Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

’’کراچی یوتھ الیکشن ‘‘ کی منتخب قیادت نچلی سطح پر مسائل کے حل میں کردار ادا کرے گی ۔سراج الحق


کراچی 15اپریل 2018ء: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی یوتھ الیکشن میں منتخب ہونے والی نوجوان قیادت نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں اپنا مؤثر کردار اداکرے گی۔ جماعت اسلامی نوجوان قیادت کو قومی سیاست میں آگے لائے گی اور عام انتخابات میں 50فیصد ٹکٹ نوجوانوں کو دیے جائیں گے ۔ جنرل مشرف نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بد نام کیا تھا ، ہم ہر نوجوان کو ڈاکٹر عبد القدیر خان بنائیں گے ، لائبریریاں اور لیبارٹیز آباد کریں گے ، کرپٹ اور بزدل قیادت کے باعث ملک کے ادارے تباہ ہوئے ہیں اور امریکہ و بھارت آج ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں ۔ملک کو بیرونی دشمنوں سے زیادہ کرپٹ عناصر اور آستین کے سانپوں سے خطر ہ ہے ، کراچی مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے ، بلدیاتی قیادت اور سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ، ملک کے سب سے بڑے شہر کو پینے کا صاف پانی اور بجلی میسر نہیں ، کراچی میں مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی نے ہر آئینی و قانونی اور جمہوری طور پر جدوجہد کی ہے ، کے الیکٹرک کے خلاف حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدامات اور سرگرمی نہیں دکھائی گئی ۔ جماعت اسلامی 20اپریل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرے گی اگر عوام کو ریلیف نہ ملا تو 27اپریل کو کراچی میں ہڑتال کرے گی ، عوام اور تمام طبقات اس احتجاج اور ہڑتال میں شریک ہوں ۔کراچی میں 6مئی کو یوتھ الیکشن کی منتخب قیادت اور دیگر نوجوانوں کو جمع کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز جے آئی یوتھ الیکشن کے دوسرے مرحلے میں لیاقت آباد ڈاکخانہ چورنگی پر قائم پولنگ اسٹیشن کے دورے کے موقع پر نوجوانوں سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کراچی یوتھ الیکشن میں شریک مختلف پینلز کے نامزد صدور ، سکریٹریز سے ملاقات اور پولنگ کے عمل کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، ضلع وسطی کے امیر منعم ظفر ، جے آئی یوتھ کراچی کے صدر حافظ بلال رمضان سمیت نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔کراچی یوتھ الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ضلع وسطی ، شرقی اور بن قاسم کے اندر 105یوسیز میں اور 220پینلز کے درمیان انتخابا ت ہوئے اور پولنگ کا عمل صبح 9بجے سے شام 7بجے تک جاری رہا ۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ پاکستان نوجوانوں کا ہے ، ہم نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دیں گے ان کو ہمت و حوصلہ دیں گے اور آگے لائیں گے دیگر جماعتوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو قیادت میں جگہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں صرف دو ارکان ایسے ہیں جن کی عمر 30سال سے کم ہے جبکہ دنیا بھر میں منتخب اداروں میں نوجوانوں کی تعداد 10فیصد سے زیادہ ہے ۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر کے نوجوانوں سے زیادہ باصلاحیت ، محنتی اور ذہین ہیں ۔10سالہ شہیر نیازی نے نیوٹن جیسا مقالہ تحریر کیا اور 10سالہ ارفع کریم نے اتنی کم عمری میں کمپوٹر سافٹ ویئر کے شعبے میں دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کیا ۔ بہترین صلاحیتوں کے باوجود غلط اور فرسودہ نظام اور نااہل قیادت کی وجہ سے ایک سروے کے مطابق کراچی میں 49فیصد نوجوان ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔70لاکھ بہترین باصلاحیت نوجوان ملک چھوڑ چکے ہیں ،67لاکھ نشے کے شکار ہیں اور ان کا مستقبل تباہ ہورہا ہے ۔ دنیا کا انسان چاند اور مریخ پر جارہا ہے لیکن ہمارے ملک میں 2کروڑ 20لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں ، حکمران بجٹ میں وی آئی پی کلچر کو قائم رکھنے کے لیے تو بہت خرچ کرتے ہیں لیکن تعلیم پر صرف 2.6فیصد رقم مختص کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کی کرپشن اور نااہلی نے قومی اداروں کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔پی آئی اے 19ارب ، پاکستان ریلوے 33ارب اور اسٹیل مل 1کھرب 77ارب روپے کے خسارے میں ہیں ۔ اسٹیل مل تو تقریبا بند ہوچکا ہے ۔ ملازمین کو کئی کئی ماہ تک تنخواہیں نہیں ملتی اور ریٹائرڈ ملازمین واجبات سے محروم ہیں ، نوجوان ڈگری ہولڈرز بے روزگار ہیں اور مایوس ہیں ،ملک کے دفاع میں جتنا خرچ ہوتا ہے اس سے زیادہ ملک کے اندر کرپشن ہوتی ہے ۔ ملک کے صرف 2خاندانوں کی بلین ڈالرز دولت برطانیہ میں جمع ہیں اور دبئی کے اندر پاکستان کی اشرافیہ نے 2کھرب 50ارب روپے کی پراپرٹی خریدی ہے ۔ حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور عوام بنیادی انسانی ضروریات تک سے محروم ہیں ۔ ملک کے اندر سے کرپشن ختم کردی جائے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے توہم اپنے ملک کے قرضے ادا کرسکتے ہیں ۔ ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک میں بادشاہت کے خاتمے اور اسٹیٹس کو کو توڑنے کی کوششوں اور جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور ملک میں رائج فرسودہ سیاست اور نظام کا حصہ نہ بنیں ۔ یوتھ الیکشن کے موقع پر لیاقت آباد ڈاکخانے چورنگی پر زبردست گہما گہمی اور نوجوانوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ ڈاکخانے کی چورنگی اور اس کے اطراف قومی پرچم اور جماعت اسلامی کے جھنڈے لگائے گئے تھے ،مختلف پینل اپنے الاٹ شدہ نشانات کے ماڈلزکے ہمراہ اسٹالوں پر موجود تھے ، یوتھ ممبر شپ حاصل کرنے والے نوجوان بڑی تعداد میں اپنے پسندیدہ پینل کو ووٹ کاسٹ کررہے تھے ۔نوجوانوں کے کئی پینلز الیکشن میں شریک تھے جن میں چھتری ، پھول ، موم بتی ، سیڑھی ، کار اور دیگر نشانات الاٹ کیے گئے تھے ۔ پریزائڈنگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کا تقرر بھی کیا گیا تھا ۔ مختلف یوسیز کے الگ الگ بیلٹ بکس رکھے گئے تھے اور ووٹ کاسٹ کرنے کے دوران پولنگ اسٹیشن کے اندر مہر لگانے کے لیے خفیہ حصہ بھی مختص کیا گیا تھا اورجے آئی یوتھ کے نوجوان ٹریفک کنٹرول کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ سراج الحق کی آمد پر ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا اور پھول کی پتیاں نچھاور کی گئی ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس