Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حکومت بیرونی دباؤ پر دینی مدارس سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے وگرنہ بڑی مشکلات پیداہوں گی۔لیاقت بلوچ


لاہور9؍اکتوبر 2018ء :جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے اسلام آباد میں ایم ایم اے کی قومی مشاورتی کونسل ، تحریک دفاع حرمین شریفین اور ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کی اور دفتر جماعت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان حکومت ایک مرتبہ پھر قوم کو آئی ایم ایف کے شکنجے میں دے رہی ہے ۔ ماضی میں بھی حکومتیں وقتی ریلیف کے لیے عوام کا سود ا کرتی رہی ہیں ، وزیراعظم عمران خان نے بھی اسی غلطی کو دوہرایا ہے ، نتیجہ بھی ماضی کی طرح عوام کے حق میں نہیں ہوگا ۔ آئی ایم ایف کی تازہ شرائط گیس ، بجلی ، پانی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرائیں گی اور عوام پر مہنگائی کی بمباری ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ سود ، کرپشن ، غلط کاریوں کا خاتمہ اور خود انحصاری اختیار کی جائے ۔ وزیراعظم اور وزراء کا طرز بیان سیاسی ، پارلیمانی اور جمہوری عمل کے لیے خطرناک ہے ۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے ۔ حکومت عدلیہ ، نیب اور ریاستی اداروں کی مالک نہ بنے ، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کو اپنے اپنے دائروں میں کام کرنے دیا جائے ۔ 
لیاقت بلوچ نے کہاکہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں ۔ دینی مدارس ملت اسلامیہ کے لیے عظیم نعمت اور شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ حکومت مشرف ، نواز اور زرداری دور کی طرح بیرونی دباؤ پر دینی مدارس سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے وگرنہ یہ کھیل حکومت کے لیے بڑی مشکلات کا باعث ہوگا ۔ تمام دینی جماعتیں اسلامی قوانین ، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ قوانین کی حفاظت کریں گی اسے ختم یا غیر موثر کرنے کی ہر کاروائی ناکام بنادی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتیں عالمی استعماری ، مغربی دباؤ پر عوام کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ بند کردیں ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس