Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

الیکشن کمیشن توقعات پر پورا نہیں اترا اور انہی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔سینیٹرسراج الحق


لاہور11جولائی 2018ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن سے توقع تھی کہ وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے صاف اور شفاف الیکشن کروائے گا ، لیکن اب تک الیکشن کمیشن ان توقعات پر پورا نہیں اترا اور انہی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔ الیکشن کمیشن کو ایک ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ ہم چاہتے ہیںکہ اب اسمبلیوں میں دیانتدار اور قوم کی امانتوں کی حفاظت کرنے والے لوگ پہنچیں ۔ پاکستان ایک نظریے کا نام ہے اور ہمارے بڑوں نے اس نظریے کی آبیاری کے لیے اپنا خون پیش کیا ۔ ملک میں نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے عوام متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں ۔2018 ءکا الیکشن افراد کے درمیان نہیں تہذیبوں ،مغربی استعمار کے وفاداروں ، امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں اور نظریہ پاکستان پر ایمان رکھنے والوں کے درمیان ہے ۔ یہ خیر او ر شر ، حیا اور بے حیائی کے درمیان معرکہ اور منبر و محراب اور سیکولر فساد کے درمیان لڑائی ہے۔یہ حق و باطل کی جنگ کی عالمی جنگ ہے یہ جنگ فلسطین اور کشمیر میں بھی جاری ہے اور پاکستان میں بھی لڑی جارہی ہے ۔ عوام کو اپنے ووٹ کی قوت سے اس جنگ میں حق کا ساتھ دینا ہوگا۔ 25 جولائی کو قوم نے فیصلہ کرناہے کہ وہ محمد کے غلاموں کے ساتھ ہے یا سیکولر اور لبرل ازم کے پیروکاروں کے ساتھ ۔ قوم کوایک بار پھر حسین ؓ کے پیروکاروں اور یزید کے وفاداروں کے درمیان معرکے میں حق کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سیالکوٹ ، وزیرآباد اور گوجرانوالہ میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسوں سے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد ، پیر سید معین الدین محبوب کوریجہ ، حمید الدین اعوان ، حافظ بلال قدرت بٹ ، مشتاق احمد بٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام کی محرومیوں اور پریشانیوں کے مجرم ایک بار پھر بڑے بڑے دعوﺅں اور وعدوں کے ساتھ عوام کو فریب دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ عوام جانتے ہیں کہ ملک میں غربت ، جہالت ، بے روزگاری ، مہنگائی اور بدامنی کے اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو بار بار حکومتوں میںآتے رہے ، مگر انہوں نے عوام کے لیے کچھ کرنے کی بجائے اپنی جیبیں بھریں اور اپنے لیے محل تعمیر کیے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کا قیام قوم کے لیے اللہ کی طرف سے ایک انعام ہے ہم چاہتے ہیں کہ عام آدمی اقتدار میں پہنچے کیونکہ عوام کے مسائل پارٹیاں اور چہرے بدل بدل کر آنے والے ظالم جاگیردار ، وڈیرے اور سرمایہ دار نہیں جانتے ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل پاکستان کو عالمی برادری میں ایک باوقار مقام دلانے ، ملک کی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں سے جان چھڑانے اور پاکستان میں ایک بابرکت اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ایک دن کے لیے بھی اقتدار ملا تو ہم پاکستان میں نظام مصطفی کا نفاذ کریں گے اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید سے رہا کرائیں گے ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی سیاسی یتیم خانہ ہے اور اب واشنگ مشین بن گئی ہے ۔ کل تک جنہوں نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومتوں میں رہ کر پاکستان کو لوٹا ، وہ آج پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ مجھے نگران حکومت اور میڈیا سے بھی گلہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں جنہوںنے قوم کے اربوں کھربوں روپے لوٹے ۔ الیکشن کمیشن بھی ان لوگوں کے خلاف کوئی ایکشن لینے کو تیار نہیں جو کروڑوں اور اربوں خرچ کر کے الیکشن کو دولت کا کھیل بنارہے ہیں۔ نیب اور احتساب عدالتیں بھی احتساب میں ناکام رہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نگران حکومت بیانات دینے کی بجائے کارکردگی کو بہتر بنائے ۔ اس ملک میں نعرے بہت لگے لیکن کام کوئی نہیں ہوا۔ نگرانوں کو دعوے نہیں کام کرنا چاہیے ۔ انہوںنے عوام سے کہاکہ آئیں ڈرگ ، لینڈ اور شوگر مافیا سے نجات کے لیے مل کر جدوجہد کریں ۔انہوںنے کہاکہ ایم ایم اے میں کوئی پانامہ زدہ نہیں کسی نے ملک کو نہیں لوٹا،ہمارے سب امیدوار دیانتدارہیں۔ گزشتہ روز پشاور میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ۔ دشمن جب چاہتاہے اور جہاں چاہتاہے کاروائی کرتاہے ۔ اللہ تعالیٰ بلور کی شہادت قبول کرے ۔ یہ حملہ اے این پی پر نہیں ، پاکستان اور پاکستان کے 21 کروڑ عوام پر حملہ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ستر سا ل تک پاکستان پر حکومت کرنے والوں نے پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کے ساتھ بے وفائی اور غداری کی جس کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا ۔ کرپٹ قیادت نے پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنائیں ۔ پاکستان کی عزت و غیرت کو نیلام کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیںکہ سکولوں سے باہر اڑھائی کروڑ بچے بھی تعلیم حاصل کریں ۔ بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے ۔ عام آدمی کو عدل و انصاف اور ہماری آنے والی نسلوں کو پینے کاصاف پانی ملے ۔ انہوںنے کہاکہ25 جولائی کو قوم کتاب پر مہریں لگا کر ان لٹیروں کا احتساب کرے گی ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے عوام متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دے ۔ متحدہ مجلس عمل ان لٹیروں کو پکڑکر جیلوں میں بند کردے گی ۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد نے کہاکہ ہم پاکستان کو وہ نظام دینا چاہتے ہیں جو اللہ اور اس کے محبوب حضرت محمد نے ہمارے لیے پسند کیا ہے ۔ مغرب کو اپنا آقا سمجھنے والے ماضی میں بھی ناکام و نامراد رہے اور اگر آئندہ عوام نے ایسے لوگوں کو اپنے سروں پر مسلط کرنے کی غلطی کی تو وہ ناکام رہیں گے ۔ ان کے پاس ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا کوئی وژن نہیں ۔ متحدہ مجلس عمل کی دیانتدار اور باکردار قیادت ہی پاکستا ن کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب پاکستان کے عوام اللہ کے نظام کے مقابلے میں کسی لبرل اور سیکولر نظام کو برداشت نہیں کریں گے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس