Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

حریم ادب کے تحت ساتویں رائٹرز کنونشن ایوارڈز کا انعقاد ، ادب سے وابستہ خواتین کی شر کت


کراچی /یکم اکتوبر2018ء:خواتین کی ادبی اور اصلاحی انجمن حریمِ ادب کے تحت ساتویں رائٹرز کنونشن ایوارڈزکا مقامی آڈیٹوریم میں انعقاد کیا گیا جس میں ادبی حلقوں کی معروف خواتین نے شرکت کی۔ تقریب سے معروف مصنفہ بلقیس کشفی ، دوشیذہ ڈائجسٹ کی مدیرہ منزہ سہام مرزا،معروف شاعرہ و اینکر پرسن عنبرین حسیب ،جسارت کے صفحہ خواتین کی مدیرہ غزالہ عزیز ، افسانہ نگار غزالہ ارشد ،ہاجرہ رحمن اور دیگر نے خطاب کیا ۔ تقریب میں ادب اور معاشرے کے تعلق پر مذاکرہ ’’اس جہاں کو قلم سے سنواریں گے ہم‘‘ میں شرکاء نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادب معاشرے کی راہیں متعین کرتا ہے۔ تحریر لکھاری کا عکس ہوتی ہے۔ معروف مصنفہ بلقیس کشفی نے قلمکار کی تحریری صلاحیت کو رب کا عطیہ ء خاص قرار دیا۔ انہوں نے مکالمے کی کمی کو نئی اور پرانی نسل کے درمیان فاصلہ بتایا۔دوشیذہ ڈائجسٹ کی مدیرہ منزہ سہام مرزانے کہا کہ لکھاری خود کو سنواریں تاکہ بامقصد ادب تخلیق ہوسکے۔ معروف شاعرہ اور ٹی وی اینکر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ کمرشلزم نے تخلیق کے عمل کو متاثرکیا ہے۔ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے نعرے نے الفاظ اور عورت دونوں کو بے پردہ کردیا ہے۔جسارت کی صفحہ خواتین کی مدیرہ غزالہ عزیز نے قرآن پاک کو ادب کا اصل اور حقیقی ماخذ قرار دیا۔تقریب میں ایک دلچسپ خاکہ بھی پیش کیا گیاجس میں لکھاریوں کی تحریری خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ بعد ازاں بہترین قلمکاروں میں اسناد و اعزازی شیلڈ تقسیم کی گئیں۔کہانی اور افسانے کے مقابلے میں پہلا انعام حمیرہ بنتِ فرید، دوسرا طوبیٰ احسن اور نادیہ سیف اور تیسرا انعام فائزہ مشتاق نے حاصل کیا جبکہ فرح ناز فرح کو خصوصی انعام دیا گیا۔ مقابلہ مضامین میں پہلا انعام اسماء صدیقہ ، دوم صائمہ عبد الواحد، سوم منیزہ نورالعین جبکہ خصوصی انعام ڈاکٹر زرینہ نے حاصل کیا۔اس موقعے پر بلاگز مقابلے کے نتائج کا بھی اعلان کیا گیا ۔ جس میں پہلا انعام سعدیہ فرخ مرزا، دوسرا سائرہ سعد ، تیسرا فوزیہ سراج جبکہ خصوصی انعام طاہرہ جبین نے حاصل کیا۔ اس موقعے پر جسارت کے تحت ہونے والے تحریری مقابلے کے شرکاء میں بھی انعامات تقسیم کیے گئے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس