Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ملک کا مستقبل اسلامی نظام سے وابستہ ہے، ایم ایم اے برسر اقتدار آکر ملک میں اسلامی نظام رائج کرے گی۔اسداللہ بھٹو


سکھر12/ اپریل 2018ء:جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر ، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر ،سابق رکن قومی اسمبلی اسدا للہ بھٹو نے کہا ہے کہ ملک کا مستقبل اسلامی نظام سے وابستہ ہے، جماعت اسلامی دیگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے ساتھ مل کر آئندہ عام انتخابات میں برسر اقتدار آکر ملک میں اسلامی نظام کو رائج کریگی،قوم 2018کے الیکشن میں بھرپور کردار ادا کرکے پاکستان کو امریکہ کے یاروں سے قوم نجات حاصل کرلے، ان خیالات کاا ظہار انہوں نے درالعلوم تفہیم القران سکھر میں تقریب ختم بخاری شریف،وجلسہ دستار فضیلت میں خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی ، ، نائب امیر صوبہ بلوچستان مولانا رشید احمد،مہتمم دارلعلوم تفہیم القران مولانا حزب اللہ جکرو، جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی صوبہ سندھ ممتاز حسین سہتو، عبدالٖحفیظ بجارانی، مولانا عبداللہ کھوسو، مولانا بشیرلاشاری ، حافظ نصراللہ چنا، نظام الدین میمن، مولانا عبیدالرحمن ، مولانا سلطان لاشاری سمیت دیگر رہنماؤں علمائے کرام نے بھی خطاب کیا، اسداللہ بھٹو نے مذید کہا کہ انہوں نے کہا کہ اسلامی حکومت کا قیام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہم سنت ہے جنہوں نے سب سے پہلے مدینہ کو اسلامی حکومت قائم کی، اور اس کے لئے جدو جہد کی، یہ اللہ کی جانب سے فر ض بھی ہے اور آقائے نامدار ؐ کی سنت بھی ہے، ملک اور ملکی اداروں کا نظام درست چلانے کیلئے اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے، جس کیلئے محب وطن دیندار قیادت کو برسر اقتدار لانا ہوگا،اور منظم پر امن جدو جہد کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دیگر جماعتوں کیساتھ مل کر اسلامی نظام کے نفاذ کو عمل میں لائے گی،انہوںنے کہا کہ ناموس رسالتؐ کے قانون کو ختم کرنے کیلئے امریکہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے مطالبہ کیا لیکن حکمراں جان لیں کہ  ناموس رسالت پر جان بھی قربان ہے ، ختم نبوت کے معاملہ پر قوم کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریگی، انہوں نے مذید کہا کہ ایم ایم اے مذہبی جماعتوں کا اتحاد قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں تمام مکاتب فکر و مسالک کی جماعتیں شامل ہیں پاکستان میں بے دینی کو ختم کر دیں گے، الیکشن کے زریعہ بیلٹ کے زریعہ پر امن انقلاب لائیں گے ،انہوں نے کہا کہ ملک کا قیام کلمہ کی بنیاد پر عمل میں آیا اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کا عہد کیا گیا تھا لیکن حکمرانوں نے رکاوٹیں ڈالیں اور قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل نہیںہونے دی، انہوں نے کہا کہ دستار بندی کرانے والے طلبہ کے والدین خوش نصیب ہیں جنہوں نے دنیاوی مقصد و فوائد کے حصول کیلئے تعلیم کیلئے آخرت کے فائدے کو ترجیح دی اور دینی تعلیم دلوائی،دارلعلوم تفہیم القران سکھر سے حافظ قران و حدیث تعلیم حاصل کرنے والے حفاظ طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس