Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ملک کی ناقص رائس پالیسی کی وجہ سے ملک اربوں روپے زر مبادلہ سے محروم ہو رہا ہے


لاہور 4ستمبر2018ء: گزشتہ روز کسان بورڈ پاکستان کے دفتر میں کسان بورڈ کی رائس کمیٹی کا اجلاس  زیر صدارت چئیرمین کمیٹی اورچاول کی فصل کے ماہر اور ترقی پسند کاشتکار امان اللہ چٹھہ منعقد ہوا۔کمیٹی میں حافظ ظفراللہ سرویا اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد کسان بورڈ پاکستان کے جنرل سیکرٹری  چوہدری شوکت اور ائس کمیٹی کے چئیرمین امان اللہ چٹھہ نے کمیٹی کی سفارشات پر روشنی ڈالتے کہا کہ حال ہی میں کھاد کی فی بوری قیمت  پانچ سو سے گیارہ سو روپے فی بوری بڑھ چکی ہے،تیل  بجلی اور کیڑے مار ادویات کی قیمتیں  بھی  بے انتہا  بڑھ چکی ہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ اس سال دھان کی قیمت میں بھی چالیس فی صد اضافہ کیا جاتامگر گزشتہ سالوں میں قیمت یکدم انتہائی کم ترین سطح تک آ گئی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں سیزن میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، ٹریکٹر ٹیوب ویل میں مہنگے ڈیزل اور بجلی کے استعمال ، یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ سے کسان پر پہلے ہی کمر توڑ بوجھ پڑ چکا ہے جب کہ موجودہ  دھان کی خریداری کابحران اس کی معاشی تباہ حالی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ چاول ملک کی انتہائی اہم نقد آور اور زر مبالہ کمانے والی فصل ہے مگر اور اسے برآمد کرنے کا حکومت نے کوئی  خاص انتظام نہیں کیا اس لئے آئندہ ملک چار ارب زر مبادلہ سے محروم ہو جائے گا ۔اس وقت ملک کو  مالی بحران سے نکلنے کیلیے زر مبادلہ کی پائی پائی کی ضرورت ہے۔ اس شدید بحران کو حل کرنے کے لئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نان باسمتی دھان کی قیمت 1600روپے فی من اور سپر باسمتی کی 2500روپے فی من مقرر کر کے پاسکو، محکمہ خوراک کے ذریعے خریداری سے قیمتوں میں استحکام کی ضمانت دے اور چاول کی بر آمد کیلیے ہنگامی اقدامات کرے۔وگرنہ کسان بد دل ہو کرچاول کی کاشت چھوڑ دین گے اور ملک قیمتی زر مبادلہ سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی تمام فصلات کیلیے کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں ایک چارٹر آف ڈیمانڈ مرتب کرکے نئی تبدیلی والی حکومت کوپیش کیا جائیگا

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس