Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سرکاری کواٹرز کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ مؤقف اختیار کریں ۔سیف الدین


کراچی ؍24جولائی2018ء:جماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی سکریٹری اورحلقہ این اے 245سے متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سرکاری کواٹرز کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے ، بد قسمتی سے جن سیاسی نمائندوں نے ماضی میں وعدے کیے تھے انہوں نے ہی اس معاملے کو بگاڑ دیا، ہم اس مسئلے کو خالصتاً انسانی حقوق کا معاملہ سمجھتے ہیں،اس ضمن میں سینیٹر سراج الحق نے سینٹ میں قرارداد جمع کرانے کا اعلان کیا اور مجلس عمل کراچی کے جلسے میں قرارداد بھی پیش کی گئی ، ایم ایم اے اس مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر کے متاثرہ مکینوں کے استحصال کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دے گی یہی وجہ ہے کہ ہم نے بجلی ، پانی اور شناختی کارڈ کے مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ اٹھایا اور آج تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دی جس کو کچھ نے قبول کرتے ہوئے شرکت کی اور کچھ نے مصروفیا ت کا بہانہ بنا کر شرکت سے معذرت کرلی ۔ہمارا کام تمام سیاسی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے مشترکہ مؤقف اپناناہے جس میں ہم خاطرخواہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مارٹن کواٹر زاور سرکاری کواٹرزکے مکینوں کے مسئلے پر کُل جماعتی کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔مارٹن کواٹر ز میں ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے خواجہ طارق نذیر، طاہر شہزادہ ، پی ایس پی کے ڈاکٹر صغیر احمد،مجلس عمل کے نجیب ایوبی ، محمد اسلم غوری اور کلیم الحق عثمانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں پیشے کے اعتبار سے وکیل ہوں لہذا اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ یہ کیس عدلیہ کے سامنے غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ، عدالت عظمیٰ سے بہت سے حقائق چھپائے گئے ہیں جن کی میں نے نشاندہی کردی ہے ، ہم نے ایم ایم اے کی سطح پر اپنی ٹیم کو مکمل بریف کیا ہے کہ تمام شواہد کے ساتھ اور سرکاری کواٹرز کے عوام کی خواہش کے مطابق اس معاملے کا ازسر نو جائزہ لیں گے اور اس مسئلے پر متعلقہ اداروں کو مکمل معلومات فراہم کریں گے ۔ایم ایم اے کے مقامی ذمہ داران کومبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے کانفرنس میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا اور اس مسئلے کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے عوامی مسئلہ سمجھا۔انہوں نے کہاکہ صرف ایک دستخط سے اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جاسکتا تھا کیونکہ ماضی میں یہ وزارتیں ایم کیو ایم کے پاس تھیں مگر قیمتی زمینیں ان کی نظر میں تھیں اور ملی بھگت کے ذریعے اس معاملے کو خراب کیا گیا ۔واضح رہے کہ کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار اور پیپلز پارٹی کے رہنما کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر یہ دونوں نمائندے اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس