Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

جمعیت طلبہ عربیہ کا’’ہم لائیں گے اس ملک میں اسلام کا دستور ‘‘مہم چلانے کا فیصلہ


لاہور10جولائی 2018ء:جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے منتظم اعلیٰ محمد الطاف نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اقتدار میں آکر پاکستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے گی ۔آئندہ انتخابات میں اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان بنانے کے لئے جمعیت طلبہ عربیہ متحدہ مجلس عمل کا بھر پور ساتھ دے گی  جس کے لئے جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے دس جولائی تا 25 اگست  2018تک ملک گیر مہم ’’ہم لائیں گے اس ملک میں  اسلام کا دستور‘‘چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری جنرل جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان  حافظ محمد شمشیر شاہد،دپٹی سیکرٹری جنرلز محمد عامر ،حافظ سہیل ناصر منصوری اور عتیق الرحمن سیکرٹری اطلاعات جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان سمیت دیگر افراد شریک تھے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں جمعیت طلبہ عربیہ متحدہ مجلس عمل کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی  اور ایم ایم اے کے تمام امیدوراوں کی بھرپور سپورٹ کرے گی اور عوام کو یہ باور کرائے گی کہ اب کی بار صرف دیانتداروں کو ہی ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھجوانا ہے نا کہ کرپٹ لوگوں کو ،عوام ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو آپ کے حلقے کی عزت و عظمت کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ،انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کی یہ مہم تین مراحل پر مشتمل ہوگی پہلے مرحلے میں مہم کے اشتہارات ،بینرز اور پمفلٹس تقسیم کئے جائیں گے ،دوسرے مرحلے میں علمائے کرام سے ملاقاتیں اور خطبات جمعہ میں اعلانات کئے جائیں گے جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میںملک بھر ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر سیمینار کنونشن،اجتماعات اور بڑے بڑے جلسے کئے جائیں گے جس میں ایم ایم اے کی مرکزی و صوبائی قیادت شریک ہوگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت اور حالات کو مدنظر رکھا جائے تواسلام کا نفاذ نا گزیر ہے ،اتحاد امت  مسلمانوں کا عظیم مقصد ہے  اور اس کے لئے ہمیں دن رت جدوجہد کرنی ہوگی،اگر حکومت متحدہ مجلس عمل کی آئی تو ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے میں  کایاب ہو جائے گی محمد الطاف نے مزید کہا کہ طاغوتی قوتیں ملک میں اسلام کے خلاف جو غلط خبریں  پھیلا رہے ہیں اس کو نست ونابود کرکرے ملک کو اسلام کا گہوارہ بنائیں گے ،عوام کے لئے ضروری ہے کہ وہ فروعی اختلافات کو چھوڑ کر اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے مذہبی جماعتوں کا ساتھ دیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس