Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جمہوریت کے نام پر ستر سال سے ملک پر بدترین شخصی آمریت مسلط ہے۔امیرالعظیم


لاہور 15اپریل 2018ء:ترجمان جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہاہے کہ سیاسی جماعتوں پر خاندانی تسلط اور سیاست پر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے قبضہ نے ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔ جمہوریت کے نام پر ستر سال سے ملک پر بدترین شخصی آمریت مسلط ہے وہ کبھی نام نہاد جمہوری حکومت اور کبھی مارشل لاءکی صورت میں عوام کی گردنوں پر سوار رہی اور عام آدمی اپنے جمہوری حقوق سے محروم رہا ۔ جمہوریت کی آڑ میں بچہ جمورا بار بار مداریوں کی نمائش گاہ بنا رہتاہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میںPFUJ (دستور )کے صدر نوازرضا کی قیادت میں ملک بھر کے ضلعی عہدیداروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن ، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف ، معروف کالم نگار رﺅف طاہر ، فرخ سعید خواجہ اور حامد ریاض ڈوگر بھی موجود تھے ۔ 

امیر العظیم نے کہاکہ وراثتوں ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی بنیاد پر کمپنیاں تو بنائی جاسکتی ہیں ، سیاسی اور عوامی جماعتیں قائم نہیں ہوسکتیں ۔جب تک سیاست سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور وراثتوں کے چنگل سے آزاد نہیں ہوتی ، مستحکم اور مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ انہوںنے کہاکہ سیاست کے نام پر ملک میں ایک بار پھر وہی کھیل کھیلا جارہاہے جو ماضی میں کھیلا جاتا تھا اس سے نکلنے کا راستہ نظریات، مقاصد اور خدمت ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں نظریات ، مقاصد اور خدمت کے جذبات پروان نہیں چڑھیں گے ، اس وقت تک ہمارے سامنے یہ سیاسی تماشا لگا رہے گا ۔ 

امیر العظیم نے کہاکہ ملک میںعدلیہ اور عدالتیں جو کچھ کر رہی ہیں ، تاریخ اسے دیکھ رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر صاف پانی ، خالص خوراک ، کرپشن سے پاک ادارے یہ سب کچھ عدالتوں نے ہی دینا ہے اور عوام کو حکومتوں سے کوئی ریلیف نہیں ملتا تو پھر ان حکومتوں کا کیا جواز باقی رہتاہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر عدلیہ نے حکومت اور اداروں کو درست کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی کوششیں جاری رکھیںاور مستقبل میں بھی عدلیہ اپنا کردار اسی طرح ادا کرتی رہی تو یہ عدالتی حسن ہوگا اور بہت سے قومی معاملات درست سمیت میں آگے بڑھنا شروع ہو جائیں گے اور اگر آئندہ یہ مداخلت قائم نہ رہ سکی تو عوام اسے عدالتی بے بسی کا نام دیں گے جو کسی طرح بھی قابل ستائش نہیں ہوگا ۔ امیرالعظیم نے کہاکہ حالات بدلنے کے لیے عوام کا جو کردار ہونا چاہیے ، بدقسمتی سے عوام وہ کردار ادا نہیں کر پارہے ۔عوام کے اندر سیاسی جماعتوں کے بارے میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ شام جیسی صورتحال پر بھی اس انداز میں اپنا ردعمل نہیں دیتے جو عوام کا ہونا چاہیے ۔ پاپولر اور عوامی پارٹیاں ہونے کی دعوے دار جماعتوں کے لیڈر کو بھی جب کوئی جنر ل کان سے پکڑ کر باہر نکالتا ہے تو عوام خاموشی سے تماشا دیکھتے ہیں ۔ان لوگوں کو لندن اور جدہ کے علاوہ کہیں پناہ نہیں ملتی ۔ اگر یہ واقعی عوامی لیڈر ہوں تو انہیں باہر نکالنے کی کسی میں جرا ¿ت نہ ہو ۔ انہوںنے کہاکہ ووٹ کے تقدس کی بات کرنے والوں نے آج تک اپنے ووٹر کو کوئی عزت اور اہمیت نہیں دی ، یہی وجہ ہے کہ جب ان پر مشکل وقت آتاہے تو ان کی حمایت میں بھی کوئی باہر نہیں نکلتا ا س لیے ضروری ہے کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے نظریات کی سیاست کو فروغ دیا جائے اور ملک کے نظریاتی تشخص کی حفاظت کی جائے تاکہ دنیا میں پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت کے طور پر عزت و وقار مل سکے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس