Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قوموں کی تعمیر و ترقی کا تصور عورت کے موثر کردار کے بغیر نامکمل ہے ۔ دردانہ صدیقی


لاہور 12مارچ 2018ء:معاشرتی اقدار کسی بھی معاشرے کی بنیادی اساس ہیں اور تہذیب واقدار کی اصل محافظ عورت ہے۔خاندان کی تربیت اور نسلوں کی تراش خراش کی ذمہ داری عورت پر منحصر ہے۔اس لئے ہر تہذیب اور معاشرے کا بنیادی ستون عورت ہی ہے۔اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے قابل فخر مقام و مرتبہ دیا ہے اور نسل نو کی تعمیرو تربیت اس کے سپرد کر کے اس کو کائنات کی معتبر ہستی بنا دیا۔نسل انسانی کی تخلیق کا گرانبار فریضہ عورت کے مقام بلند کی دلیل ہے۔ان خیالات کا اظہار انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کے پلیٹ فارم سے منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس میں انڈونیشیا ، سوڈان ،فلسطین ،سری لنکن،کشمیر ، عراق،نائیجیریا،یوگنڈا ،ایران،تھائی لینڈ،چین،ناروے،اٹلی،ترکی، اردن ، لبنان اور پاکستان سے خواتین شریک ہوئیں ۔ کانفرنس کے افتتاحی خطاب میں صدر مسلم وویمن یونین ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ ایک طرف عورت نرم و نازک ، وفا کا پیکر اور وجہ سکون ٹھہرائی گئی ہے ، وہی عورت نسلوں اور قوموں کے دلوں کو جوڑنے اور وفا کا درس دیتی ہے ۔ اس عورت کے مقام و مرتبہ اور تہذیب کے اس اہم ستون کو مضبوط بنانے کیلئے اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ 

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خواتین دردانہ صدیقی نے کہا کہ قوموں کی تعمیر و ترقی کا تصور عورت کے موثر کردار کے بغیر ممکن نہیں ۔ ماں کی گود کا نعم البدل نہیں ۔ عورت اپنے فطری دائرہ کار میں رہتے ہوئے قوموں کی ترقی میں بہترین کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ اسلامی احکامات کی روشنی میں مرد و عورت کے باہمی اشتراک سے تمدن اور معاشرت کا نظام قائم ہوتا ہے ۔ قومی سطح پر سفارشات مرتب کرتے ہوئے قرآن و سنت کو بنیاد بنایا جائے ۔ 

انڈونیشیا کی ڈاکٹر نور سنیتا نے کہا کہ سیکولر نظام تعلیم نے مذہب سے سائنس کو الگ کر دیا ہے ۔ والدین عام طور پر اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ تعلیمی ادارے ان کے بچوں کو کون سی تعلیم دے رہے ہیں ۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں ۔ ان کی بہترین تعلیم و تربیت ملک و قوم کیلئے فائدہ مند ہو سکتی ہے ۔ سیکولر نظام تعلیم کے مقابلے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کا گہرا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں کو بھی اسلام سے متعلق آگاہی دیں ۔ 

لبنان کی ڈاکٹر رابعہ یلماز نے کہا کہ اس وقت جنگ کی وجہ سے بہت سی عورتیں اور بچے متاثر ہورہے ہیں ۔ عورتوں کے خلاف ہر طرح کی دہشتگردی ہو رہی ہے ۔ اس کو مل کر روکنا ہوگا ۔ 

سابق پارلیمنٹیرین سوڈان ڈاکٹر عفاف احمد نے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے سوڈان میں اپنے کئے گئے کام پر روشنی ڈالی -اس موقع پر حلیمہ وقابی اکبر (یوگنڈا) ، رابعہ یلماز (ترکی) ، سعدی کاسمیاق (ترکی) ، کلثوم رانجھا ، ثمینہ سعید ، ساجدہ احسان (پاکستان) ، زین العابدین محامندا وار (سری لنکا) ، ڈاکٹر نصیحہ امین (سری لنکا) ، ھیام ابوالعدس (اردن) ، عائچہ یکان (لبنان) ، حداد بلال (لبنان) ، ہالہ محغوب (سوڈان) ، ڈاکٹر عفاف احمد محمد حسیین (سوڈان) ، ڈاکٹر نادیہ ، سیتی ہانا حرن عبیداللہ (انڈونیشیا) ، سیتی نرسانیتا (انڈونیشیا) ، امانے لبث (انڈونیشیا) نے بھی خطاب کیا اور تعمیر امت اور معاشرے میں عورت کے کردار اور معاشی خود انحصاری ، عالمی تنازعات اور امن سازی ، شدت پسندی اور دہشتگردی کا سد باب ، اختلافی نظریات ، شمولیت اور بین العقاد ، پُرامن بقائے وجود سمیت مختلف مقالہ جات پیش کئے گئے ، مقالہ جات کے مطابق :۔ 

٭ ٭ انتہاپسندی اور دہشتگردی کاخاتمہ، بین الاقوامی مسالک اور بین المذاہب مکالمہ، قوموں کی ترقی، علمی میدان، خاندان کے استحکام، صحبت عامہ، سماجی کردار، اخلاقی اقدار، معاشی استحکام، میں عورت کا کردار، بقائے باہمی میں یکجہتی اور عالمی تنازعات میں امن عامہ کا کردار، جس میں عالمی خواتین کانفرنس کے شرکا اس بات پر متفق ہیں کہ عورت تہذیبوں کی اصل محافظ اور اقدار و روایات کی امین ہے۔ عورت طاقت ہے اگر وہ اپنی ذمہ داری کے منصب سے واقف ہو تو معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عورت کیل ¾ے ذہنی، فکری، اور جسمانی سکون بہت ضروری ہے۔ تاکہ وہ آسودگی کے ساتھ خاندان اور معاشرے کے استحکام کیل ¾ے اپنا کردار ادا کر سکے۔ 

٭ ٭ شام، یمن، فلسطین، کشمیر، برما ہر جگہ جاری جنگوں سے عورت براہ راست متاثر ہو رہی ہے جس کے نقصانات واضح ہیں، بچوں اورخواتین کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں۔ دنیا میں جاری جنگ و جدل عورت کی تباہی کا پیغام ہیں عورت محفوظ نہیں ہو گی تو تہذیبیں زمیں بوس ہو جائیں گی۔

٭ ٭ ہمیں اعتدال پر مبنی پرسکون معاشرہ قائم کرنے کے لئے عورت کو محبت کے ساتھ حفاظت، امن اور احترام کا ماحول فراہم کرنا چاہیے تاکہ نسل انسانی کی تعمیر با وقار انداز میں ہو سکے۔اس موقع پر مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ : 

٭ ٭ قومی ترقی کے عمل میں خواتین کی موثر اور فعال شرکت کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے۔

٭ ٭ خواتین کو اسلام کے تفویض کردہ حقوق(وراثت، مہر، تعلیم، صحت) کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

٭ ٭ جاہلانہ رسوم پر مبنی تمام رویوں اور اقدامات کی بیخ کنی کی جائے۔

٭ ٭ تعلیمی اداروں اور ملازمت کی جگہوں پر محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

٭ ٭ خواتین ورکرز کے تحفظ اور مراعات سے متعلق قوانین پر موثر عمل درآمد کا نظام بنایا جائے۔

٭ ٭ خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے واقعات پر مجرموں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔

٭ ٭ خواتین کی تعلیمی سرگرمیوں کو قومی اور معاشرتی ضروریات اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے متعلقہ وزارتیں فوری اور موثر اقدامات کرے۔٭ ٭ سیاسی جماعتوں کی فیصلہ سازی میں خواتین کو برابر کا شریک کیا جائے۔

٭ ٭ عورت تہذیبی اقدار کی بنیاد ہے لہٰذا ذرائع ابلاغ پر عورت کا مثبت کردار اجاگر کیا جائے اور اسے محض اشتہاری صنعت میں بطور نمائش استعمال نہ کیا جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس