Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

حکومت کشمیر سے متعلق پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے،27اکتوبر کوکشمیر مارچ ہوگا ۔سراج الحق


اسلام آباد9 اکتوبر2018ء:جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسینیٹر سراج الحق نے 27اکتوبر 1947ء کوکشمیر پر بھارتی قبضہ کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر اسلام آباد میںاحتجاجی کشمیرمارچ کا اعلان کر دیا، عوام سے بھارتی جارحانہ عزائم کے خلاف 27اکتوبر کو سڑکوں پر آنے کی اپیل ہے موجودہ حکومت کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی کے بارے میں پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں۔اقوام متحدہ میں کسی تقریر یا کانفرنس سے مسئلہ کشمیر میں پیش رفت نہیں ہو سکتی تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے ہر جائز طریقے اختیار کرنا ہوگا،کشمیر نہ ہوتا تو اسلام آباد منگلا ڈیم اور کہوٹہ نہ بنتے، خشک اور بنجر ہوتے کھیتوں کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوجائے گا کہ جمو ںو کشمیر کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت ہے ،مسئلہ کشمیر کو سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیںگے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرسیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ،نائب امیر میاں محمداسلم،نائب امیرجماعت اسلامی اسداللہ بھٹو،نائب امیرجماعت اسلامی آزاد کشمیر نورالباری،امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ چوہدری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 27 اکتوبر کو بڑا’’ کشمیر مارچ‘‘ ہوگا۔عالمی سطح اور حکومت کی توجہ کشمیر کے حل کی موثر پالیسی کی طرف دلوائیں گے۔5لاکھ سے زیادہ شہید ہوچکے ہیں۔آج تک کشمیری عوام پاکستان سے الحاق و آزادی کے لئے مصروف ہیں ،کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہ ہو سکا جب کہ جنوبی سوڈان مشرقی تیمور پر قرارداد پر عمل کروانے کے لئے سب اکھٹے ہوجاتے ہیں۔قائد اعظم کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان پر فائرنگ انڈیا سے متعلق پاکستان کو کمزور پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان کی خوشاحالی و سا  لمیت کشمیر سے وابستہ ہے کشمیر کی آزادی کے حوالے سے پاکستان کی حکومتوں نے موثر کردار ادانہیں کیا برائے نام کشمیر کمیٹی نہیں ہونی چائیے،بلکہ کشمیر کے حوالے سے بجٹ اور روڈ میپ بنایا جائے آزادی کے بیس کیمپ کا فعال کردار ہونا چاہیے انڈین آرمی چیف کی دھمکی گیدڑ بھبکی ہیں آج جوہری توانائی کا حامل پاکستان کی سا  لمیت پر پوری قوم یکجا ہے۔قائدین حریت سیدعلی شاہ گیلانی،شبیر شاہ،میرواعظ عمرفاروق،یاسین ملک،آسیہ اندرابی،ڈاکٹر قاسم فکتوسمیت حریت پسندعوام کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایسے مذاکرات جس میں کشمیری شامل نہ ہوں وہ پائیدار نہیں ہوسکتے کشمیری ایسے مذاکرات کو نہیں مانتے۔ زلزلہ متاثرین کے فنڈز کا حساب کتاب لیا جائے دس سال گزرنے کے باوجود منصوبے مکمل کیوں نہیں۔ زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں کرپشن کرنے والوں کا احتساب کیا جائے،کشمیر پر کوئی جاندار تقریر یا کانفرنس کافی نہیںمستقل لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔27اکتوبر1947 کو کشمیر پر بھارتی قبضہ کا پس منظر آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیری عوام ہر سال27اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔قیام پاکستان کے بعدسے تقسیم بر صغیر کے مروجہ اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر جس میں لداخ اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں فوج کشی کی تھی۔جس طرح پاکستان مسلم اکثریت کی بنیاد پر وجود میں آیا،اسی اصول کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو 1947 میںپاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا لیکن ہندو اور انگریزوں کی سازش کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان میں شامل ہونے میں رکاوٹ ڈالی گئی اور جموں و کشمیر کا سازش کے ذریعے بھارت سے جعلی الحاق کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی تھی،بانی پاکستان نے اسے شہ رگ قرار دیا تھا جبکہ کشمیریوں نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انگریز اور ہندو ہر صورت شہ رگ کو کاٹ کر پاکستان کو بے دست وپا کرنا چاہتے تھے۔برطانوی مصنف الیسٹر لیمب کا کہنا ہے کہ ریاست کے بھارت سے الحاق کی کوئی دستاویز موجود نہیں ہے۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ تمام تر بین الاقوامی قوانین کو پائمال کرتے ہوئے27اکتوبر کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی،ریاست پر بہت ہی بھرپور،منظم اور سخت حملہ کیا۔بھارتی فوج نے انتہاپسند ہندئوںکی مدد سے 3 لاکھ مسلمان شہید کر دیئے اور5 لاکھ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا۔ریاست جموں و کشمیر کی 80 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے الحاق پاکستان میں لیت و لعل دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے موجودہ علاقے میں جدوجہد شروع ہوچکی تھی۔جواہر لعل نہرو بھاگم بھاگ سلامتی کونسل پہنچا تھااور وہاں جنگ بندی کی دہائی دی تھی۔نہرو کی دہائی پرجنگ بندی تو ہو گئی لیکن اس وقت تک مجاہدین ریاست جموں کشمیرکا33958مربع میل علاقہ آزاد کروا چکے تھے۔ریاست کے ایک حصے آزاد کشمیر کی آزادی کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے لوگوں نے لڑ کر آزادی حاصل کر لی تھی۔اگر آج جغرافیائی طو رپر پاکستان کا جائزہ لیا جائے،اسلام آباد اورکہوٹہ کے نقشے پر نگاہ ڈالی جائے،پاکستان کے خشک اور بنجر ہوتے کھیتوں کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوجائے گا کہ جمو ںو کشمیر کی پاکستان کے لئے کیا اہمیت ہے۔اس بات کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے کہ اگر جموںو کشمیر کا33958مربع میل علاقہ آزاد نہ ہوا ہوتا تو پاکستان کا نقشہ کیا ہوتا؟تب بھارتی فوجی کوہالہ پل پر بیٹھے پاکستان میں جھانک رہے ہوتے۔اسلام آباد میںدارالحکومت موجودہ جگہ بن پاتا اور نہ ایٹمی پاکستان ہوتا۔اسی طرح پاکستان پانی اور بجلی کی پیداوارکے دوسرے اہم ترین منگلا ڈیم سے بھی محروم ہو جاتا۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اس مسئلے کا حل وہاں امن قائم کر کے رائے شماری کرانے کی قرارداد منظور کی جسے بھارت نے بھی قبول کیا مگر آج 70برس گزرنے کے باوجود بھارت مختلف حیلے بہانوں سے اس سے انکار کرتا چلا آ رہا ہے اور اب تو ڈھٹائی سے بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ کہتا ہے۔اس اٹوٹ انگ میں بسنے والے ایک کروڑ کشمیری بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف گذشتہ70سالوں سے نبردآزما ہیں۔اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کشمیری بھارتی غاصب افواج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں مگر کشمیر میں بھارت سے آزادی کی تحریک ختم نہیں ہو سکی یہ اب بھی جاری ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازعہ تین جنگوں کا باعث بن چکا ہے۔سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آج بھی کنٹرول لائن پر عملاًجنگی صورتحال جاری ہے۔بھارت کی طرف سے آئے روز جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔آزاد کشمیر پر بمباری سے روزانہ درجنوں سویلین شہید ہو رہے ہیں حتیٰ کہ چنددن قبل ایل او سی کے قریب وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر بھی فائرنگ کی،اللہ کا شکر ہے وہ محفوظ رہے۔ادھربھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے اور کشن گنگا سمیت بعض منصوبے پاکستان کو پانی سے محروم کررہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کے پانی کو روک کر اسے ایک صحرا میں تبدیل کرنے کی خواہش کو اگر عملی جامہ پہنایا گیا تو اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں بھی سیلاب کی صورتحال پیدا ہوجائے گی اور بھارت کے اس اقدام کے نتیجے میں ماحولیاتی تباہی پھیلے گی۔پاکستان دشمنی میں بھارت کاسندھ طاس کے بالائی علاقوں میں بڑے بڑے ڈیم بنا کر بجلی بنانے اور دریائے سندھ،جہلم اور چناب کا پانی روکنے کی کوشش کرنے کا عمل پورے خطے کی ماحولیات کو متاثر کرے گا۔مشترکہ پانی کے وسائل پر جاری دو طرفہ تعاون کو ناکام بنانے کی بھارتی کوشش اگر کامیاب ہوگئی تو یہ اقدام پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا،بھارت مقبوضہ کشمیر سے بہنے والے دریائوں پر جنگی بنیادوں پر غیر قانونی ڈیم تعمیر کر رہا ہے تاکہ جب چاہے پاکستان کو خشک سالی اور جب چاہے سیلاب کی صورتحال سے دوچار کر دے۔اسے معلوم ہے کہ کشمیر قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق پاکستان کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے وہ ہر صورت اسے وطن عزیز سے کاٹ کر رکھنا چاہتا ہے۔ان حالات میں جماعت اسلامی پاکستان نے اس دفعہ 27 اکتوبر کو یوم سیاہ بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قوم و ملت کو بھارت کے پاکستان کے خلاف عزائم کا پتہ چل سکے۔ اس سلسلے میں 27 اکتوبر کو دن ایک بجے آبپارہ چوک میں یوم سیاہ کا ایک بڑا پروگرام ہو گا جس میں بڑی تعداد میں شہری شرکت کریں گے۔ان پروگرامات کے ذریعے جماعت اسلامی پاکستان ملت اسلامیہ پاکستان کو کشمیر کاز کی اہمیت اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے کی طرف توجہ مبذول کرائے گی۔حکومت پاکستان کو کشمیر کاز کے تناظر میں نمائشی اقدامات سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر اس کے حقیقی تناظر میں پیش کیا جانا چاہئے۔ آزادکشمیر تحریک آزاد ی کشمیر کا بیس کیمپ ہے۔ بیس کیمپ کی حکومت کو بھی اب کردار ادا کرنا ہو گا۔مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہونگی۔ خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد 13سال مکمل ہو گئے ہیں۔آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں بڑی تعداد میں شہری شہید ہو گئے تھے جبکہ بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہوا تھا۔شہدائے زلزلہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ابھی بھی ان دونوں علاقوں میں بحالی اور تعمیرنو کے کام مکمل نہیں ہو سکے۔ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بحالی اور تعمیرنو کے کام مکمل کئے جائیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس