Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

الیکشن کمیشن اعتراضات کوجلدنمٹائے اور اسٹیک ہولڈرزکواعتمادمیں لے۔ میاں مقصوداحمد


لاہور7 مارچ 2018ء:امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات سامنے آنے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ نئی حلقہ بندیوں سے کسی حلقے میں ووٹرزکی تعداد11لاکھ اور کسی میں4لاکھ سے بھی کم ہوگئی ہے جس سے آئندہ انتخابات کی شفافیت پر سنگین سوالات نے جنم لے لیا ہے۔حکومت نے قبل ازوقت دھاندلی کامنصوبہ بنالیا ہے جس سے ملک میں بد اعتمادی کی فضا ء قائم ہوگئی اور عوام کو شدیدپرشانی کاسامناکرناپڑے گا۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن انتخابات لڑنے والی تمام دینی وسیاسی جماعتوں کواعتماد میں لے کرنئی حلقہ بندیوں بارے مشاورت کرتا تو اچھاہوتا۔انہوں نے کہاکہ یوں محسوس ہوتاہے کہ حکمران اپنے ترقیاتی کاموں کی عدم تکمیل اور بدترین کارکردگی کوچھپانے کے لیے ملک میں انتخابات کاالتواء چاہتے ہیں اور اس منصوبے پر عمل درآمد کروانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں ہیں۔ملک میں بروقت انتخابات کا انعقاد نہایت ضروری ہے بصورت دیگر انارکی اور افراتفری پھیلے گی۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ماہرین کی زیر نگرانی’’ کلاک وائز‘‘ کرکے قوم کو اضطراب میں مبتلاکردیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل220کے تحت جس طرح الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی تکمیل کے لیے پولنگ کاعملہ صوبائی محکمہ جات سے حاصل کرسکتا ہے تونئی حلقہ بندیوں کے لیے لوکل گورنمنٹ سے معاونت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ 1988,1986,1974اور2002میں جوحلقہ بندیاں ملک میں کی گئیں تھیں ان میں بھی آبادی کے تناسب اور بنیادی ڈھانچہ کومدنظررکھاگیا تھا مگرالمیہ یہ ہے کہ موجودہ حلقہ بندیوں میں سارے ڈھانچے کو ہی زمین بوس کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اعتراضات کوجلدازجلدنمٹائے اور اسٹیک ہولڈرزکومکمل طورپر اعتمادمیں لیاجائے۔کسی بھی قسم کے ایڈونچرکے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ملکی استحکام کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے ایک دوسرے کی معاونت سے کام کریں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس