Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قراردادبرائے پاکستان کے آبی مسائل



 

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے دریائے سندھ اور اس کے مدد گار دریاﺅں کی نعمت سے نوازا ہے جوکہ ہماری زمینوں کو سرسبز و شاداب رکھنے کاذریعہ ہیں ۔ ماہرین آبپاشی کاکہنا ہے کہ 2025ءتک ملک میں پانی کا نچلی ترین سطح تک پہنچنا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا۔ یاد رہے کہ 1990ءمیں بھی پاکستان کے اندر پانی نے کم ازکم سطح کو چھوا تھا۔ اس کاحل پانی کاذخیرہ کرنے کے لیے ڈیمز کابنانا ہے۔ پاکستان میں پہلا ڈیم وارسک ڈیم 1960ءمیں بناتھا۔ اس کے بعد منگلا ڈیم 1961ء،سملی ڈیم 1962ء،راول ڈیم 1962ئ،حب ڈیم 1963ء،تربیلا ڈیم 1968ء،خان پور ڈیم ،میرانی ڈیم اور سبک زئی ڈیم بھی اسی زمانے میں بنائے گئے۔ اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 155ڈیمز ہیں جبکہ بھارت میں چھوٹے بڑے 3200ڈیمز ہیں۔ پاکستان اپنے دریاﺅں کے دستیاب پانی کا 10فیصد ذخیرہ کرسکتا ہے۔ پاکستان موجودتمام ڈیمزمیں 30دن کا پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔ جبکہ بھارت 120دنوں اور امریکہ 900دنوں کا پانی ذخیرہ کرسکتاہے۔ اس طرح پاکستان میں پانی کے ذخیرہ کرنے کی مقدار فی کس 150کیوبک میٹر ز جبکہ چین 220کیوبک میٹر ز ، آسٹریلیا ،امریکہ 5000کیوبک میٹرز ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں صرف 7فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے جبکہ عالمی معیار کے مطابق پانی کے ذخیرہ کی صلاحیت 40فیصد ہے۔ اس طرح پاکستان کم پانی ذخیرہ کرنے والا ملک ہے، اس وقت ملک کے مختلف صوبوں میں 250ارب روپے کی مجموعی لاگت کے 32چھوٹے بڑے نئے ڈیمز کے منصوبوں پر کام ہورہاہے۔ پہلے مرحلے میں بلوچستان میں 5ڈیمز سندھ میں 4ڈیمز،خیبر پختونخوا میں 2ڈیمز اور پنجاب میں 2ڈیمز یعنی کل 13ڈیمز پر کام ہو رہاہے جبکہ منڈا ڈیم ،گومل زیم ڈیم ،خرم تنگی ڈیم ، بارا ڈیم ،چوکا س ڈیم اور طوطاخاں ڈیم کے منصوبے فائنل انجینئرنگ کے مراحل میں ہیں ۔ بھاشا دیامیر ڈیم پر کام شروع کرنے کے لیے 25ارب روپے مختص کیے جا چکے ہیں ۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل سے سالانہ800میگا واٹ بجلی پیداکرنے کے ساتھ ساتھ پشاور شہر کو پینے کا پانی وافر مقدار میں مہیاہوجائے گا۔

عالمی معیار کے مطابق پانی کاکم ازکم فی کس سالانہ استعمال 1000کیوبک میٹرز ہے جبکہ پاکستان میں سالانہ فی کس استعمال 1017کیوبک میٹرز ہے ۔ اسی طرح پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا پانی استعمال کرنے والا ملک ہے۔ پانی کے اسراف کو روکنے کے لیے آج تک کسی حکومت نے کوئی پلان نہیں بنایاہے۔ ملکی و بین الاقوامی مختلف رپورٹس کے مطابق 2050ءمیں پاکستان کی آبادی بڑھ کر 31کروڑ ہوجائے گی اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا بحران ہوگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب کی سربراہی میں 3رکنی بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان ڈیمز اور آبی ذخائر کی تعمیر کے متعلق مقدمہ کی سماعت کررہاہے اور ڈیمز کی تعمیر کے لیے عطیات جمع کرنے کی اسکیم کا اجراءکردیاگیا ہے۔ تمام بنکوں کے باہراس حوالہ سے بینرز آویزاں ہیں۔ جوملک کے عوام کی توجہ کاباعث بنے ہیں، جس سے آبی ذخائر اور ڈیم کی تعمیر کامعاملہ اجاگر ہوا اور آبی ذخائر کی تعمیر کا راستہ کھلا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم پر بعض پارٹیوں کے حمایتی بیانات اور بعض پارٹیوں نے مخالفانہ بیانات دے کر ووٹ حاصل کرنے کی سیاست کی ہے لیکن برسراقتدار آکر کالاباغ ڈیم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا مقبوضہ کشمیر سے گز ر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ۔ بھارت ان دریاﺅں پر چھوٹے بڑے ڈیم اور وولربیراج سمیت مختلف پروجیکٹس کے ذریعہ ہمارا پانی روکنے اور رخ موڑنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستان کو بوند بوند پانی سے محروم کرکے پاکستان کو صحرا میں تبدیل کردے گا۔دوسری جانب پاکستان کی حکومتیں بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے کے بجائے بھارت کے ساتھ دوستی کی باتیں کرتی ہیں تاکہ مغر ب کو خوش کیا جاسکے ۔ اب تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں ایک سرنگ بنا رہاہے جس کے ذریعے دریائے سندھ کا رخ پاکستان سے بھارت کی طرف موڑ دیاجائے گا اور پاکستان ایک صحرا میں تبدیل ہوجائے گا۔

مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ :

۱۔            پاکستان میں پانی کے ذخیرہ کرنے کے چھوٹے بڑے جاری ڈیمز و پروجیکٹس کی فوراً تکمیل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

۲۔           سپریم کورٹ کی طرف سے بھاشا دیامیر ڈیم کی تعمیر کے لیے عطیات جمع کرنے کے اقدامات کی روشنی میں اس کی تعمیر کو ترجیح اول قرار دے کر جلد از جلد پایہ


¿ تکمیل تک پہنچائے۔

۳۔           پاکستان میں کالاباغ و دیگر آبی ذخائر کی تعمیرکے لیے صوبوں کے اعتراضات و اشکالات دور کرکے ہم آہنگی پیداکرنے کی سعی کی جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس