Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

اگرشام میں بڑھتی ہوئی جارحیت کونہ روکا گیا توپوری دنیاکاامن خطرے میں پڑ جائے گا۔ذکراللہ مجاہد


لاہور7 مارچ 2018ء:امیر جماعت اسلامی ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کو شام کے مسئلے کے فوری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے فروعی، گروہی، مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوکر اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کریں کیونکہ یہود وہنود مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر اپنے مذموم مقاصد کرنے کیلئے اسلامی ممالک کو ایک ایک کرکے نشانہ بنارہا ہے مقبوضہ کشمیر، فلسطین، برما کے بعد شام میں جس وحشت اور بربریت سے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل عام ہو رہا ہے وہ ظلم کی المناک داستان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت طلبہ عربیہ لاہور کے زیر اہتمام شام میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کیخلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرمنتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان عبید الرحمن،معاون امین عام جمعیت طلبہ عربیہ محمد عامر،منتظم جمعیت طلبہ عربیہ پنجاب محمد اشفاق ،سیکرٹری صدر الخدمت لاہورعبد العزیز عابد،سیکرٹری اطلاعات جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان عتیق الرحمن،منتظم جمعیت طلبہ عربیہ لاہور قاضی مامون الرحمن،منتظم جمعیت طلبہ عربیہ حلقہ منصورہ شفقت منصوری سمیت دیگرشریک ہوئے ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ مسلمانوںکواللہ نے ایک جسم کی مانندبیان فرمایا ہے مگریہ کون سے بین الاقوامی قوانین ہیںکہ مسلمان کوہرجگہ بربریت کانشانہ بنایا جارہا ہے۔شام میں بڑھتی ہوئی جارحیت کونہ روکا گیا توپوری دنیاکاامن خطرے میںپڑ جائے گاایسی اسلام دشمن قوتوںکولگام ڈالنے اوران سے نپٹنے کے لئے مسلم امہ کواتحادویکجہتی کامظاہرہ کرناہوگا۔شامی مسلمانوںکی مددکرنے کے اپنی اپنی حد تک کرداراداکرنا چاہئے۔عبید الرحمن عباسی نے مزید کہا کہ تاریخ توہمیں بھول جائے مگرہمارارب ہم سے ضرورپوچھے گاجب زمین پرفسا برپا کیا گیاتھاتوتم نے اس فساد کوختم کرنے میں کیا حصہ ڈالاتھا۔کسی مسلمان حکمران کاضمیرنہ جاگ سکاکشمیر،فلسطین،برما،عراق،شام سمیت متعددمسلم ممالک میںمسلمانوںکے خلاف انسانیت سوزکاروائیاں کی جارہی ہیںاورکوئی ان کے زخموںپرمرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔ اس موقع پرمنتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان عبید الرحمن عباسی نے کہاکہ ملک شام میں انسانیت کے ساتھ ہوشربا انتہائی ظالمانہ اور سفاکانہ ظلم رواں رکھا جا رہا ہے اسے کوئی درد دل رکھنے والا شخص نہیں دیکھ سکتا،اس کئے جانے والے ظلم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، انسانیت کے ساتھ جو حکومت شام کی طرف سے ظلم و بربریت کی جا رہی ہے جسے دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے، اسلامی ممالک اور ان میں بسنے والے مسلمانان عالم اس وقت کہاں ہیں،یہ ایک سوالیہ نشان ہے،انہوں نے کہا کہ اس ظم کو جاری ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے مگر کسی اسلامی ریاست کے نمائندوں کی طرف سے کوئی ایک مذمتی لفظ بھی نہیں کہا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی آپس میں نا اتفاقی کی بدولت طاغوتی قوتوں نے دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کے ہاتوں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر وا رکھا ہے۔ اور ایسے مظالم روا رکھے جا رہے ہیں جنہیں دیکھ کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کا قتل عام روز کا معمول بن چکا ہے ملک شام میں جاری خانہ جنگی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جہاں پر فرقہ واریت، لسانیت اور دہشت گردی کے نام پر عالمی دجالی قوتیں بعض اسلامی ممالک اور مقامی مسلمانوں کو گروہوں کی شکل میں تقسیم کر کے خود ان کے ہاتھوں اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل عام کروارہی ہیں۔ بچوں بوڑھوں، عورتوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر خون مسلم کی ندیاں بہائی جارہی ہیں۔ خواتین اور نو عمر بچیوں کی عصمت دری کی جارہی ہے۔ کلمہ گو مسلمان خو دا پنے ہی ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ مسلمانوں کی آپس میں نا اتفاقی نے اسلام دشمن قوتوں کو حوصلہ دیا ہے اور مظالم کا یہ سلسلہ آئے روز بڑھتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو ہی آلہ کار بنا کر ان کے ہاتھوں مسلمان بھائیوں کو ملیا میٹ کروایا جارہا ہے۔ ان تمام حالات میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر مسلم امہ کا اتحاد وقت اہم ضرورت ہے اور مصیبتوں، پریشانیوں سے چھٹکارے کا حل اسلامی تعلیمات میں عمل پیرا ہونے پر مضمر ہے۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب دنیا بھر کے مسلمان ایک رسول ﷺ، ایک خدا اور ایک کتاب کو ماننے والے فرقہ واریت، لسانیت، گروہی اختلافات اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کو یقینی بنائیں جس میں یہ حکم دیا گیا ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔منتظم جمعیت طلبہ عربیہ لاہور مامون الرحمن نے کہا کہ حکومت شام کے مسلمانوںکے مظلوم مسلمانوںکی مددکے لئے اپناکرداراداکرے،شام میںنہتے وبیگناہ مسلمانوںپرکیمیائی ہتھیاروںسے بمباری پرمسلم امہ اوراقوام متحدہ کی خاموشی معنی خیز،یہودونصاریٰ کی ایک سازش کے تحت مسلمانوںکی نسل کشی کی جارہی ہے۔حالیہ دورکاسب سے بڑاقتل عام شام کی سرزمین پرہوا۔عالمی حقوق کاخودساختہ چیمپئن امریکہ اب انسانی حقوق کی خلاف ورزی کیوںنظرنہیںآرہی۔انہوں نے کہاکہ یہود و ہنود نے ایک گہری سازش کے تحت مسلم امہ کو تقسیم کرنے کا منصوبہ پروان چڑھایا ہے روس اور امریکہ مداخلت کی بجائے شام کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیںشامی عوام جب بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جدوجہد کیلئے نکلی ہے تو روس اور امریکہ کا بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کیلئے بے گناہ شامیوں کے قتل عام میں بشار حکومت کی مدد کرنا قابل مذمت اور قابل افسوس ہے

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس