Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ہم نے سیکولر امریکہ نواز حکمرانوں کی بالادستی پہلے قبول کی ہے نہ آئندہ کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمن اور سینیٹر سراج الحق کاخطاب


لاہور 13مئی 2018ء:متحدہ مجلس عمل کے مینار پاکستان گراﺅنڈ میں ہونے والے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے لیے اصل چیلنج 2018 ءکے انتخابات میں کامیابی ہے ۔ ہم نے سیکولر امریکہ نواز حکمرانوں کی بالادستی پہلے قبول کی ہے نہ آئندہ کریں گے ۔ آج ہم پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم کرتے ہیں ۔ ستر سال سیکولر لوگوں نے حکومت کی آج مینار پاکستان ان کے جھوٹ کی گواہی دے رہاہے ۔ امت کو جنگوں کا ایندھن بنایا جارہاہے ۔ امت کو خون کا دریا عبور کرنا پڑ رہاہے ۔ عراق و افغانستان کو تباہ کیا گیا ۔ ایران اور سعودی عرب کو آپس میں لڑانے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازش امریکہ او ر مغرب کی ہے جو انسانی حقوق کی بات بھی کرتے ہیں اور پھر ان حقوق کا خون بھی کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا ، دنیا میں امن کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ۔ ہمیں آزادی کی قیمت اچھی طرح معلوم ہے ہماری سیاست اور پارلیمنٹ پر اقوام متحدہ قبضہ چاہتاہے اور ہماری میعشت پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک قابض ہوچکاہے ۔ بین الاقوامی معاہدات ہمیں ہمارے دفاع کا حق نہیں دے رہے ۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، جنیوا انسانی حقوق کے معاہدے ہمارے حقوق کو پامال کررہے ہیں ۔ جب ہمارے قانون کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کا تصادم ہو تو پھر ہمارا قانون غیر موثر ہو جاتاہے ۔ ہماری قومی اسمبلی خود قانون بنانے کی بجائے بین الاقوامی ڈکٹیشن لیتی ہے ۔ بین الاقوامی دباﺅ پر ہماری پارلیمنٹ نے اٹھارہ سال کے بعد اپنی جنس تبدیل کرنے کا قانون پاس کرلیا ۔ اقوام متحدہ جسے چاہے دہشتگرد قرار دے دے اور ہم اس کی پابندی پر مجبور ہوں تو ہماری آزادی اور خود مختاری کہاں گئی ؟۔ انسانی حقوق کی تشریخ جو مغرب کرتاہے ہم اسے ملک میں قانون کی حیثیت دیتے ہیں ہماری آزاد ی کہاں رہی ۔

امیر جماعت اسلامی و نائب صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مینار پاکستان کے سائے تلے متحدہ مجلس عمل کے جلسہ عام کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مینار پاکستان اور بادشاہی مسجد کے مینار کہتے ہیں کہ نیا نہیں اسلامی پاکستان بناﺅ ۔ ستر سال گزر گئے لیکن ایک دن کے لیے ہم نے پاکستان میں اسلامی نظام نہیں دیکھا ۔ قائد اعظم کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان کے لیے تاریخ کی عظیم قربانیاں ان سیکولر اور کرپٹ حکمرانوں کے لیے نہیں دی تھیں ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد سنگ مرمر کا قبرستان بن چکاہے ۔ ہم ملک میں ظلم و جبر اور کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ ہماری لڑائی افراد یا خاندانوں کے ساتھ نہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم عام پاکستانی کے لیے اقتدار کے ایوانوں کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں عوام اب اپنی ذات کے لیے ووٹ کا استعمال کریں اور ان ظالموں کے بنگلوں کا طواف چھوڑ دیں ۔ ظلم و جبر کے اس استحصالی نظام سے بغاوت کا اعلان کرتاہوں ۔ الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات میں بہن اور بیٹی کا حق کھانے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دے ۔ جو اپنی بیٹی اور بہن سے دھوکہ کرتاہے وہ قوم کا وفادارنہیں ہوسکتا۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کو مشکوک بنادیا گیاہے ۔ عمران اور نوازشریف نے الیکشن کو مشکوک بنایا ۔ خلائی مخلوق اور نادیدہ قوتوں کی بات کر کے الیکشن پر سے عوام کا اعتماد ختم کردیا ، اب اپنی پوزیشن کو کلیئر کرنا ان دونوں کے لیے ضروری ہے ۔ ہم گالی اور گولی کی بجائے خوشحالی اور ترقی کی سیاست چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ موجودہ بجٹ میں 2221 ارب سود کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں سودی معیشت کبھی ترقی نہیں کرسکتی ہم عشر و زکوة کا نظام قائم کریں گے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کے دو خاندانوں کے ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ برطانیہ میں پڑاہے ان کی سیاست کا مرکز و محور دولت جمع کرناہے ۔ سیاسی پارٹیاں لٹیروں کے یتیم خانے بن چکی ہیں ۔ ایوب خان سے پرویز مشرف تک جرنیل مسلم لیگیں بناتے رہے ۔انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں لاالہ الا اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے ۔ زندگی کے آخری لمحے اور خون کے آخری قطرے تک ہم پاکستا ن میں شریعت کے نفاذ کے لیے لڑیں گے ۔ دینی جماعتوں کے اتحاد سے آ ج امریکہ کے آلہ کار پریشان ہیں وہ اپنے بنگلوں میں بیٹھے گم سم ہیں ۔ اگر 1970 ءمیں متحدہ مجلس عمل جیسی قوت ہوتی تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا ۔ دینی جماعتیں اس لیے متحد ہوئی ہیں کہ پھر قوم کو کوئی سانحہ نہ دیکھنا پڑے ۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں 24 ہزار لوگ شہید ہوئے ۔ دہشتگردی ہمارے 65 ہزار لوگوں کو کھا گئی ۔ انہوں نے کہاکہ متحد ہ مجلس عمل کی صفوں میں کوئی لینڈ مافیا ، شوگر مافیا اور ڈر گ مافیا نہیں ہے اور نہ آف شور کمپنیوں والے ہیں ۔ ایم ایم اے کے قافلے میں عاشقان رسول ہیں ۔ اندھے گونگے اور بہرے حکمران کشمیر و فلسطین میں ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ آ ج امریکی دھمکیوں کے بعد عالم اسلام کو بھی ایم ایم اے کی ضرورت ہے ۔ ہم بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی مذمت کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم طیب اردگان کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ملائیشیا میں مہاتیرمحمد کی دوبارہ حکومت بن گئی ہے ۔ ترکی پاکستان اور ملائیشیا مل کر فلسطین کی آزادی کے لیے موثر کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ 

جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ قائد اعظم نے فرمایا تھاکہ پاکستان کا طرز حکومت وہی ہوگا جو قرآن میں طے کردیا گیاہے ۔ قیام پاکستان کو ستر سال ہوچکے ہیں آئین بنا ،پاکستان ایٹمی قوت بنا ، تمام قدرتی وسائل سے مالا مال اور جفا کش عوام اور کروڑوں نوجوانوں کے باوجودہم مسائل کا شکار ہیں ۔ کسان اور مزدور محنت کرتاہے اسے محنت کا صلہ نہیں ملتا ۔ انہوںنے کہاکہ 2018 ءکا الیکشن پاکستان کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔ متحدہ مجلس عمل ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوںنے کہاکہ جمہوریت، 2002 ءسے 2013 ءتک کے انتخابات ہمارے سامنے ہیں جو لوگ حکومتوں میں آئے انہوں نے پاکستان کو مسائل سے دوچار کیا ۔ اشتراکیت کے بعد مغربی سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہے ۔ لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ سیاسی بے وفا اور نام نہاد الیکٹیبلز پارٹیاں اور جھنڈے بدل کر ملک و قوم سے دھوکہ کرتے ہیں ۔ مزدور ، کسان ، طلبہ ، تاجروں ،وکلا ، اساتذہ اور خواتین سمیت ہر طبقہ پریشان ہے ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ایسی خارجہ پالیسی دے گی جس سے امت کے مسائل حل ہوں اور پاکستان دنیا میں سر اٹھا کر چل سکے ۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی ¿ہماری خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ ہوگا ۔ پانی کے ذخائر کی تعمیر و ترقی قومی اتفاق رائے سے پیدا کریں گے ۔انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل تمام اقلیتوں کے آئینی حقوق کی محافظ بن کر دکھائے گی ۔ 

امیرجماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد نے اپنے خطاب میںلاہور کے تاجروں ، وکلا ، طلبہ ، مزدوروں اور کسانوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کا جلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ پنجاب کے عوام اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آج کے کامیاب جلسہ نے ثابت کردیاہیے کہ متحدہ مجلس عمل پورے پاکستان میں بھر پور کامیابی کاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اسلامی فلاحی مملکت کا قیام عمل میں لائے گی ۔ ملک میں دینی قوتوں کا ووٹ بنک اکٹھاہو گا اور سیکولر قوتوں کو شکست فاش ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ مینار پاکستا ن جلسہ سے مجلس عمل نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیاہے اور انشاءاللہ 2018 ءمیں کامیابی متحدہ مجلس عمل کی قدم چومے گی ۔

 جلسہ سے امیر جماعت اسلامی و نائب صدر متحدہ مجلس عمل سینیٹر سراج الحق ، نائب صدر ایم ایم اے علامہ ساجد نقوی ، پیر اعجاز ہاشمی ، سیکرٹری جنر ل ایم ایم اے لیاقت بلوچ ، ترجمان متحدہ مجلس عمل پاکستان شاہ اویس نورانی ، ایم ایم اے پنجاب کے صدر میاں مقصود احمد ، سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ ، سینیٹر مشتاق احمد خان ، مولانا گل نصیب خان ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر ، رانا شفیق پسروری ، شاہد محمود سرور و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔جلسہ میں زندہ دلان لاہور سمیت ملک بھر سے عوام کی کثیر تعدادنے شرکت کی

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس