Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کے الیکٹرک کے خلاف20 اپریل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ اور27 اپریل کو ہڑتال کریں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن


کراچی 13 اپریل 2018ء: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی اذیت ناک لوڈ شیڈنگ ،اووربلنگ ،ڈبل بنک چارجز ،میٹر رینٹ اور دیگرمدات میں عوام سے اربوں روپے کی لوٹ مار کے خلاف اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے 20اپریل کووزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ اور 27اپریل کو کراچی میں ہڑتال کریں گے ،جماعت اسلامی کے الیکٹرک کا مسئلہ پر امن طورپر حل کرنا چاہتی ہے لیکن ہم لوٹ کھسوٹ کے نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، گرفتاریوں ، پولیس فائرنگ اور شیلنگ سے خوف زدہ نہیں ہیں ،ہر صورت ریڈ زون کے اندر داخل ہوں گے ، وزیر اعلیٰ فیصلہ کریں کہ وہ مذاکرات کریں گے یا پولیس سے فائرنگ کروائیں گے ۔وزیر اعلیٰ وفاقی حکومت کو صرف خطوط لکھ کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ہمیشہ کے الیکٹرک تحفظ فراہم کیا ۔کے الیکٹرک کراچی کے صارفین سے برسوں سے فرنس آئل کی قیمت کے بل وصول کررہی ہے لیکن آج گیس کی کمی کا بہانہ بنا کر شہریوں کو بد ترین لوڈ شیڈنگ سے دوچار کررکھا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بعد نماز جمعہ جماعت اسلامی کے تحت جامع مسجد نعمان لسبیلہ چوک پر کے الیکٹرک کی جانب سے اووربلنگ ، پیداواری صلاحیت ہونے کے باوجود مطلوبہ بجلی پیدا نہ کرنے ، سخت گرمی میں عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کرنے اور کے الیکٹرک ، نیپرا و حکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف مرکزی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ شرکاء نے کے الیکٹرک کے خلاف زبردست نعرے بھی لگائے جن میں یہ نعرے شامل تھے چور ہے چور ہے کے الیکٹرک چور ہے ، کراچی کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک بند کرو ، لوڈشیڈنگ بند کرو ، میٹر رینٹ نامنظور ، اوور بلنگ نامنظور ،بجلی چوری نامنظور جبکہ اس موقع پر شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے ، جن پر کے الیکٹرک کے خلاف مختلف نعرے درج تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم برسوں سے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ، ہم نے نیپرا کے اندر بھی بطور فریق شریک ہوکر کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑاہے اور کے الیکٹرک کو بے نقاب کیا ہے ۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے باعث ہی نیپرا نے ابھی تک کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا ہے لیکن افسوس کہ کے الیکٹرک کے خلاف شکایا ت کا ازالہ بھی نہیں کیا گیا ۔ ہمیشہ کے الیکٹرک کو تحفظ فراہم کیا گیا اور ہر دور حکومت میں کے الیکٹرک کو اپنی من مانی کرنے اور عوام پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ کے الیکٹرک کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دیا جانے والا دھرنا مسائل کے حل تک جاری رہے گا، حکومت کی طرف سے کوئی بھی سنجیدہ کوشش کی گئی تو ہم ضرور تعاون کریں گے‘ صرف دھرنا ختم کرانے کے لئے یا صرف زبانی مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور یقین دہانی کرائیں کہ کے الیکٹرک کی لوٹ مار کا حساب لیا جائے گا اور کراچی کے شہریوں کو کے الیکٹرک کے مظالم سے نجات دلائی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک ڈبل بنک چارجز اور میٹر رینٹ،کلاء بیک ،فیول ایڈ جسٹمنٹ چارجز کے نام پرکراچی کے عوام سے اربوں روپے کی لوٹ مار کرچکی ہے اور آج بھی یہی عمل جاری ہے ، کے الیکٹرک کو جو سبسیڈی دی جاتی ہے وہ عوام کو نہیں ملتی اس کا فائدہ بھی کے الیکٹرک کو پہنچتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سمیت کسی پارٹی نے کے الیکٹرک کے خلاف کبھی بھی آواز نہیں اٹھائی بلکہ اسے حکومتی چھتری فراہم کی گئی اور کمپنی میں اپنے رشتہ داروں کو اعلیٰ مناصب پر لگوایا گیا لیکن اب بہت سی پارٹیاں بیانات دے رہی ہیں لیکن زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھنے پر تیار نہیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کو وفاق سے 600 اور دیگر سے 380 میگاواٹ ملتے ہیں، کے الیکٹرک کے تمام پاور پلانٹ نہیں چلائے جاتے ، کے الیکٹرک کو سوئی گیس سے پہلے 100 MMCملتی تھی اور اب 90 MMC ملتی ہے ، کے الیکٹرک فیول ایڈجسمنٹ کے نام پر اربوں روپے وصول کرچکی ہے اور فرنس آئل کے نام پر صارفین سے اربوں روپے وصول کیے جارہے ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم وزیراعظم شاہد عباسی سے پوچھتے ہیں کہ آف شورکمپنی اور کے الیکٹرک کے درمیان کیا رشتہ ہے ، آخر کیوں کے الیکٹرک کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاتا‘ ہم صوبائی حکومت سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے حوالے سے ا پنا موقف واضح کرے۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے تحت شہر بھر میں 50 سے زائد مقامات پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ ضلع شرقی میں صفورہ گوٹھ ، جامع مسجد بلال ابوالحسن اصفہانی روڈ ، بیت المکرم مسجد ، شاہ فیصل ناتھا خان ، جامع مسجد علی المرتضیٰ گلستان جوہر یونیورسٹی روڈ ، ضلع غربی میں جامع مسجد دارالسلام اورنگی ٹاؤن نمبر 4 ، اقصیٰ مسجد ،میٹروویل، ضلع بن قاسم میں دارالعلوم کراچی ، جامع مسجد طیبہ زمان ٹاؤن، جامع مسجد توحیدی بابر مارکیٹ لانڈھی ، ضلع جنوبی میں نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ ، چاکیواڑہ توحیدی مسجد ، اولیاء مسجد مین بس اسٹاپ گارڈن ، بہار کالونی ، نوا لین ، موسی لین ، میر اناکا ، کالا پُل ، آگرہ تاج، ڈیفنس ، منظور کالونی ، دہلی کالونی ودیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔احتجاجی مظاہروں سے نائب امیر صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ،نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ،امراء اضلاع یونس بارائی ،عبدالرزاق ،عبدالجمیل ،عبدالرشید ،منعم ظفر خان ،قیمین اضلاع نعیم اختر ،محمود الحسن ،مرزا فرحان بیگ ،سفیان دلاور ،محمد یوسف ،نائب امراء ضلع وسطی خالد صدیقی ،احمد قاری ،وجیہہ الحسن ،نائب امیر زون عبدالوحید ،ناظم جمشید ٹاؤن بخت علی شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس