Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور ملکی سالمیت اور بقاءکی ضمانت ہیں ۔سراج الحق


لاہور28جنوری2018ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن 2018ملک لوٹنے والے چوروں کیلئے احتساب کا دن ثابت ہوگا،چور بڑاہو چھوٹا اسے اڈیالہ جیل کی ہوا کھانی پڑیگی،اب چھوٹے اور بڑے چور کا نعرہ لگاکر عوام پر چہرے بدل کر حکومت کرنے کا وقت گذر چکا ہے،عوام اب باشعور ہوچکے ہیں اور وہ اصل حقائق کو جان چکے ہیں ،زینب ، عاصمہ اور اس طرح کے دیگر سینکڑوں پیش آنے والے واقعات بد اخلاق حکمرانوں کی بد اخلاقی کا تحفہ ہیں ،ان حکمرانوں نے قوم کو مہنگائی،بے روزگاری اور دیگر مسائل سمیت بد اخلاقی کا بھی ایک بڑاتحفہ دیا ہے جسکی وجہ سے ملک و قوم کی عالمی سطح پر بدنامی ہوئی ہے،ہمارے حکمران امریکی آلہ کار ہیں ان کی چاپلوسی میں ملک کی سالمیت کو بھی داﺅ پر لگانے کو تیار ہیں ،جمعیت طلبہ عربیہ کے تحفظ مدارس اور سالمیت پاکستان مہم ملک اور اسلام دشمن قوتوں کیلئے پیغام ہے کہ پاکستانی نوجوان اپنی دھرتی پر مرمٹنے کو تیا ر ہیں،ان خیالات کا اظہارانہوں نے مردان کے علاقہ رستم میں جمعیت طلبہ عربیہ کے زیر اہتمام تحفظ مدارس اور سالمیت پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پچاس سے زائد عمائدین علاقہ نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں اور خاندانوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا بھی اعلان کیا ۔ امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان ،جمعیت طلبہ عربیہ کے منتظم اعلیٰ مولانا عبید الرحمان عباسی و دیگرنے بھی خطاب کیا سینیٹر سراج الحق نے کانفرنس میں الیکشن دوھزار اٹھارہ کیلئے اپنے نمائندوں کوپیش کیا اور عوام کے سامنے ان سے ملکی وفاداری اور عوامی خدمت کا حلف بھی لیا ۔

سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والے عناصر ہم میدان میں ہیں، دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور ملکی سالمیت اور بقاءکی ضمانت ہیں ،پوری دنیا میں ان مدارس کا ایک نظام تعلیم ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے اپنے لاڈلوں کیلئے الگ اور عوام کیلئے الگ نظام تعلیم اور پھر اسمیں بھی طرح طرح کے نصاب ہیں ہم ایسے نظام تعلیم کو رائج کرینگے جس میں امیر و غریب کا بیٹا ایک نظام اور نصاب کے تحت تعلیم حاصل کریں ،انہوں نے کہا کہ دینی مدارس سکولوں اور کالجوں کیلئے یکساں نظام تعلیم بنائیںگے پھر وزیر اعظم کابیٹا اور ایک دیہاڑی دار مزدور کا بیٹاایک ہی بنچ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرینگے، انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے ملک کے آئین اور قانون کو تماشہ بنا رکھا ہے حکمرانوں کو ان قانونی دفعات سے محبت ہے جو انکے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں لیکن وہ قانونی اور آئینی دفعات جو انکے مزج اور مفادات سے ٹکراﺅ لیتے ہوں انہیں بلڈوز کرڈالتے ہیں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جب تک اقتدار افراد اور خاندانوں کے گرد گھومتا رہے گا ملک میں عدل و انصاف کا نظام قائم نہیں ہوسکتا ۔ حکمرانوں نے ہمیشہ خود کو ہر قانون سے بالاتر سمجھا اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے قومی مفادات کا سودا کیا ۔جماعت اسلامی کرپٹ اور بد دیانت سیاسی پنڈتوں سے قوم کو نجات دلانا عین عبادت سمجھتی ہے اور ہم اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے آخری حد تک جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حرام کی دولت کے زور پر سیاست کرنے اور قتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والوں کا راستہ روکنا دین کا تقاضا ہے ۔ سیکولر و لبرل ازم کے پجاری دین کا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں آتے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی نسلی ، مسلکی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر جماعت ہے اور یہی جماعت قوم کو ان تعصبات سے نکال کر ملی وحدت اور باہمی اخوت و محبت کے رشتے میں باندھ سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام کو جتنا نقصان اسلام دشمن قوتوں نے پہنچایا تو اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ دینی طبقات اور اسلامی جماعتوں کے آپس میں اختلافات بھی اسلام کیلئے اتنے ہی نقصان دہ ثابت ہوئے پس اب اس تلخ حقیقت اور تجربے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور وقت آگیا ہے کہ دینی طبقے آپس کے فروعی اختلافات ختم کرکے عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی پشتیبانی کریں ،انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کیلئے ایم ایم اے بھی بحال کردی گئی ہے اور انشاءاللہ اب عوام علمائے کرام اور دیانت دار قیادت کو منتخب کرکے اپنی نمائندگی کیلئے اسمبلیوں میں بھیجیںگے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس