Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اقتدارپرقابض اشرافیہ نے ہمارے معاشرے کو امیر اور غریب میں تقسیم کر رکھاہے۔سراج الحق


لاہور 28فروری2018ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ۔ پاکستان تعلیمی میدان میں اس لیے پیچھے ہے کہ یہاں کسی حکومت نے بھی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی ۔ دو کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ورکشاپوں، ہوٹلوں اور سائیکل کی دکانوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ سڑکیں او ر پل بنا کر ملک کو ترقی دے رہے ہیں ۔ عوام کو تعلیم ، صحت اور روزگار دیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ ملک میں طبقاتی اور استحصالی نظام تعلیم بے روزگار نوجوانوں کی فوج ظفر موج تیار کررہاہے ۔ پڑھا لکھا پنجاب ، خیبر پختونخوا ، سندھ کے بجائے پڑھا لکھا پاکستان کا ماٹو اختیار کیا جائے۔ خواتین کے لیے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ خواتین کے حقوق کا راگ الاپنے والے خواتین کے تعلیمی اداروں کی طرف کیوں دھیان نہیں دیتے ۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر تمام اضلاع میں خواتین کے لیے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں قائم کرے گی اور طبقاتی نظام کی جگہ یکساں نظام اور نصاب تعلیم رائج کیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے منصورہ ماڈل گرلز ہائی سکول کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے ڈائریکٹر عامر جعفری اور سکول کی پرنسپل مس ترنم نوشاد نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر طالبات کی طرف سے مختلف خاکے اور ٹیبلو ز پیش کیے گئے جنہیں حاضرین نے خوب سراہا ۔ تقریب میں بچوں کے والدین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا ہمیشہ بنیادی کردار رہاہے مگر پاکستان پر مسلط اشرافیہ نے ہمارے معاشرے کو امیر اور غریب میں تقسیم کر رکھاہے اور یہ تقسیم مسلسل گہری ہورہی ہے ۔ امیروں کے لیے تعلیمی ادارے اور ہسپتال علیحدہ ہیں جہاں کسی غریب کا بچہ پڑھ سکتاہے نہ امیروں کے ہسپتال میں کسی غریب کا علاج ہوسکتاہے ۔ اشرافیہ کے بچے جن سکولوں میں پڑھتے ہیں ، وہاں گھڑ سوار ی اور تیراکی سکھائی جاتی ہے اور شہزادوں کے لیے دودھ اور پنیر مہیا کیا جاتاہے جبکہ غریب بچوں کے لیے تعلیمی اداروں کی چار دیواری ہوتی ہے نہ بچوں کے لیے واش روم کا انتظام ہوتا ہے ۔ غریب طلبہ و طالبات کے لیے کلاس روم اور ٹیچرز تک دستیاب نہیں ہوتے جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی مہنگی تعلیم عام آدمی کے بس میں نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکمران تعلیم عام کرنے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم اور کتب کی فراہمی کے بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اب تعلیم کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہی بلکہ چہرے اور پارٹیاں بدل بدل کر آنے والوں نے تعلیمی نظام اور معیار کو ہمیشہ نقصان پہنچایا ۔تعلیمی نصاب بھی غیروں کی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے اپنے بچے چونکہ لندن اور امریکہ و فرانس میں پڑھتے ہیں اس لیے تعلیمی اداروں کی بہتری کی طرف کسی کا دھیان نہیں ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اگر عوام نے جماعت اسلامی پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں حکومت کا موقع دیا تو ہم ملک بھر میں ایک ہی نصاب تعلیم رائج کریں گے اور خواتین کے لیے ہر ضلع میں الگ یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں رائج بیسیوں طرح کے نصاب قوم کو تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں جو قومی یکجہتی اور اتحاد کے لیے زہر قاتل ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ دینی مدارس میں تیس لاکھ سے زائد طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔ مدارس کو بھی تعلیمی فنڈز ملنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہاکہ قومی بجٹ کا صرف دو فیصد تعلیم پر خرچ کیا جارہاہے جو شرمناک ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مجموعی بجٹ کا کم از کم بیس فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے تاکہ ہم آئندہ نسلوں کو عالمی معیار کی تعلیم اور تعلیمی ادارے دے سکیں ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس