Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کشمیر آزاد ہوگایا ہم بھی اس راستے میں کام آجائیں گے کشمیریوں کے ساتھ جیئیں اور مریں گے۔سراج الحق


لاہور 5فروری 2018ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے حکومت اپوزیشن کے جماعتوں کے قائدین میاں نوازشریف ، آصف علی زرداری ، عمران خان ،مولانافضل الرحمان سے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر متحد ہونے کی اپیل کردی ،حکومت جو کشمیر پر مستقل پالیسی جاری کرے گی سراج الحق سب سے پہلے اس کی حمایت اورحکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کرے گا ۔کشمیر آزاد ہوگایا ہم بھی اس راستے میں کام آجائیں گے کشمیریوں کے ساتھ جیئیں گے ساتھ مریں گے ،مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے ،پاکستان نیا وزیر خارجہ برائے کشمیر مقرر کرے آر پار کی کشمیری قیادت کو بیرونی دنیا بھجوایا جائے اور ان کی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ، ٹرسٹ ودیگر عالمی فورمز سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے ،پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں ،کشمیر کے پانیوں کی وجہ سے پنجاب کے کھیت لہلہا رہے ہیں اگر یہ پانی رک گیا تو پنجاب ریگستان میں تبدیل ہوجائے گا اور اہلیان پنجاب بھی مہاجرین بنتے نظر آئیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے 5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آبپارہ چوک اسلام آباد میں یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ریلی سے کشمیری رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا بچوں اور خواتین ایک بڑی تعداد بھی ہاتھوں میں بھارتی مظالم کے خلاف پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ریلی میں شریک تھیں ریلی میں مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کشمیربنے گا پاکستان ،ٹرمپ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے اور الجہاد الجہاد کے نعرے لگائے گئے ۔ سینیٹر سراج الحق نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8لاکھ سے زائدبھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کمشیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم کررکھا ہے ۔پاکستان کی شہ رگ پر دشمن کا قبضہ ہے ہم نے اس دشمن کا مقابلہ بھی کرنا اور پاکستان کو بھی ظالموں سے آزاد کرانا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر کے گلی کوچوں میں سبزہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کشمیریوں کوکسی بھارتی ظلم و بربریت کی پرواہ نہیں ہے انہوںنے کہا کہ کشمیر سے آنے والے دریاﺅں کے پانی سے پنجاب کے جو کھیت زرخیز ہوتے ہیں اس پانی میں کشمیریوں کا لہو شامل ہوتا ہے ہم نے کشمیر سے آنے والے ان پانیوں سے ماﺅں بہنوں کی لاشیں دوپٹے چادریں اٹھائی ہیں اور اگر ہم نے جدوجہد آزادی کشمیر سے غداری کی تو حکمرانوں کے گریبان ہوں گے اور کشمیریوں کے ہاتھ ۔انہوںنے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ میں سب سیاستدانوں سے کہتا ہوں آئیں آپس کی لڑائیاں کشمیر کیلئے چھوڑ دیں ہمیشہ اقتدار کیلئے لڑتے رہے اور پاکستان کیلئے خون بہانے والے کشمیریوں کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 12ہزار خواتین کی عصمت دری کے واقعات ہوچکے ہیں ہر دن مائیں بہنیں نوجوانوں کی میتیں اٹھا کر سرینگر میں سینہ کوبی اور بین کرتی ہیں یہ مائیں بہنیں اہلیان پاکستان کی طرف سے دیکھ رہی ہیں ۔ کوہ ہمالیہ تو پگھل سکتا ہے گر سکتا ہے مگر کشمیریوں کا جذبہ آزاد کمزور نہیں پڑ سکتا۔ چالیس دن تک سرینگر میں کرفیو پر کشمیری بھوکے پیاسے تو رہے مگر بھارتی فوج کی طرف سے اپنے گھروں میں بسکٹ اور چاول کے پھینکے گئے ڈبوں کو واپس بھارتی فوج کے منہ پر دے مارا اور اعلان کیا کہ بھوک قبول ہے بھارتی غلامی قبول نہیں ہے ۔ سید علی گیلانی شبیر شاہ ،یاسین ملک ، میر واعظ عمر فاروق ، سید صلاح الدین اور غلام محمد صفی جیسے حریت پسند پاکستانی قوم کے ہیرو ہیں ۔ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم کوئی سمجھوتہ کرنے دے گی نہ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کوئی مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے دوسری طرف مودی کو وزیراعظم دعوت پر بلاتے ہیںتحائف دیئے جاتے ہیں ۔ تجارت اور دوستی کی بات کی جاتی ہے جوکہ اہل کشمیر کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے حکمرانوں کے ایسے رویوں پر شرمندگی ہے بار بار ان رویوں کو مسترد کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات دوستی اور تجارت نہیں ہوسکتی بار بار ایسی دوستی اور تجارت کو مسترد کرتے ہیں ۔۔ پرویز مشرف نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کیا بھارت کے ساتھ ساز باز کی خود پرویز مشرف دور کے وزیر خارجہ نے اس ساز باز کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ سید علی گیلانی کی وجہ سے یہ پلان ناکام ہوا ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان بھی مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کرے ۔ چار سال تک پاکستان کا وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچا ہے ۔ خصوصی نائب وزیر خارجہ برائے کشمیر مقرر کیا جائے کشمیری رہنماﺅں کے بیرونی دوروں کا انتظام کیا جائے ۔ مستقل ریاستی کشمیر پالیسی وضح کی جائے ۔ اقوام متحدہ 33بار حق خود ارادیت کا وعدہ کرچکی ہے مگر کشمیریوں کے استصواب رائے پر گونگی بہری اور آندھی ہے اور مسئلہ کشمیر پر ہمارے وکیل بھی کمزور آندھے گونگے اور بہرے ہیں جب تک قوم سڑکوں پر نہیں آئے گی حکمرانوں کو ترجمانی کی توفیق نہیں ملے گی ۔ نوازشریف خود کو کشمیری پتر کہتا ہے مگر آج تک نوازشریف کے منہ سے کشمیر کا ذکر نہیں سنا ۔ نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ،سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر سردار اعجاز افضل نے بھی خطاب کیا ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس