Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

نسل انسانی کی تخلیق کا گرانبار فریضہ عورت کے مقامِ بلند کی دلیل ہے ڈاکٹررخسانہ جبین


لاہور:06 /مارچ ( )اسلام نے عورت کو ماں ،بہن ، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے قابل فخر مقام ومرتبہ دیا ہے اور نسل نو کی تعمیر و تربیت کے سپرد کرکے اس کو کائنات کی معتبر ہستی بنادیا ۔نسل انسانی کی تخلیق کا گرانبار فریضہ عورت کے مقام بلند کی دلیل ہے ۔حضور ﷺ عورت کے لیے جو نظام لے کر آئے اس میں اس کے لیے دائرہ کار کا تعین رحمت ہے ،فطرت نے نسل انسانی کی تخلیق کا گر انبار فریضہ کی ادائیگی کے لیے معاشی تک و دو سے عورت کو آزاد کر کے اسے اپنی تخلیق کی حفاظت کرنے کا مو قع دیا مگر اس کے ساتھ ساتھ عورت کو کام کر نے کی آزادی بھی دی گئی اور مردکو پابند کیا گیا کہ وہ معاش اور کفالت کا ذمہ دار بنے ۔ان خیا لات کا اظہار ویمن اینڈ فیملی کمیشن کی صدر ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے ’’یومِ خواتین ‘‘ کے حوالے سے اپنے بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ خواتین اسلام اللہ کا شکر اداکریں جس نے مسلمانوں میں پیدا کیا اور بحیثیت مسلمان خاتون اپنے مقام سے بھی واقفیت حاصل کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو بھی جانیں ۔آج پاکستانی قوم کو بہترین خواتین خصوصاً ایسی ماؤں کی ضرورت ہے جو اپنی ایسی نسل پروان چڑھا سکیں کہ مسائل میں گھرا ہوا پاکستان صحیح معنوں میں خوشحالی اور امن کا گہوارہ بن جائے ۔عورت ایک طاقت ہے ۔اگروہ اپنی اس ذمہ داری کے منصب سے واقف ہو تو معاشرے میں انقلاب بر پا ہو سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلامی معاشرے میں عورت کو وہ حقوق حاصل نہیں جو نبی مہر بان ﷺ نے متعین کیے تو اس کے لیے قصور وار اسلام کی تعلیمات نہیں یہ قصور ہمارا ہے اور ان حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ہماری ہے ۔ہمیں اعتدال پر مبنی معاشرہ قائم کر نے کے لیے عورت کو محبت کے ساتھ حفاظت اور احترام کا ماحول فراہم کر نا چاہیئے تاکہ نسلِ انسانی کی تعمیر باوقار انداز میں ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ عورت ہر دور میں ابتلاو آزمائش کا شکار رہی ۔اسلام وہ شجرِ رحمت بن کر آیا جس کے سائے میں پہلی مرتبہ عورت ہر آزمائش اور ظلم و ستم سے محفوظ ہو گئی ۔عورت کا اصل دائرہ کار گھر اور خاندان ہے اور اپنے حقوق کی پہچان میں عورت کی اصل بقاء اور کامیابی ہے ۔رشتوں کا احترام اور خاندان کو جوڑ کر رکھنا عورت کا فرض منصبی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان عورت اپنے کلیدی کردار کو پہنچانتے ہوئے نسل نو کی تربیت کے محاذ پر ڈٹی رہی تب تک ہماری تاریخ بھی فروزاں تھی اور ہمارا جغرافیہ بھی پھیل رہا تھا ۔آج ہمارے اندر بگاڑ کے اسباب میں سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ عورت کے کردار میں واضح تبدیلی آگئی ہے مگر موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان عورت کے کردار کی وضاحت میں مسلمان معاشرے اور دانشوروں نے پہلو تہی سے کام لیا ۔اسلام نے صنف نازک کے حقوق و مرتبے کا استحصال کر نے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کیں ہیں ۔اس کے ساتھ ہی حقِ مہر ،وراثت ،ملکیت ،نان نفقہ کے واضح احکامات کے ذریعے عورت کے جائزحقوق کو اس کے لیے وقف کر دیا ۔مگر آج کی عورت مغربی چکا چوند کے پیچھے بھاگنے کی بناء پر اپنے فرائض سے غافل ہوئی تو نتیجے کے طور پر حقوق سے محروم ہوئی ۔اسلام کی تعلیمات عورت کے لیے سراسر سلامتی لے کر آئیں ۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس