Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ڈاکٹر معراج الہدیٰ کاسندھ میں معصوم بچوں کی بڑے پیمانے پر اموات پر تشویش کا اظہار


کراچی 11مارچ 2018 جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے تھر میں معصوم بچوں کی بڑے پیمانے پر اموات کے بعد سندھ کے دیگر اضلاع میں خسرہ کی وبا کے پھیلاﺅ اور غیرمعیاری وایکسپائرڈ ویکسین کی وجہ سے درجنوں کی تعداد میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران سینیٹ چیئرمین کی نشست کیلئے سودے بازی اور بھاﺅ تاﺅ میں لگے ہوئے ہیں جبکہ سندھ کے عوام اپنے معصوم بچوں کی لاشوں کو دفنانے میں مصروف ہیں،پیپلزپارٹی سندھ پر گذشتہ دس سالوں سے حکمرانی کر رہی ہے، ایک طرف فخریہ طورپراپنی کارکردگی دکھانے کے لیے میڈیا پرتشہیری مہم چلائی جارہی ہے لیکن دوسری جانب خسرہ جیسی معمولی بیماری کا ویکسین نہ ملنے اور ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، پیرامیڈیکل عملے کا نہ ہونا پیپلزپارٹی قیادت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ بدین، ٹھٹہ، نوابشاہ اور خیرپور سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں خسرہ کی بیماری ایک وبائی شکل اختیار کرچکی ہے جس کی وجہ سے گذشتہ چند دنوں میں درجنوں معصوم بچوں کی جان چلی گئی ہے اور کئی ماﺅں کی گود اجڑچکی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف)ایک ماہ قبل اپنی رپورٹ میں پاکستان کو نومولود بچوں کی اموات میں سب سے خطر ناک ملک قرار دے چکا ہے مگرحکمرانوں کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔سندھ کے عوام تین دھائیوں سے پیپلزپارٹی کو ووٹ اور نوٹ کے ذریعے اقتداری ایوانوں میں پہنچاتی رہی ہیں لیکن حکمران جماعت کے پاس سندھ کے لوگوں کیلئے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی میسر نہ کرنا حکمران جماعت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارت صحت اور وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر خسرہ کی وبائی صورتحال پر قابو پانے کیلئے تمام اضلاع کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، ادویات کی فراہمی اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے مو ¿ثر اقدامات کریں تاکہ مزید معصوم بچوں کی اموات ، ماﺅں کی گود اجڑنے کے عمل کو روکا جاسکے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس