Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

حکومت نج کاری سے باز نہ آئی تو جماعت اسلامی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی ۔لیاقت بلوچ


لاہور 5مارچ 2018ء:سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ موجودہ حکومت آخری مرحلے میں قومی اداروں سوئی نادرن گیس ، سوئی سدرن گیس کمپنی ، پی آئی اے ، سٹیل ملز کی نج کاری کرنے کا خوفناک عمل شروع کر رہی ہے ۔ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے اقتدار کے خاتمے کے قریب مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کے مشترکہ فورم کو بائی پاس کرکے اداروں کو اونے پونے داموں منظور نظر لوگوں کو فروخت کرے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے دفتر جماعت اسلامی لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی امیر العظیم ، ضیا ءالدین انصاری ایڈووکیٹ ، محمود الاحد ، ملک محمد الیاس بھی موجو دتھے ۔ 

لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت پی آئی اے ، سٹیل ملز ، قدرتی گیس کی فراہمی کے قومی اداروں کی نج کاری اور من پسند افراد کو نوازنے کا سلسلہ بند کرے ۔ ہم اس سلسلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائیں گے ۔ اگر پھر بھی حکومت باز نہ آئی تو جماعت اسلامی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی ۔ انہوںنے کہاکہ سوئی نادرن ، سوئی سدرن گیس کمپنیوں کا سالانہ پندرہ ارب منافع ہے اب حکومت یہ فیصلہ کرنے جارہی ہے کہ ان کمپنیوں کو مختلف شاخوں میں تقسیم کردیا جائے جس کے لیے منافع بخش حصہ کو پرائیوٹائزکیا جارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے سے گیس کے ستر لاکھ صارفین متاثر اور ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے پھر یہ گیس کمپنیاں فرٹیلائزر ، سیمنٹ اور پاور پلانٹس پر منتقل ہو جائیں گی اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے ۔ انہوںنے کہاکہ این ایل جی اور تاپی گیس لائن کا بڑا اعلان کیا گیا مگر ایران سے گیس معاہدے پر امریکی دباﺅ کی وجہ سے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی سطح کی کمپنی KPNG نے اپنی تمام رپورٹس میں یہ تجزیہ حکومت کو مہیا کیا ہے کہ اگر گیس کمپنیوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا تو اس کی ترسیل کا پورا نظام مفلوج ہو جائے گا ، اس سے اگلے چند برسوں میں اتنا نقصان ہوگاکہ اس کے اثاثہ جات اور سرمایہ ختم ہو جائے گا اور گیس کمپنیاں عملاً دیوالیہ ہو جائیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہوش کے ناخن لے وہ اپنے اقتدار کے آخری مرحلے میں کرپشن کے پھاٹک کھول رہی ہے اور اس کے ساتھ حکومت کرپشن کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ کی غیر آئینی ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی مخالفت کررہی ہے اور اس نے فرد واحد کے مفادات کے تحفظ کے لیے عدلیہ جیسے باوقار ادارے سے محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے اور اس کے احترام کو مجروح کیا جارہاہے جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس