Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عوام سے حقائق چھپانا صحافت نہیں ہے ،میڈیا کی جانب سے یک طرفہ رپورٹنگ آزادی صحافت کا خون ہے ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍02نومبر2018ء:جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ملعونہ آسیہ کے عدالتی فیصلے کے خلاف اتوار کے روز دوپہر 3بجے بیت المکرم تا حسن اسکوائر ’’حرمت رسولؐ ‘‘مارچ ہوگا ، عاشقان رسولؐ کسی بھی صورت نبی ؐ کی شان میں آنچ نہیں آنے دیں گے، امریکہ اور مغرب کی خوشنودی کے لیے ملعونہ آسیہ کی رہائی کسی صورت منظور نہیں ، عدالت کو اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا،ملعونہ آسیہ کی رہائی اور اسے ملک سے فرار کرانے کی سازش اور کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی، ممتاز قادری کی پھانسی کی طرح آج آسیہ کی رہائی کے خلاف عوامی احتجاج کو کیوں میڈیا پر دکھایا نہیں جارہا ،میڈیا کی خاموشی ختم ہونی چاہیئے۔ کراچی میں ڈھائی سو انسانوں کو زندہ جلا دیا گیا سپریم کورٹ کو سوموٹو نظر نہیں آتا،عوام سے حقائق چھپانا صحافت نہیں ہے ،میڈیا کی جانب سے یک طرفہ رپورٹنگ آزادی صحافت کا خون ہے ،ملعونہ آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے ٗحکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف خود نظر ثانی کی اپیل کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آسیہ کی رہائی کے فیصلے کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں جامع مسجد نعمان (لسبیلہ چوک) پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جبکہ شہر بھر میں درجنوں مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرے میں عاشقان رسولؐ کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور شدید نعرے بھی لگائے گئے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ بحیثیت مسلمان نبیؐ کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے ، جماعت اسلامی سڑکوں پر تشدد کی حامی نہیں ہے ، لیکن توہین رسالت کیس کا حل آئین اور قانون کے عین مطابق چاہتے ہیں ، پنچائیت ، سیشن اور دیگر عدالتوں میں ملعونہ نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا ، لیکن سپریم کورٹ نے گواہوں کے بیان میں صرف تعداد کے فرق کو بنیاد بنا کر اسے رہا کر دیا ، شرکاء کی تعداد میں اختلاف کوئی بڑی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان صاحب رہائی کے خلاف احتجاج کرنے والاطبقہ چھوٹا سا نہیں ، آپ جس ٹولے کی خوشنودی کے لئے فیصلے کی تائید کر رہے ہیں وہ چھوٹا سا طبقہ ہے ، عوام آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ، وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں ، برسر اقتدار چھوٹے سے طبقہ کے یا پھر عوام کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ اور ریاستی اداروں میں قادیانی لابی موجود ہے، آسیہ کا کیس ہو یا پھر شہید ممتاز قادری پوری میڈیا پر بلیک آؤٹ کر دیا جاتا ہے ، ہم تمام احتجاج کرنے والوں کی حمایت کرتے ہیں ، لیکن قانون کوہاتھ میں لینے کے خلاف ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے والے رسول ؐکے امتی ہیں ٗرسول کی ناموس پر گستاخی برداشت نہیں کی جائے گی ، قادیانی لابی ہر جگہ قابض ہو چکی ہے ، یہ ہمارے دلوں سے رسول کی حرمت کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ہمارے دلوں میں بنی کی حرمت کبھی بھی ختم نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ امریکا ، برطانیہ ، یورپ ، لبرل اور سیکولر قوتیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ مسلمان شان رسالت ؐ پر گستاخی کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے ، حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینا چاہیئے ، چند ڈالروں اور پیسوں کے عوض دینی وملی غیرت و حمیت کو فروخت نہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ میں 259 لوگ مارے گئے ، لیکن عدلیہ نے کوئی ایکشن نہیں لیا ، کوئی سوموٹو نہیں لیا ، کیونکہ اس سانحہ کے پس پشت اس وقت کی حکومت میں موجود پارٹی کا ہاتھ تھا ، لیکن عدلیہ چھوٹی موٹی وارداتوں میں ملوث مجرموں کو 10 سے 15 برس تک قید رکھتی ہے ،کیس کا فیصلہ اتنی جلدی دینا اور اسے رہا کرنے کا مقصد مغرب کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس