Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کرپٹ عناصر کالادھن چھپانے کے لیے عوامی اکاؤنٹس استعمال کررہے ہیں


لاہور10  اکتوبر2018ء:امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے 35ارب روپے کے بے نامی اکاؤنٹس کی نشاندہی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ کرپٹ عناصر بینک افسروں کی ملی بھگت سے کالے دھن کو چھپانے کے لیے کروڑوں روپے عام افراد کے اکاؤنٹس میں منتقل کررہے ہیں،اس حوالے سے آئے روزکوئی نہ کوئی چونکا دینے والی خبر میڈیا میں آرہی ہے۔یہ ایک انتہائی مضبوط مافیا ہے جس کے خلاف سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں کرپشن کی انتہاہوچکی ہے۔روزانہ12ارب روپے کی کرپشن لمحہ فکریہ ہے۔ملک وقوم کو لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے ان کومنطقی انجام تک پہنچایاجاناچاہئے۔اگر موجودہ حکومت بدعنوان افراد کا قلع قمع کرتے ہوئے کرپشن کو مکمل طورپر روک لے توملک میں خوشحالی آسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے انسداد کرپشن کے اداروں کے اندر بھی کرپٹ عناصر موجود ہیں اور وہی قانونی کمزوریوں کافائدہ اٹھاتے ہوئے مجرمان کو فرار کی راہ دکھاتے ہیں۔ایسی کالی بھیڑوں کو بھی گرفت میں لانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ملک وقوم اس وقت مختلف چیلنجزکاسامنا کررہے ہیں۔اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت خوری کابازار گرم ہے۔عوام کو اپنے جائز کام کروانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔کرپٹ افسران کی لوٹ مار کی وجہ سے سرکاری اداروں کا بہت ہی براحال ہے۔عوام کو تنگ کرنے اور رشوت لینے کے لیے چندگھنٹوں کے کام پر کئی کئی دن اورہفتے لگادیئے جاتے ہیں،ان پر چیک اینڈ بیلنس کاکوئی سسٹم موجود نہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان قوم سے کیے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل کریں۔ان کے پاس اب حکومت بھی ہے اوراختیارات بھی ۔حکومتی وزراء اپنی کارکردگی کو موثر بنائیں تب ہی جاکر سسٹم میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت کواب تقریبا دوماہ ہوچکے ہیں مگر عوامی توقعات ابھی تک پوری نہیں ہوسکیں بلکہ اس کے برعکس لوگوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔امیر العظیم نے مزیدکہاکہ وزیراعظم عمران خان نے 2018کے الیکشن سے قبل قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں حقیقی تبدیلی لائیں گے اور غریب عوام کوریلیف فراہم کیا جائے گا،مگر گزشتہ دو ماہ میں ٹیکسوں کی بھرمار،مہنگائی اور غربت کے علاوہ پاکستانی عوام کو کچھ نہیں ملا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس