Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

گیس کے نرخوں میں 46فیصد اضافہ ٗصنعتوں کی تباہی کا آغاز ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍07ستمبر 2018ء:جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے گیس کی قیمت میں 46فیصد اضافے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ قیمتوں میں اضافے کافیصلہ کا نہ صرف ایکسپورٹ سے متعلق صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ دیگر سیکٹروں کے لیے بھی انتہائی ظالمانہ ہے ۔قیمتوں میں اضافے سے صنعتوں میں بننے والی اشیاء میں مزید اضافہ ہوجائے گا جس سے عوام کو ایک زبردست مہنگائی کا سامنا کرنے پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں متوقع اضافہ ملکی صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہے جس کے باعث صنعتوں کو چلانا مشکل ہوجائے گا اور مشکلات میں گھری صنعتوں کو مالکان بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری اگلے ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )کے اجلاس میں پیش کی جائے گی ۔جس میں گیس کے نرخوں میں ریکارڈ اضافہ کی تجویز پیش کی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت گیس کے نرخوں میں اضافے کے بجائے مزید گیس کی پیداوار میں اضافے کی کوشش کرے ۔گزشتہ حکومت میں بھی سالانہ خسارہ 50ارب روپے ہی تھا لیکن انہوں نے گیس نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ،موجودہ حکومت گیس کی چوری روکنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرے اور لائن لاسز پر قابو پانے کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دے تاکہ عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف حاصل ہوسکے ۔ انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک فرنس آئل کے بجائے اپنی 70فیصد بجلی گیس سے بناتی ہے اور جب گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو بجلی کے نرخوں میں ازخود اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا اور یوں اس کا نقصان بھی براہ راست صنعتوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ گیس کے نرخوں میں اضافہ 180فیصد ہو یا 46فیصد اس کا بوجھ عام گھریلو صارفین کو بھی برداشت کرنا پڑے گا جبکہ بجلی کے نرخ 2روپے فی یونٹ چند روز قبل بڑھادیے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیئے کہ آمدنی بڑھانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے دوسرے ذرائع اختیار کرے اور بچت کا راستہ اپنائے۔عوام پہلے ہی بدترین مہنگائی اور بیروزگاری کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہر آنی والی حکومت نے ان ہی دلائل کی بنیاد پر ٹیکسوں اور مہنگائی میں اضافہ کیا اس لیے موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ عوام کی امیدوں کے مطابق ان سے کچھ لینے کے بجائے دینے کی کوشش کرے                          

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس