Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آ زادی کے نام پر خاندانی نظام کی تباہی مغرب کا ایجنڈا ہے۔ یوم خواتین کے حوالے سے کا نفرنس


کراچی7مارچ2018ء:عورتوں کے حقوق قرآن مجید میں ضابطہ حیات کے طور پر متعین کر دئے ہیں ،عورت آزادی کی نہیں تحفظ کی خواہ ہیں جو کہ اسے دین اسلام میں ملتا ہے۔ آ زادی کے نام پر خاندانی نظام کی تباہی مغرب کا ایجنڈا ہے ، آ زادی اور حیاء کا توازن ضروری ہے ۔ حیاء معا شرے سے ختم ہو جا ئے تو سا نحہ قصور جیسے واقعات جنم لیتے ہیں،والدین اپنے ہی نگرانی میں بچوں کی پرورش کریں۔ زینب کے مجرم کو کھلے عا م پھا نسی دی جائے ۔تا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے ۔ ڈاکٹر عا فیہ صدیقی عظمت کی نشان ہے ، حکومت 30 مارچ کو سرکاری طور پر ڈاکٹر عا فیہ کیلئے یو م اغواء منانے کا اعلان کرے۔انھوں نے مز ید کہاکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں عورت کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ حقوق نسواں کی جدوجہد کیلئے شعور کی بیداری اور جہالت کا خاتمہ کر نا ہو گا۔ اسلام میں عورت کو جو مقام اور عزت ہے کسی اور مذہب میں نہیں ،عورت معا شرے کے سدھار کا ذریعہ ہے ۔ ہماری خواتین نے ہر میدان میں اپنا لو ہا منوایا ہے کھیل، ادب ،سا ئنس کا میدان ہو یا انفا رمیشن ٹیکنا لو جی کاغرض کے ہر شعبے میں پا کستان کا پر چم دنیا میں بلندکیا ہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے تحت خوا تین کے عا لمی دن کے حوالے سے عورت - آ زادی اور حیاء کے مو ضوع پر فاران کلب میں کا نفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا ۔ جس میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔اس مو قع پر وزیر اعلیٰ کی مشیر برائے سماجی و بہبود شمیم ممتاز ، نا ئب امیر جما عت اسلامی کراچی اسامہ رضی ،عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ،پی ٹی کی رہنما صائمہ ندیم ، ڈائیریکٹر سوشل ویلفیئر شیماعارف ، صدر ہیومن رائٹس نیٹ ورک انتخاب عا لم سوری ، جنرل سیکریٹری شہزاد مظہر ، روبینہ جتوئی ایڈوکیٹ، شگفتہ انیس نے خطاب کیا ۔ شمیم ممتازنے کہا کہ 365 دن عورتوں کے ہیں ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے سا تھ ظلم و ستم کی انتہاہے ، بر ما، شام ، فلسطین اور کشمیر کی مظلوم خواتین پر ہو نے والے مظا لم ہیومن رائٹس نیٹ ورک سفارت کا روں کو یا دا شت پیش کریں گے ۔ فیملی نظا م خراب ہو چکا ہے ، تربیت کا نظام وقت کی ضرورت ہے ۔ اسا مہ رضی نے کہا ہے کہ خواتین کا عا لمی دن منا نا مغر ب کا ایجنڈا ہے ،پا کستان میں عورت جا گیردار انہ اور سرمایہ دار کا شکار ہے ۔ ہمیں نظام کو تبدیلکر نے کی جدو جہد کر نی چا ئیے ۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ خواتین کا عا لمی دن منا نے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ ہمیں اپنی بہن عا فیہ کیلئے روزانہ جیتے اور مر تے ہیں ۔ عورت معا شرے کی عزت کی علامت ہے جو حکمران اور سیاستدان عورت کا تحفظ نہیں کر سکتی وہ دنیا میں ذلیل ہو جا تی ہے ۔انتخاب سوری نے کہا کہ پاکستان میں خواتین پرتشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں جس کیخلاف حکمران عملی اقدامات کرے۔ آ ج بھی خواتین ذہنی، جسمانی اور گھریلو تشدد کا شکار ہیں ، قوانین اور پالیسیاں تو مو جود ہیں لیکن عملی اقدامات کی کمی ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین پر ہو نے والے تشدد اور مظا لم ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ خوا تین کو تحفظ دیا جا ئے ۔ایک جا ری کردہ رپورٹ کے مطا بق یکم جنوری 2018ء سے 20 جنوری 2018ء تک بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے چند واقعات سامنے آ چکے ہیں،جو کے قصور، سانگھڑ، مردان اور ٹنڈو آدم میں ہوئے۔ یہ وہ واقعات تھے جو اخبارات اور سوشل میڈیا کے توسط سے منظرعام پر آئے۔اس مو قع پرجوا ئنٹ سیکر یٹری ذبیح اللہ قر یشی ، نورالحق ، نصرت اختر، سید پرویز سلیمان ، شمع النشاء ، منیر شیخ، سلیم اللہ ، محمد سالم ، محمد اسلام و دیگر بھی مو جو د تھے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس