے کو شکست سے دوچار کریں گے ۔ناموس رسالتؐ پر اگر کوئی نظر ڈالے گا تو اس کا سر تن سے جدا کرنا ہوگا۔ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ، ہم بھی قانونی جنگ لڑیں گے ،سڑکوں پر بھی نکلیں گے اور ناموس رسالت ؐ پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ، حرمت رسولؐ تجارت کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا معاملہ ہے ،آگ سے نہ کھیلو اور سپریم کورٹ اس فیصلے کو واپس لو۔ انہوں نے کہاکہ آج سازشیں کی جارہی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں ،مقدمے میں گواہان کے بیان کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم آئین کے اندر توہین رسالتؐ کے قانون کو ہر گز ختم یا بے اثر نہیں ہونے دیں گے اور اس معاملے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کریں گے ۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس