Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی تو ریڈ زون میں دھرنا اور کراچی کو بند کرنے کا اعلان کیا جائے گا ۔ حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍12اپریل 2018ء:جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کو 3دن کا ایلٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور کراچی کے شہریوں کو ریلیف نہیں ملا تو ریڈ زون میں دھر نے اور پورا شہر بند کرنے کا اعلان کیا جائے گا ، جمعہ 13اپریل کو شہر میں 50سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ، کے الیکٹرک کو عوام پر ظلم ڈھانے اور لوٹ مار کر کے بھاگنے نہیں دیا جائے گا ، وفاقی و صوبائی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کو تحفظ دینے کا سلسلہ بند کریں، کراچی پاکستان کا شہر ہے ، اسلام آباد کی طرف سے اسے نظر انداز کیے جانے کا عمل ختم کیا جائے ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کے ظلم سے نجات دلانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں ، وزیر اعلیٰ وفاقی حکومت کو خطوط لکھ کو خو د کو بری الذمہ قرار نہیں د ے سکتے ، گورنر سندھ وفاق کے نمائندے ہیں ، ہم نے ان پر اعتماد اور اعتبا رکیا لیکن افسوس کہ گورنر صاحب نے کے الیکٹرک کے حوالے سے 17نکاتی مطالبات منظور کرانے کے بجائے کے الیکٹرک کی وکالت کی، چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ کراچی میں بدترین لوڈ شیڈنگ اور کے الیکٹرک کی لوٹ مار کا نوٹس لیں اور عدالتوں میں کے الیکٹرک کے خلاف دو سال سے زیر التواء درخواستوں کو ساتھ ملا کر سماعت کی جائے اور کراچی کے شہریوں کو ریلیف دلوایا جائے ۔ ضرورت پڑی تو صحافیوں کے ہمراہ کے الیکٹرک کے تمام پاور پلانٹس کا دورہ کریں گے تاکہ عوام کو پتا چل سکے کہ کون جھوٹ بول رہا ہے ۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے کے الیکٹرک کی جانب سے اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کے خلاف کے الیکٹرک ہیڈ آفس ،گذری پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر کراچی برجیس احمد ، سکریٹری کراچی عبد الوہاب، ڈپٹی سکریٹری و پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ ، ڈپٹی سکریٹری عبد الواحد شیخ ، کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے چیئرمین عمران شاہد ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی عبد الرشید ، سکریٹری ضلع سفیان دلاور اور دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کے حوالے سے اصل حقائق عوام کے سامنے آنے چاہیئے اور کے الیکٹرک کو عوا م پر ظلم کرنے اور لوٹ مار کے عمل سے باز رکھنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ، ہر دور حکومت میں کے الیکٹرک کی پشت پناہی کی گئی ہے اور مختلف پارٹیوں نے بھی کے الیکٹرک کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے کئی سالوں سے عوام کے حق کے لیے کے الیکٹرک کے خلاف تحریک چلائی ہوئی ہے اور کے الیکٹرک کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے ۔جماعت اسلامی کی عوامی جدوجہد کے باعث ہی ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا جاسکا ہے ، دیگر پارٹیوں کو بھی اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی کمی صرف بہانہ ہے ، کے الیکٹرک فرنس آئل پر پلانٹس چلانے کے بجائے صرف سے گیس سے بجلی پیدا کرنے پر اکتفا کرتی ہے تاکہ اس کا منافع زیادہ سے زیادہ بڑھے اگر کے الیکٹرک اپنے تمام پلانٹس چلائے اور فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال اور بحال کرے تو کراچی میں بجلی کی کوئی قلت نہیں ہوگی اور عوام کو اذیت ناک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے کے لئے سارا انحصار NTDC اورIPPs سے حاصل کردہ بجلی پر کر رکھا ہے ۔معاہدے کے مطابق نہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے اور نہ ہی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے بوسیدہ نظام کی بہتری کے لیے مطلوبہ سرمایہ کاری کی ہے ، کے الیکٹرک کو اپنے پلانٹس کو مکمل استعدادی گنجائش پر چلانے پر ٹرانسمیشن کے بوسیدہ نظام کی وجہ سے نہ صرف T&D نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹرانسمیشن اور فیڈرز ٹرپ کر جانے کی وجہ سے شہر میں طویل بریک ڈاؤن شروع ہو جاتے ہیں اور کے الیکٹرک کو مالی نقصانات کے ساتھ اس کی بدترین کارکردگی سب پر عیاں ہوجاتی ہے۔ لہذا کے الیکٹرک ان نقصانات سے بچنے اور بدترین کارکردگی کابھانڈا پھوٹنے سے بچنے کیلئے کبھی گیس کی کمی کا بہانہ تو کبھی NTDC سے کم بجلی ملنے کا بہانہ تو کبھی موسم گرما میں آنے والی ہیٹ ویو کو مورد الزام ٹھیرا کر اپنی مجرمانہ غفلت اور مصنوعی لوڈشیڈنگ پر پردہ ڈالنے کو وطیرہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کے الیکٹرک اپنے پلانٹس کی استعدادی گنجائش سے پیدا کردہ اور NTDC اور IPPs سے حاصل کردہ بجلی 3200میگاواٹ سے زیاد ہ ہے جبکہ حالیہ موسم گرما کی انتہائی طلب 2600 میگاواٹ ہے ، جوکہ دستیاب بجلی سی کم ہے اگر آج کے الیکٹرک اپنے فرنس آئل کے تمام پلانٹس کو مکمل استعداد پر چلائے تو کراچی میں آج ہی لوڈشیڈنگ صفر ہوسکتی ہے ۔ بن قاسم اسٹیشن 1 کے یونٹ 3 اور 4 جوکہ کراچی کو420میگاواٹ بجلی فراہمی کرتے تھے کے الیکٹرک نے ان یونٹس کو کوئلے پر منتقل کرنے کے نام پر گزشتہ 4 سال سے بند رکھے ہیں ، کے الیکٹرک نے اس سے پہلے بھی کئی پلانٹس پرانے ہونے کی وجہ سے بند تو کردیے لیکن اس کے متبادل پلانٹس نہیں لگائے ۔کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2005 میں سرکاری کے ای ایس سی نے بجلی کے 9300 ملین یونٹس کی پیداوار کی جبکہ نجکاری کے 10 سال بعد بھی کے الیکٹرک نے 2015 میں صرف 9318 ملین یونٹس کی پیداوار کی 10 سالوں میں صرف کل 18 ملین یونٹس کا اضافہ کیا ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر T&D نقصانات ہدف سے زیادہ ہو جانے اور ریکوری 100 فیصد نہ ہونے کے باوجود بھی گزشتہ کئی سالوں سے کے الیکٹرک اربوں روپے کا منافع کما رہی ہے ۔2013 میں 6 ارب ، 2014 میں 14ارب، 2015 میں 28 ارب ، 2016 میں 32 ارب اور 2017 کا 40 ارب منافع متوقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی ساری توجہ جس کے ای ایس سی کو 16 ارب میں خریدا تھا ، اسے177 ارب میں شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کرکے فرار ہونے میں لگی ہوئی ہے ۔ مگر جماعت اسلامی کے الیکٹرک کو چھپنے اور بھاگنے نہیں دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر کراچی میں بد ترین لوڈ شیڈنگ سے شہری اور تاجر طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے ، تاجر کاروبار نہیں کرسکتے اور صنعتی اداروں پر کام بند ہوگیا ہے ، طالب علم امتحان دینے اور تیاری کرنے میں مشکلات کا شکا ر ہیں ۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس حوالے سے مختلف طبقات اور اسٹیک ہولڈر سے بھی رابطے اور مشاورت کی جائے گی تاکہ کے الیکٹرک کے خلاف مؤثر تحریک چلائی جاسکے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس